فقہ شافعی سوال نمبر / 1336 میّت کے کفن کو منتشر ہونے سے بچانے کے لیے رسیوں سے باندھنے اور گرہ لگانے کا کیا حکم ہے؟ میّت کے کفن کو منتشر ہونے سے بچانے کے لیے رسیوں سے باندھنا اور ان میں گرہ لگانا جائز ہے۔ لیکن میّت کو قبر میں ڈالنے کے بعد کفن کی تمام گرہیں کھولنا چاہیے۔ چونکہ قبر میں میّت کے ساتھ کوئی بندھی ہوئی چیز باقی رکھنا مکروہ ہے۔ امام ابراہیم نخعیؒ لکھتے ہیں: إِذَا أُدْخِلَ الْمَيِّتُ الْقَبْرَ حُلَّتْ عَنْهُ الْعُقَدُ كُلُّهَا. (مصنف: ۷/۳۲۶) امام شافعی رحمہ اللہ لکھتے ہیں: إِنْ خَافُوا انْتِشَارَ الثِّيَابِ مِنَ الطَّرَفَيْنِ عَقَدُوهَا كَيْ لَا تَنْتَشِرَ، فَإِنْ أَدْخَلُوهُ الْقَبْرَ لَمْ يَدَعُوا عَلَيْهِ عُقْدَةً إِلَّا حَلُّوهَا، وَلَا خِيَاطَةَ. (الام للشافعی :۱/۳۲۱) امام عمرانی رحمة الله عليه لکھتے ہیں: إِنْ خَافُوا أَنْ تَنْتَشِرَ الْأَكْفَانُ عَقَدُوهَا عَلَيْهِ، فَإِذَا أَدْخَلُوهُ الْقَبْرَ حَلُّوهَا؛ لِأَنَّهُ يُكْرَهُ أَنْ يَكُونَ مَعَهُ فِي الْقَبْرِ شَيْءٌ مَعْقُودٌ، وَلِهَذَا اسْتُحِبَّ أَلَّا يَكُونَ مَعَهُ شَيْءٌ مَخِيطٌ، وَلِأَنَّ الِانْتِشَارَ قَدْ أُمِنَ مِنْهُ. (البیان: ۳/۴۶)
فقہ شافعی سوال نمبر / 1335 اگر کسی ایسے شخص کا انتقال ہوجائے جس کے پاس یا اسکے ورثہ کے پاس تجہیز و تکفین کی سہولت نہ ہو تو کیا زکوۃ کی رقم سے اس کی تجہیز و تکفین کا انتظام کر سکتے ہیں؟ اگر میت کے پاس یا اس کے ورثہ کے پاس تجہیز و تکفین کے لیے رقم موجود نہ ہو تو زکوٰۃ کی رقم سے اس کی تجہیز و تکفین کا انتظام کرنا جائز نہیں ہے۔ اس صورت میں مسلمانوں کے سماجی و فلاحی ادارے یا کسی مالدار مسلمان کے مال سے اس کی تجہیز وتکفین کا انتظام کرنا ضروری ہے اتَّفق الفُقهاءُ على أنَّه لا يَجوزُ تَكفينُ الميِّتِ من مالِ الزَّكاةِ. (موسوعة الفقه على مذاهب الأربعة: ٩٩/٤) امام رملی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:وَلَوْ لَمْ يَكُنْ لِلْمَيِّتِ مَالٌ وَلَا مَنْ تَلْزَمُهُ نَفَقَتُهُ فَمُؤْنَةُ تَجْهِيزِهِ فِي بَيْتِ الْمَالِ كَنَفَقَتِهِ حَالَ حَيَاتِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فَعَلَى أَغْنِيَاءِ الْمُسْلِمِينَ. المجموع: ١٧٩/٦ مغني المحتاج: ٢٨٠/٢