جمعرات _31 _اکتوبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0804
اگر کوئی شخص مسلسل (آٹھ سے بیس دن) سمندری سفر پر رہتا ہو تو اس کے لیے جمعہ کی نماز کا کیا حکم ہے اور ایسا شخص کشتی پر نمازوں کو کب تک جمع و قصر کر سکتا ہے؟
مسافر پر جمعہ فرض نہیں خواہ سفر سمندری ہو یا فضائی یا زمینی اور اس کی مدت کوئی متعین نہیں چونکہ حالت سفر میں جمعہ کی نماز فرض نہیں ہے ایسا شخص جب تک سفر پر رہیگا تب تک جمعہ کی نماز کی جگہ ظہر کی نماز ادا کرے گا اور سفر ختم ہونے تک تمام نمازوں کو جمع اور قصر دونوں کرسکتا ہے
وان كان سفره ثلاثة ايام فصاعدا٬ ولم يكن مدمن سفر البحر وغيره ولا يترك القصر رغبة عنه. يجوز الجمع بين الظهر و العصر و بين المغرب والعشاء في السفر الذي تقصر فيها الصلاة. (المجموع: ٥/ ٣٢٢-٣٥٢) ﻗﺪ ﺫﻛﺮﻧﺎ ﺃﻥ ﻣﺴﺎﻓﺔ اﻟﻘﺼﺮ: ﺳﺘﺔ ﻋﺸﺮ ﻓﺮﺳﺨﺎ، ﻭﻫﻮ ﻣﺴﻴﺮ ﻳﻮﻣﻴﻦ، ﻗﺎﻝ اﻟﺸﺎﻓﻌﻲ: (ﻭﺃﺣﺐ ﺃﻻ ﻳﻘﺼﺮ ﻓﻲ ﺃﻗﻞ ﻣﻦ ﻣﺴﻴﺮﺓ ﺛﻼﺛﺔ ﺃﻳﺎﻡ) ﻟﻴﺨﺮﺝ ﺑﺬﻟﻚ ﻣﻦ اﻟﺨﻼﻑ. (البيان:٤٥١/٢) (سورة النساء /١٠١)
بدھ _30 _اکتوبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
بدھ _30 _اکتوبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0803
اگر کوئی امام جہری نماز کی تیسری رکعت میں بلند آواز سے سورہ فاتحہ پڑھے اور مکمل ہونے سے پہلے رک جائے تو اس صورت میں نماز ہوجائے گی یا دوبارہ نماز ادا کرنی ہوگی؟
امام مغرب یا عشاء کی جہری نماز میں تیسری یا چوتھی رکعت میں آواز سے سورہ فاتحہ پڑھے پھر بیچ میں رک جائے اور بقیہ سورہ فاتحہ آہستہ آواز سے مکمل کرے تو اس صورت میں امام اور مقتدیوں کی نماز پر کچھ اثر نہیں ہوگا نماز ہوجائے گی البتہ امام صاحب نماز میں مکروہ تنزیہی کا مرتکب ہوگا۔
لو جهر في موضع الاسرار او عكس لم تبطل صلاته ولا سجود السهو فيه ولكنه ارتكب مكروهاً هذا مذهبنا۔ (المجموع:٣٤٥/٣)
منگل _29 _اکتوبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر /0802
اگر کوئی عورت اذان کے بعد ناپاک ہوجائے تو کیا اس نماز کی قضا لازم آئے گی؟
نماز کا وقت ہونے کے بعد خواہ اذان ہو یا نہ ہو اذان کا وقت گذر جانے کے بعد حائضہ ہوجائے تو اس عورت پر اس وقت کی نماز قضاء کرنا ضروری ہے۔
(وَلَوْ) طَرَأَ مَانِعٌ كَأَنْ (حَاضَتْ) أَوْ نُفِسَتْ (أَوْ جُنَّ) ، أَوْ أُغْمِيَ عَلَيْهِ (أَوَّلَ الْوَقْتِ) وَاسْتَغْرَقَهُ (وَجَبَتْ تِلْكَ) الصَّلَاةُ (إنْ) كَانَ قَدْ (أَدْرَكَ) مِنْ الْوَقْتِ قَبْلَ طُرُوُّ مَانِعِهِ فَالْأَوَّلُ فِي كَلَامِهِ نِسْبِيٌّ بِدَلِيلِ مَا عَقَّبَهُ بِهِ فَلَا اعْتِرَاضَ عَلَيْهِ (قَدْرَ الْفَرْضِ) الَّذِي يَلْزَمُهُ بِأَخَفِّ مُمْكِنٍ مَعَ إدْرَاكِ زَمَنِ طُهْرٍ يَمْتَنِعُ تَقْدِيمُهُ كَتَيَمُّمٍ وَطُهْرِ سَلَسٍ (تحفة المحتاج :١/٤٨٧)
پیر _28 _اکتوبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
پیر _28 _اکتوبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0801
ايک احرام سے کتنے عمرہ کر سکتے ہیں؟
ایک مرتبہ احرام باندھنے سے ایک ہی عمرہ کرسکتے ہیں یہاں تک کہ اگر کوئی شخص احرام پہننے سے پہلے ایک ساتھ دو عمرہ کرنے کی نیت اور عمرہ کے مکمل اعمال دو مرتبہ ادا کرے تب بھی ایک ہی عمرہ منعقد ہوگا۔
ﻭﻟﻮ ﺃﺣﺮﻡ ﺑﺤﺠﺘﻴﻦ ﺃﻭ ﻋﻤﺮﺗﻴﻦ اﻧﻌﻘﺪﺕ ﺇﺣﺪاﻫﻤﺎ ﻭﻻ ﺗﻨﻌﻘﺪ اﻷﺧﺮﻯ ﻭﻻ ﺗﺜﺒﺖ ﻓﻲ ﺫﻣﺘﻪ ﻋﻨﺪﻧﺎ ﻷﻧﻪ ﻻ ﻳﻤﻜﻨﻪ اﻟﻤﻀﻲ ﻓﻴﻬﻤﺎ ﻓﻠﻢ ﻳﺼﺢ اﻟﺪﺧﻮﻝ ﻓﻴﻬﻤﺎ. ﻭﻟﻮ ﺃﺣﺮﻡ ﺑﺤﺠﺔ ﺛﻢ ﺃﺩﺧﻞ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﺣﺠﺔ ﺃﺧﺮﻯ ﺃﻭ ﺑﻌﻤﺮﺓ ﺛﻢ ﺃﺩﺧﻞ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﻋﻤﺮﺓ ﺃﺧﺮﻯ ﻓﺎﻟﺜﺎﻧﻴﺔ ﻟﻐﻮ۔ ﻭاﻥ ﺃﺣﺮﻡ ﺑﺤﺠﺘﻴﻦ ﺃﻭ ﻋﻤﺮﺗﻴﻦ ﻟﻢ ﻳﻨﻌﻘﺪ اﻻﺣﺮاﻡ ﺑﻬﻤﺎ ﻻﻧﻪ ﻻ ﻳﻤﻜﻦ اﻟﻤﻀﻲ ﻓﻴﻬﻤﺎ ﻭﺗﻨﻌﻘﺪ اﺣﺪاﻫﻤﺎ ﻻﻧﻪ ﻳﻤﻜﻨﻪ اﻟﻤﻀﻰ ﻓﻲ اﺣﺪاﻫﻤﺎ. (المجموع: ١٠٩/٢٠٧/٧)
پیر _28 _اکتوبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0800
حیض کا خون صبح بند ہوجانے کے بعد شام تک انتظار کرنا کیسا ہے اور انتظار کی صورت میں ان نمازوں کی قضا ضروری ہے؟
حائضہ عورت کو چاہیے کہ جب خون عادت کے موافق بند ہوجائے اور نماز کا وقت قریب ہو تو نماز قضا ہونے سے پہلے فورا غسل کرکے نماز پڑھے، صبح سے شام تک مزید خون نکلنے کا انتظار نہ کرے اگر بلا وجہ انتظار کرے تو گنہگار ہوگی، اور خون بند ہونے کے بعد غسل سے پہلے انتظار کی وجہ سے جو نمازیں نہ پڑھی ہو ان نمازوں کی قضا بھی لازم ہوگی۔ یہاں تک کہ کسی نماز کا وقت ختم ہونے سے پہلے حیض بند ہوکر صرف اتنا وقت ملے جس میں تکبیر تحریمہ کہہ کر نماز شروع کی جاسکتی تھی تب بھی اس نماز کی قضا کرنا ضروری ہے۔
عن أنس بن مالک رضي اللّٰہ عنہ قال: إذا طهرت في وقت صلاۃ صلت تلك الصلاۃ، ولا تصلي غیرها۔ (سنن الدارمي،کتاب الطہارۃ / ۱؍٦٤٦: ۹۲۹) عن عبد الرحمن بن غنم أخبرہ قال: سألت معاذ بن جبل رضي اللّٰہ عنہ عن الحائض تطہر قبل غروب الشمس بقلیل؟ قال: تصلي العصر، قلت: قبل ذہاب الشفق؟ قال: تصلي الصبح، ہٰکذا کان رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یأمرنا أن نعلم نساؤنا۔ سنن الدار قطني:کتاب الحیض / ۱؍۲۳۰:۸۵۷ وَ) حُكْمُهُ أَنَّهُ (لَوْ زَالَتْ هَذِهِ الْأَسْبَابُ) الْكُفْرُ الْأَصْلِيُّ، وَالصِّبَا وَنَحْوُ الْحَيْضِ، وَالْجُنُونِ (وَ) قَدْ (بَقِيَ مِنْ) آخِرِ (الْوَقْتِ تَكْبِيرَةٌ) أَيْ قَدْرُهَا (وَجَبَتْ الصَّلَاةُ) أَيْ صَلَاةُ الْوَقْتِ إنْ بَقِيَ سَلِيمًا زَمَنٌ يَسَعُ أَخَفَّ مُمْكِنٍ مِنْهَا كَرَكْعَتَيْنِ لِلْمُسَافِرِ الْقَاصِرِ وَمِنْ شُرُوطِهَا قَوْلُ الْمُحَشِّي قَوْلُهُ (؛ لِأَنَّهُ يُمْكِنُهُ فِعْلُهَا وَقَوْلُهُ مَا يُعْلَمُ مِنْهُ وَقَوْلُهُ أَمَّا الصَّبِيُّ فَوَاضِحٌ) (تحفة المحتاج : ١/٤٥٤) (الإقن
پیر _28 _اکتوبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
ہفتہ _26 _اکتوبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
جمعہ _25 _اکتوبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0799
جمعہ کی دوسری اذان کے جواب دینے کا کیا حکم ہے؟
جمعہ کی دوسری اذان دیگر اذان کی طرح ہی ہے اور اس اذان کا جواب دینا بھی سنت ہے۔ یہاں تک کہ اگر کوئی شخص جمعہ کی دوسری اذان کے دوران مسجد میں داخل ہوجائے تب بھی اس شخص کو چاہیے کہ کھڑے کھڑے اذان کا جواب دے۔
"ﻟﻮ ﺩﺧﻞ ﻳﻮﻡ اﻟﺠﻤﻌﺔ ﻓﻲ ﺃﺛﻨﺎء اﻷﺫاﻥ ﺑﻴﻦ ﻳﺪﻱ اﻟﺨﻄﻴﺐ ﻓﻔﻲ اﻟﻌﺒﺎﺏ ﺗﺒﻌﺎ ﻟﻤﺎ اﺧﺘﺎﺭﻩ ﺃﺑﻮ ﺷﻜﻴﻞ ﺃﻧﻪ ﻳﺠﻴﺐ ﻗﺎﺋﻤﺎ” حاشية الشرواني على تحفة المحتاج:٤٧٩/١
جمعہ _25 _اکتوبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
جمعہ _25 _اکتوبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0798
اگر کوئی شخص قضاء نماز اکیلا پڑھ رہا ہو تو کیا اس کے لیے اذان دینا ضروری ہے ؟
اگر کوئی قضاء نماز اکیلا ہی پڑھ رہا ہو تو اصح قول کے مطابق اذان دے کر نماز پڑھنا سنت ہے۔البتہ ضروری نہیں ہے۔
ﻭ ﻳﻘﻴﻢ ﻟﻠﻔﺎﺋﺘﺔ اﻟﻤﻜﺘﻮﺑﺔ ﻭﻻ ﻳﺆﺫﻥ ﻟﻬﺎ ﻓﻲ اﻟﺠﺪﻳﺪ ﻭﻓﻲ اﻟﻘﺪﻳﻢ ﻳﺆﺫﻥ ﻟﻬﺎ ﻗﻠﺖ اﻟﻘﺪﻳﻢ ﺃﻇﻬﺮ۔ (منهاج الطالبين:١٤٩/١)
جمعہ _25 _اکتوبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعیسوال نمبر / 0797
تہوار یا شادی وغیرہ کے موقع پر کسی غیر مسلم کی طرف سے ہدیہ (مٹھائی وغیرہ ) دیا جائے تو اسے قبول کرنے کا کیا حکم ہے؟
اگر کسی غیر مسلم شخص یا غیروں کے کسی ادارے کی طرف سے ہدیہ کے طور پر کوئی چیز مٹھائی وغیرہ پیش کی جائے تو اسے قبول کرنا اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ وہ چیز کسی بت پر نہ چڑھائی گی ہو یا اس ہدیہ کو حاصل کرنے کے لیے کسی طرح کی پوچا پاٹ یا غیروں جیسے اعمال کرنے کی ضرورت نہ پڑی ہو تو اسے لینا جائز ہے۔ ہاں اگر اس انعام/ ہدیہ کو حاصل کرنے کے لیے کسی بھی طرح کا غیر شرعی کام یا ہندوانہ رسوم میں شرکت کی نوبت آئے تو پھر اس ہدیہ کو قبول کرنا جائز نہیں بلکہ حرام ہے۔
قال الإمام النووي رحمه الله وَفِي هَذَا الْحَدِيثِ جَوَازُ قَبُولِ هَدِيَّةِ الْكَافِرِ (شرح مسلم :١٤/٥٢)
قُلْتُ: وَمِنْ مَسَائِلِ الْفَصْلِ، أَنَّ قَبُولَ الْهَدَايَا الَّتِي يَجِيءُ بِهَا الصَّبِيُّ الْمُمَيِّزُ، جَائِزٌ بِاتِّفَاقِهِمْ، وَقَدْ سَبَقَ فِي كِتَابِ الْبَيْعِ، وَأَنَّهُ يَجُوزُ قَبُولُ هَدِيَّةِ الْكَافِرِ، (روضة الطالبين :٥/٣٦٩)
وقال العلامة ابن حجر الهيتمی رحمة الله عليه: ثم رأيت بعض أئمتنا المتأخرين ذكر ما يوافق ما ذكرته فقال : ومن أقبح البدع موافقة المسلمين النصارى في أعيادهم بالتشبه بأكلهم والهدية لهم وقبول هديتهم فيه وأكثر الناس اعتناء بذلك المصريون وقد قال صلى الله عليه وسلم { من تشبه بقوم فهو منهم } بل قال ابن الحاج لا يحل لمسلم أن يبيع نصرانيا شيئا من مصلحة عيده لا لحما ولا أدما ولا ثوبا ولا يعارون شيئا ولو دابة إذ هو معاونة لهم على كفرهم وعلى ولاة الأمر منع المسلمين من ذلك (الفتاوي الفقهية الكبرى:4/238-239)
قال الإمام الدَّمِيري رحمة الله عليه: تتمة : يُعزّر من وافق الكفار في أعيادهم (النجم الوهاج :9/244)
جمعہ _25 _اکتوبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ أحمد بن طالب بن حميد
جمعہ _25 _اکتوبر _2019AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ بندر بن عبد العزيز بليلة