تقویٰ اور اس کی حقیقت – 12-05-2023
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر / 1154
ایک مرتبہ عمرہ سے فراغت کے بعد اگر کوئی شخص حدود حرم سے باہر کسی کام یا تفریح یا تاریخی مقامات کی زیارت کے لیے جائے تو کیا انہیں واپسی میں عمرہ کا احرام باندھ کر عمرہ کرنا ضروری ہے؟ چونکہ ان دنوں سعودی حکومت کی طرف سے ایک عمرہ کرنے کے بعد دوسرا عمرہ کرنے کی اجازت نہیں ہے؟
جو لوگ حدود حرم میں عمر ہ یا حج کے نیت سے داخل ہوتے ہیں ان کے لیے میقات سے احرام باندھ کر حدود حرم میں داخل ہونا ضروری ہے۔ اگر کوئی ایک مرتبہ مکمل عمرہ کرنے کے بعد کسی وجہ سے حدود حرم سے باہر نکلیں اور واپس حدود حرم میں داخل ہوتے وقت دوبارہ عمرہ کا ارادہ نہ ہو تو احرام باندھنا ضروری نہیں ہے البتہ مستحب یہ ہے کہ دوبارہ حدود حرم میں داخل ہوتے وقت احرام کے ساتھ داخل ہوں۔ چونکہ اس وقت سعودی حکومت کی طرف سے دوبارہ عمرہ کی اجازت نہیں ہے تو بغیر احرام کے ہی چلے جائیں اور دیگر عبادات میں مصروف رہیں۔
(ﻭﻣﻦ ﻗﺼﺪ ﻣﻜﺔ) ﺃﻭ اﻟﺤﺮﻡ ﻭﻟﻮ ﻣﻜﻴﺎ ﺃﻭ ﻋﺒﺪا ﺃﻭ ﺃﻧﺜﻰ ﻟﻢ ﻳﺄﺫﻥ ﻟﻬﻤﺎ ﺳﻴﺪ ﺃﻭ ﺯﻭﺝ ﻓﻲ ﺩﺧﻮﻝ اﻟﺤﺮﻡ، ﺇﺫ اﻟﺤﺮﻣﺔ ﻣﻦ ﺟﻬﺔ ﻻ ﺗﻨﺎﻓﻲ اﻟﻨﺪﺏ ﻣﻦ ﺟﻬﺔ ﺃﺧﺮﻯ (ﻻ ﻟﻨﺴﻚ) ﺑﻞ ﻟﻨﺤﻮ ﺯﻳﺎﺭﺓ ﺃﻭ ﺗﺠﺎﺭﺓ (اﺳﺘﺤﺐ ﻟﻪ ﺃﻥ ﻳﺤﺮﻡ ﺑﺤﺞ) ﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻓﻲ ﺃﺷﻬﺮﻩ ﻭﻳﻤﻜﻨﻪ ﺇﺩﺭاﻛﻪ (ﺃﻭ ﻋﻤﺮﺓ) ﻭﺇﻥ ﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﻓﻲ ﺃﺷﻬﺮﻩ ﻛﺘﺤﻴﺔ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﻟﺪاﺧﻠﻪ ﻭﻳﻜﺮﻩ ﺗﺮﻛﻪ ﻟﻠﺨﻼﻑ ﻓﻲ ﻭﺟﻮﺑﻪ (نهاية المحتاج مع حاشيته: ٣/ ٢٧٧)
(ﻭﻣﻦ ﻗﺼﺪ اﻟﺤﺮﻡ) ﻫﻮ ﺃﻋﻢ ﻣﻦ ﻗﻮﻟﻪ ﻣﻜﺔ (ﻻ ﻟﻨﺴﻚ) ﺑﻞ ﻟﻨﺤﻮ ﺯﻳﺎﺭﺓ ﺃﻭ ﺗﺠﺎﺭﺓ (ﺳﻦ) ﻟﻪ (ﺇﺣﺮاﻡ ﺑﻪ) ﺃﻱ ﺑﻨﺴﻚ ﻛﺘﺤﻴﺔ اﻟﻤﺴﺠﺪ ﻟﺪاﺧﻠﻪ ﺳﻮاء ﺃﺗﻜﺮﺭ ﺩﺧﻮﻟﻪ ﻛﺤﻄﺎﺏ ﺃﻡ ﻻ ﻛﺮﺳﻮﻝ ﻗﺎﻝ ﻓﻲ اﻟﻤﺠﻤﻮﻉ ﻭﻳﻜﺮﻩ ﺗﺮﻛﻪ. (شرح المنهج مع حاشية الجمل: ٢/ ٤٢٦)
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر / 1163
احرام میں گم سے چپکے کپڑے پہننا کیسا ہے؟
محرمات احرام میں سے ایک سلے ہوئے کپڑے پہننا بھی ہے، گم سے چپکے ہوئے کپڑے کا بھی یہی حکم ہے۔ لہذا معلوم ہوا کہ احرام کی حالت میں گوند سے چپکائے ہوئے کپڑے پہننا جائز نہیں ہے، اگر ایسے کپڑے پہن لیا تو فدیہ لازم ہوگا۔
(و) يَحْرُمُ (سُتْرَةُ البَدَنْ) أوْ عُضْوًا مِنهُ (بِما يُحِيطُ) بِهِ … كَدِرْعٍ (أوْ لَصْقِهِ) بِأنْ لَصِقَ بَعْضَهُ بِبَعْضٍ (مِن جِلْدِ وغَيْرِهِ) كَقُطْنٍ وكَتّانٍ. (الغرر البهية: ٢ / ٣٣٩)
(ويحرم على المحرم) بِحَجّ أو عمْرَة أو بهما أُمُور كَثِيرَة المَذْكُورَة مِنها هُنا (عشرَة أشْياء) الأول (لبس المخيط) وما فِي مَعْناهُ كالمنسوج على هَيئته والملزوق واللبد سَواء كانَ من قطن أم من جلد ومن غير ذَلِك فِي جَمِيع بدنه. (الإقناع: ١/٢٥٩)
(ويَحْرُمُ) أنْ يَلْبَسَ فِيهِ (ما يُحِيطُ بِالبَدَنِ وكَذا بِالعُضْوِ ونَحْوِهِ كَخَرِيطَةِ لِحْيَةٍ)،… سَواءٌ أكانَ المُحِيطُ(بِخِياطَةٍ كالقَمِيصِ أوْ الخُفِّ) والقُفّازِ (أوْ نَسْجٍ كالدِّرْعِ أوْ عِقْدٍ كَجُبَّةِ اللَّبَدِ أوْ اللَّزُوقِ)… وعَلَيْهِ جَرى فِي البَهْجَةِ وعَبَّرَ بِاللَّصْقِ بِالصّادِ هَذا وقَدْ يَتَوَقَّفُ فِي كَوْنِ اللَّبَدِ مَعْقُودًا، ومِن ثَمَّ قالَ الإسْنَوِيُّ فِي قَوْلِ المِنهاجِ أوْ المَعْقُودُ يَعْنِي المَلْزُوقُ بَعْضُهُ بِبَعْضٍ كالثَّوْبِ مِن اللَّبَدِ انْتَهى (وتَجِبُ الفِدْيَةُ إنْ لَبِسَهُ) أيْ ما يُحِيطُ بِما ذُكِرَ. (أسنى المطالب في شرح روض الطالب ١/٥٠٥)
فضيلة الشيخ أحمد بن طالب بن حميد
فضيلة الشيخ أسامة بن عبدالله الخياط