درس حدیث نمبر 0861
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1331
نماز جنازہ میں تیسری تکبیر کے بعد عمومی دعا "اللہم اغفر لحیینا ومیتنا” پڑھے اور میت کے حق میں دعا نہ کرے تو اس کی نماز جنازہ درست ہوگی یا نہیں؟
نماز جنازہ کی تیسری تکبیر کے بعد میت کے لیے خصوصی طور پر دعا کرنا نماز کا رکن ہے، اور یہ دعا میت کے لیے خصوصیت کے ساتھ کم از کم دعا "اللھم اغفر لہ” کہنا ضروری ہے. عمومی دعا "اللہم اغفر لحیینا و میتنا” مکمل پڑھنا کافی نہیں اور میت کے حق میں خصوصی دعا نہ پڑھنے سے نماز جنازہ درست نہیں
امام نووی رحمہ اللہ علیہ لکھتے ہیں: أن الدعاء فرض في صلاة الجنازة وركن من أركانها…. أنه يجب تخصيص الميت بالدعاء، ولا يكفى الدعاء للمؤمنين وللمؤمنات فيقول اللهم اغفر له ، اللهم ارحمه ، ونحو ذلك.
المجموع: ٦/٢٢٩
امام سلیمان بن عمر المصری رحمہ اللہ لکھتے ہیں: قضيته أنه لو اقتصر على قوله اللهم اغفر لحينا الخ لم يكف وهو الموافق لما مر من أنه يجب الدعاء للميت بخصوصه
حاشیۃ الجمل: ٣/١٨٢
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
سورۃ الانفال آیت نمبر 34 – 35
مولانا عبد العلیم خطیب صاحب ندوی
سورۃ الانفال آیت نمبر 32 – 33
مولانا عبد العلیم خطیب صاحب ندوی
سورۃ الانفال آیت نمبر 31 – 32
مولانا عبد العلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
سورۃ الانفال آیت نمبر 30
مولانا عبد العلیم خطیب صاحب ندوی
سورۃ الانفال آیت نمبر 29 – 30
مولانا عبد العلیم خطیب صاحب ندوی
سورۃ الانفال آیت نمبر 27 – 28
مولانا عبد العلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا عبد الاحد فکردے صاحب ندوی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی