فقہ شافعی سوال نمبر – 1335
فقہ شافعی سوال نمبر / 1335
اگر کسی ایسے شخص کا انتقال ہوجائے جس کے پاس یا اسکے ورثہ کے پاس تجہیز و تکفین کی سہولت نہ ہو تو کیا زکوۃ کی رقم سے اس کی تجہیز و تکفین کا انتظام کر سکتے ہیں؟
اگر میت کے پاس یا اس کے ورثہ کے پاس تجہیز و تکفین کے لیے رقم موجود نہ ہو تو زکوٰۃ کی رقم سے اس کی تجہیز و تکفین کا انتظام کرنا جائز نہیں ہے۔ اس صورت میں مسلمانوں کے سماجی و فلاحی ادارے یا کسی مالدار مسلمان کے مال سے اس کی تجہیز وتکفین کا انتظام کرنا ضروری ہے
اتَّفق الفُقهاءُ على أنَّه لا يَجوزُ تَكفينُ الميِّتِ من مالِ الزَّكاةِ.
(موسوعة الفقه على مذاهب الأربعة: ٩٩/٤)
امام رملی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:وَلَوْ لَمْ يَكُنْ لِلْمَيِّتِ مَالٌ وَلَا مَنْ تَلْزَمُهُ نَفَقَتُهُ فَمُؤْنَةُ تَجْهِيزِهِ فِي بَيْتِ الْمَالِ كَنَفَقَتِهِ حَالَ حَيَاتِهِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فَعَلَى أَغْنِيَاءِ الْمُسْلِمِينَ.
المجموع: ١٧٩/٦
مغني المحتاج: ٢٨٠/٢