صوم رمضان والتقوى – 01-05-2020
فضيلة الشيخ أسامة بن عبدالله الخياط
فضيلة الشيخ أسامة بن عبدالله الخياط
فضيلة الشيخ عبدالله بن عبدالرحمن البعيجان
فضيلة الشيخ ماهر بن حمد المعيقلي
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير
فضيلة الشيخ عبد الرحمن بن عبد العزيز السديس
فضيلة الشيخ ٱحمد بن علي الحذيفي
فضيلة الشيخ ياسر بن راشد الدوسري
*فقہ شافعی سوال نمبر / 0849*
*روزے کی حالت میں سخت دانت کا درد ہو تو ایس حالت میں کیا دانت میں کوئی دوائی رکھ سکتے ہیں؟*
*دانت درد کے لیے جو دوائیں استعمال ہوتی ہے عام طور پر وہ دوائیں ذائقہ دار ہوتی ہے اور روزے دار کے لیے بلا ضرورت شدیدہ کے ذائقہ دار چیزوں کا استعمال کرنا مکروہ ہے۔ ہاں اگر بہت زیادہ درد کے سبب دانت پر دوائی رکھ کر علاج ممکن ہو تو اس بات کا احتیاط کرتے ہوئے استعمال کرسکتے ہیں کہ دواء کا ذائقہ حلق میں نہ جائے اگر دوا لگانے کے بعد اس کا اثر پیٹ میں چلا جائے تو روزہ ٹوٹ جائے گا۔لہذا محض دوا کے استعمال کرنے سے روزہ فاسد نہیں ہوگا البتہ دواء لعاب کے ساتھ مل کر حلق کے نیچے اتر جائے تب بھی روزہ فاسد ہوجائے گا۔*
*أَوْ ابْتَلَعَ رِيقَهُ مَخْلُوطًا بِغَيْرِهِ) الطَّاهِرِ كَصِبْغِ خَيْطٍ فَتَلَهُ بِفَمِهِ (أَوْ) ابْتَلَعَهُ (مُتَنَجِّسًا)بِدَمٍ أَوْ غَيْرِهِ وَإِنْ صَفَا (أَفْطَرَ)۔* (تحفة المحتاج في شرح المنهاج.٤٠٥٤٠٦/٣) *وشرط الواصل كونه من منفذ مفتوح فلا يضر وصول الدهن بتشرب المسام*. (منهاج الطالبين.٧٥) *امام نووی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ﻳﻜره ﻣﻀﻎ اﻟﺨﺒﺰ ﻭﻏﻴﺮﻩ ﻣﻦ ﻏﻴﺮ ﻋﺬﺭ ﻭﻛﺬا ﺫﻭﻕ اﻟﻤﺮﻕ ﻭاﻟﺨﻞ ﻭﻏﻴﺮﻫﻤﺎ ﻓﺈﻥ ﻣﻀﻎ ﺃﻭ ﺫاﻕ ﻭﻟﻢ ﻳﻨﺰﻝ ﺇﻟﻰ ﺟﻮﻓﻪ ﺷﺊ ﻣﻨﻪ ﻟﻢ ﻳﻔﻄﺮ.* (ألمجموع: ٣٥٤/٦) *علامہ سلیمان جمل رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ﻭﻛﺬا اﻟﺬﻭﻕ ﻣﻜﺮﻭﻩ ﺃﻳﻀﺎ اﻩـ ﺭﺷﻴﺪﻱ ﻭﻫﺬا ﺇﺫا ﻛﺎﻥ ﻟﻐﻴﺮ ﺣﺎﺟﺔ ﺃﻣﺎ ﻟﻬﺎ ﻓﻼ ﻳﻜﺮﻩ ﻛﺄﻥ ﻳﺬﻭﻕ اﻟﻄﻌﺎﻡ ﻣﺘﻌﺎﻃﻴﻪ ﻟﻐﺮﺽ ﺇﺻﻼﺣﻪ ﻓﻼ ﻳﻜﺮﻩ*
ش (حاشیة الجمل: ٣٢٩/٢)
فضيلة الشيخ عبدالله بن عبدالرحمن البعيجان
فضيلة الشيخ ماهر بن حمد المعيقلي
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير
فضيلة الشيخ عبد الرحمن بن عبد العزيز السديس
فقہ شافعی سوال نمبر / 0848
*حیض و نفاس کے علاوہ بیماری کا جو خون نکلتا ہے ایسے وقت میں عورت کو نماز ، روزہ، قرآن کی تلاوت اور تراویح کا کیا حکم ہے؟ *
بسا اوقات عورتوں کوں حیض و نفاس کے علاوہ استحاضہ یعنی بیماری کا خون نکلتا ہے ایسے وقت میں عورت پر نماز پڑھنا روزہ رکھنا واجب ہے-البتہ ہر نماز کے موقع پر اسے چاہیے کہ وہ اس جگہ کو اچھی طرح دھوئے اور اس جگہ پر کپڑا یا پیڈ باندھ دے اور عین فرض نماز کے وقت میں وضو کرکے جلدی سے نماز پڑھے۔ لیکن نفل اور سنت نمازیں اور تراویح ایک ہی وضو سے مکمل پڑھ سکتی ہے اسی طرح اسے قرآن کو ہاتھ لگائے بغیر صرف تلاوت کی اجازت ہے۔ ایسی حالت میں قرآن کو ہاتھ لگانے کے لیے وضو کا ہونا ضروری ہے۔
والاستحاضة حدث دائم كسلس، فلا تمنع الصوم والصلاة. (مغني المحتاج: ٢٨٢/١) فتغسل المستحاضة فرجها وتعصبه، وتتوضأ وقت الصلاة، وتبادر بها فلو أخرت لمصلحة الصلاة كستر وانتظار جماعة لم يضر، وإلا فيضر على الصحيح. ويجب الوضوء لكل فرض، وكذا تجديد العصابة في الأصح (مغني المحتاج: ٢٨٢/١-٢٨٣) ﻭﻳﺠﻮﺯ ﻟﻠﻤﺤﺪﺙ ﺃﻥ ﻳﻘﺮﺃ، ﻷﻥ اﻟﻨﺒﻲ – ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ – ﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﻳﺤﺠﺒﻪ ﻋﻦ ﻗﺮاءﺓ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﺇﻻ ﺃﻥ ﻳﻜﻮﻥ ﺟﻨﺒﺎ ﻓﺪﻝ ﻋﻠﻰ ﺃﻥ اﻟﺤﺪﺙ ﻟﻢ ﻳﻤﻨﻌﻪ ﻭﻛﺬﻟﻚ اﻝﻣﺴﺘﺤﺎﺿﺔ ﻳﺠﻮﺯ ﺃﻥ ﺗﻘﺮﺃ ﻷﻧﻬﺎ ﻛﺎﻟﻤﺤﺪﺙ. الحاوي الكبير:١/ ١٤٩ الأحكام العامة للمستحاضة: تختلف المُستحاضة عن الحائض والنُفساء، فالمستحاضةُ يجب عليها ان تصلي، وصلاتها صحيحة ولا قضاءَ عليها وإذا حلَّ رمضانُ يجب عليها الصوم. التقریرات السدیدۃ:1/76
فضيلة الشيخ ٱحمد بن علي الحذيفي
فضيلة الشيخ ياسر بن راشد الدوسري