کعبۃ اللہ کی عظمت – 26-07-2019
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0756
قربانی کے جانور کا کچھ گوشت زخم کی وجہ سے کاٹ دیا گیا ہو تو ایسے جانور پر قربانی درست ہوگی یا نہیں؟
قربانی کے جانور کے عضو کا کوئی حصہ (دُم، تھن، کان گوشت) اس طور پر کٹ جائے جس سے قربانی کے جانور کے گوشت میں نقص ہوجائے یا عیب نظر آئے یا کسی پرانے زخم کی وجہ سے کوئی عضو خراب ہوجائے تو ایسے جانور کی قربانی کرنا درست نہیں۔
شيخ زكريا الأنصاري رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ولو فقذت الضرع والألية أوالذنب خلقا أجرأت.. لاإن كان الفقد لذالك بقطع ولو لبعض منه أو بقطع بعض لسانها لحدوث ما يؤثر في نقص اللحم۔ (أسني المطالب:٤٥٦/٢) إمام نووي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وقطع بعض الألية أو الضرع لقطع كله، ولا تجزيء مقطوعة بعض اللسان۔ (المجموع :٢٩٥/٨) ☆مغنى المحتاج ١٢٣/٧ ☆عمدة المحتاج ٣٣١/١٤ ☆حاشية الترمسي ٦٣٢/٦
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: حجاج کرام اور مکہ و مدینہ کی حرمت
فقہ شافعی سوال نمبر / 0755
حالت احرام میں رومال یا ٹیشو سے ناک صاف کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟
حالت احرام میں اگر کوئی ناک صاف کرنے یا پسینہ پوچھنے کے لیے رومال یا ٹیشو کا استعمال کرنا درست ہے اس لیے کہ رومال کا استعمال کپڑا پہننے کی طرح نہیں اور اس سے فدیہ بھی لازم نہیں ہوگا
فأما اللبس فهو مرعي في وجوب الفدية على مايعتاد في كل ملبوس، إذ به يحصل الترفه والتنعم فلو إرتدى بقميص أو قباء، أو التحف فيهما أو اتزر بسراويل فلا فدية عليه، كما لو اتزر بإزار خيط عليه رقاع (العزيز شرح الوجيز/كتاب الحج.٤٥٩/٣) (مغني المحتاج/كتاب الحج/الإحرام :٤٤/٣ (السراج الوهاج/كتاب الحج:١٣١)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0754
حالت احرام میں قمیض کو پہنے بغیر صرف اوپر سے بدن پر رکھنا کیسا ہے؟
حالت احرام میں قمیض یا پاجامہ پہنے بغیر صرف بدن کے اوپر اوڑھنا جائز ہے، اور اس طرح صرف بدن پر رکھنے یا اوڑھنے سے فدیہ بھی لازم نہیں ہوگا اس لیے کہ اس طرح بدن پر کپڑا اوڑھنے یا رکھنے صورت میں کپڑا پہننے کا اطلاق نہیں ہوتا۔
فأما اللبس فهو مرعي في وجوب الفدية على مايعتاد في كل ملبوس، إذ به يحصل الترفه والتنعم فلو إرتدى بقميص أو قباء، أو التحف فيهما أو اتزر بسراويل فلا فدية عليه، كما لو اتزر بإزار خيط عليه رقاع (العزيز شرح الوجيز/كتاب الحج.٤٥٩/٣) *مغني المحتاج/كتاب الحج/الإحرام :٤٤/٣ *السراج الوهاج/كتاب الحج:١٣١
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0753
*حالت حمل میں نکلنے والے خون کے سلسلہ میں شوافع کا کیا مسئلہ ہے؟*
*حالت حمل میں نکلنے والے خون کے سلسلہ میں شوافع کا مسئلہ یہ ہے کہ اسکو حیض کا خون شمار کیا جائے گا جبکہ وہ اس کے ایام حیض میں نکلے اگر ایام حیض کے علاوہ میں خون نکلے تو استحاضہ مانا جائے گا*
إمام رافعي رحمة الله عليه فرماتے ہیں : ما تراه الحامل على ترتيب أدوار الحيض، وقال في الجديد هو حيض وإن قلنا أنه حيض حرم فيه الصلاة والصوم والوطئی ويثبت جميع أحكام الحيض. إمام ابن حجرالهيتمي رحمة الله عليه: فالدم الذي قبل الولادة حيض على الأصح بناءا على أن الحامل تحيض، وما بعدها نفاس وما بينهما طهر قطعا. (الفتاوى الفقهية الكبرى:١/ ١٤٤)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)