007 – سورة الاعراف – آیت نمبر – 196
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
فضيلة الشيخ عبد المحسن بن محمد القاسم
فضيلة الشيخ فيصل بن جميل غزاوي
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر /0747
اگر کوئی شخص حالت احرام میں بھول کر یا لاعلمی میں خوشبو لگائے یاسلے ہوئے کپڑے پہنے تو کیا ایسے شخص پر فدیہ لازم ہوگا؟
اگر کوئی شخص حالت احرام میں بھول کر یا لاعلمی میں خوشبو لگائے یا سلے ہوئے کپڑے پہنے تو اس پر فدیہ لازم نہ ہوگا۔ اس لیے کہ خوشبو اور سِلے ہوئے کپڑے کا انسان عام طور سے عادی ہوتا ہے، اس لیے بھول اور لاعلمی کی وجہ سے معاف ہے۔
(وان لبس أو تطيب أو دهن رأسه أو لحيته جاهلا بالتحريم أو ناسيا للاحرام لم يلزمه الفدية۔ (المجموع 7/338) والفرق بين ما نحن فيه والطيب واللباس ونحوهما من الاستمتاعات: أن الاستمتاعات تميل الطباع إليها [ولا يتكامل فيها القصد، فذر بالنسيان، والإتلافات على خلاف الطبع] فلا يقدم عليها إلا عن تكامل قصد ووجود رؤية؛ فلذلك كان حكم العمد [والنسيان فيها] سواء.
(كفاية التنبيه: ٧/٢٣٦)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0746
اگر کوئی مٹی کا کام کرنے کی وجہ سے ناخن میں میل کچیل یا مٹی جمع ہوجائے اور اسی حالت میں کوئی وضو کرلے تو کیا اس کا وضو صحیح ہوگا؟
اگر کوئی شخص مٹی کا کام کرتا ہو جیسے کاشتکار وغیرہ جس کی وجہ سے اس کے ناخن میں مٹی کا میل کچیل جمع رہتا ہے اور ایسا شخص بےتوجہی سے وضو کرتا ہے اور میل کچیل کی وجہ سے پانی چمڑی تک نہیں پہنچتا تو اس کا وضو صحیح نہیں ہوگا ہاں اگر کوئی کاشتکار میل کچیل اور جمع شدہ مٹی کو دور کرنے کی بھرپور کوشش کرتا ہے لیکن مسلسل ایسا کام کرنے کی وجہ سے مٹی کا تھوڑا بہت اثر باقی رہتا ہے تو وضو درست ہوگا۔
ما يشترط في المغسول جري الماء عليه وتقديم ازالةمانع وصوله الى البشرة كوسخ ظفر و كشمع او حناء او دهن جامد في شقوق القدمين ان لم يبلغ اللحم (العباب :۸۵/۱) ويعلم مما تقرر انه يجب ازالة ما تحت الاظفار من الوسخ، لمنعه وصول الماء. نعم : يعفي عن القليل في حق من ابتلي به: كالفلاحين ونحوهم ممن يشتغل في الطين.. قال الغزالى والزركشى غيرهما واطالوافي ترجيحه،وصرحوا بالمسامحة عما تحتها من الوسخ دون نحوالعجين (فتح العلام :١/ ١٩٤ – ١٩٥) *روضةالطالبين :١/ ١٦٤ *الاقناع :١/ ١٢٥ *اعانة الطالبين :١/ ٦٠