فقہ شافعی سوال نمبر – 1326
فقہ شافعی سوال نمبر / 1326
حج تمتع کرنے والے پر دم واجب ہوتا ہے اگر کوئی عمرہ سے فارغ ہوتے ہی حج سے پہلے دم ادا کرے تو ان حاجیوں کا دم درست ہے یا حج مکمل ہونے کے بعد دوبارہ دم دینا ضروری ہے؟
افضل اور بہتر یہی ہے کہ دس ذی الحجہ کو دم تمتع کا جانور ذبح کرے لیکن اگر کوئی عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد حج کے احرام سے پہلے ہی جانور ذبح کرکے دم ادا کرے تو اس کی گنجائش ہے۔ لہذا جن لوگوں نے عمرہ سے فارغ ہونے کے بعد دم دیا ہے ان کا یہ اس طرح کر نا بھی درست ہے
۔ وهل يجوز بعد التحلل من العمره وقبل الاحرام بالحج قولان اظهرهما الجواز ( روضه الطالبين 323/1) (ﻭﻭﻗﺖ ﻭﺟﻮﺏ اﻟﺪﻡ) ﻋﻠﻴﻪ (ﺇﺣﺮاﻣﻪ ﺑﺎﻟﺤﺞ) ﻷﻧﻪ ﺣﻴﻨﺌﺬ ﻳﺼﻴﺮ ﻣﺘﻤﺘﻌﺎ ﺑﺎﻟﻌﻤﺮﺓ ﺇﻟﻰ اﻟﺤﺞ. ﻭﻗﺪ ﻳﻔﻬﻢ ﺃﻧﻪ ﻻ ﻳﺠﻮﺯ ﺗﻘﺪﻳﻤﻪ ﻋﻠﻴﻪ. ﻭﻟﻴﺲ ﻣﺮاﺩا ﺑﻞ اﻷﺻﺢ ﺟﻮاﺯ ﺫﺑﺤﻪ ﺇﺫا ﻓﺮﻍ ﻣﻦ اﻟﻌﻤﺮﺓ. ﻭﻗﻴﻞ: ﻳﺠﻮﺯ ﺇﺫا ﺃﺣﺮﻡ ﺑﻬﺎ ﻭﻻ ﻳﺘﺄﻗﺖ ﺫﺑﺤﻪ ﺑﻮﻗﺖ ﻛﺴﺎﺋﺮ ﺩﻣﺎء اﻟﺠﺒﺮاﻧﺎﺕ (ﻭ) ﻟﻜﻦ (اﻷﻓﻀﻞ ﺫﺑﺤﻪ ﻳﻮﻡ اﻟﻨﺤﺮ) ﻟﻻﺗﺒﺎﻉ ﻭﺧﺮﻭﺟﺎ ﻣﻦ ﺧﻼﻑ اﻷﺋﻤﺔ اﻟﺜﻼﺛﺔ ﻓﺈﻧﻬﻢ ﻗﺎﻟﻮا ﻻ ﻳﺠﻮﺯ ﻓﻲ ﻏﻴﺮﻩ… ﻛﺎﻟﻤﺘﻤﺘﻊ ﺇﺫا ﻓﺮﻍ ﻣﻦ ﻋﻤﺮﺗﻪ ﻓﺈﻧﻪ ﻳﺠﻮﺯ ﻟﻪ ﺃﻥ ﻳﺬﺑﺢ ﻗﺒﻞ اﻹﺣﺮاﻡ ﺑﺎﻟﺤﺞ، ﻭﻫﺬا ﻫﻮ اﻟﻤﻌﺘﻤﺪ (مغني المحتاج:2/313) والأفضل أن يذبح دم التمتع والقران يوم النحر، فإن ذبح المتمتع بعد الفراغ من العمرة، والقارن بعد الإحرام بالحج؛ جاز على ظاهر المذهب (التنبيه: 70)