فقہ شافعی سوال نمبر – 1323
فقہ شافعی سوال نمبر / 1232
اگر کوئی موذی مرض میں مبتلاء ہو جس کی وجہ سے مسلسل بے اختیار پیشاب جاری رہتا ہو اور وہ شخص طہارت کی حالت میں نہیں رہ سکتا ہو تو ایسے شخص کا قرآنِ مجید پڑھنے اور چھونے کا کیا مسئلہ ہے؟
ایسا بیمار شخص قرآنِ مجید پڑھ بھی سکتا ہے اور اسے ہاتھ میں لے بھی سکتا ہے۔ البتہ جب بھی قرآن ہاتھ میں لے گا اس سے پہلے وضو کرنا ضروری ہے، اگر وضو کے بعد بے اختیار پیشاب جاری ہوجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ کیونکہ وہ شرعی عذر میں داخل ہے۔
الإمام النووي فرماتے ہیں:ولها- أي لمستحاضة- قراءة لقرآن، وإذا توضأت استباحت مسَّ المصحف وحمله.
(المجموع: ٥٤٢/٢)
قال الامام العمراني: ومن به سلس البول والمذي.. حكمه حكم المستحاضة في الشد، والوضوء لكل صلاة؛ لأن ذلك من نواقض الوضوء، فهو كالاستحاضة.
(البيان:٤١٦/١)
ما دامت والدة السائل لا تستطيع أن تحافظ على وضوئها بسبب بعض الأمراض، وكانت غير حافظة للقرآن؛ فإنه يجوز لها تحت حكم الاضطرار- أن تقرأ من المصحف، ولكن بعد أن تتوضأ لمس المصحف، ولا يضرها نقض الوضوء بعد ذلك.
(دار الإفتاء المصرية فتاوى رقم:٤٨٨٧)