مدينة المنوّرة دعاء – 27 رمضان 1439
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير
فضيلة الشيخ عبد الرحمن بن عبد العزيز السديس
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب
سوال نمبر/ 0199
اگرکوئی شخص صدقہ فطر اپنے قریبی رشتہ دار کو دینا چاہتا ہے اور اس قریبی رشتہ دار کوعید کے روز کے بعد ہی دینا ممکن ہو تو اتنی تاخیر کی گنجائش ہے؟
جواب:۔ صدقہ فطر عید کی نماز سے پہلے ادا کرنا افضل ہے.اور عید کی نماز کے بعد سے غروب تک موخر کرنا مکروہ ہے. اور عید کا دن گذرنے تک تاخیر کرنا حرام ہے. لہذا کسی قریبی رشتہ دارکے انتظار میں نمازعید کے بعد عید کا دن ختم ہونے تک انتظار کرنا مسنون ہے. لیکن عید کا دن گذرنے تک موخر کرنا جائز نہیں ہے. البتہ اس صورت میں رشتہ دار کی طرف سے کسی کو وکیل بنا کر صدقہ فطر عید کے روز ہی اس کے حوالہ کیا جائے کہ وہ بعد میں مستحق کو صدقہ فطر سپرد کردے.
نَعَمْ يُسَنُّ تَأْخِيرُها عَنْها لِانْتِظارِ قَرِيبٍ أوْ جارٍ ما لَمْ يَخْرُجُ الوَقْتُ.
تحفة المحتاج: ١/٤٧٩
Question No/199
If a person wants to give sadqa al fitr to his relative but it is only possible after Eid ..In this situation is it permissible to pay him after Eid?
Ans; Giving sadqa al fitr before Eid prayer is Afzal and delaying it after Eid prayer till sunset is Makrooh and it is haram to delay it after the day of Eid.. Therefore it is sunnah to wait for the relatives after Eid prayer till the end of the day of Eid but it is not permissible to delay till the next day..However in this situation one may appoint a middle man(wakeel)on behalf of his relatives and give him sadqa al fitr on the day of Eid and later the receiving person may hand it over to the deserving person..
سورة الحجر– آيت نمبر 80-81-82-83-84-85-86 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ
عنوان : روزے کے اہم مسائل
فضيلة الشيخ عبدالله بن عبدالرحمن البعيجان
فضيلة الشيخ بندر بن عبد العزیز بلیلة
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سوال نمبر/ 0200
اگر کوئی شخص ہندوستان سے عرب ممالک جائے اور اس کے 28/ روزے ہی ہوئے ہوں اور وہاں عید کا دن ہو تو وہ کیا کرئے گا ؟
جواب : اگر کوئی ہندوستان سے 28/ روزہ مکمل کر کے عرب ممالک جائے اور وہاں پر عید کا دن ہو تو اس پر اس دن عید منانا واجب ہے اور باقی روزے کی قضا کرنا واجب ہے کیونکہ مہینہ 28 /کا نہیں ہوتا 29/ یا 30/ کا ہوتا ہے۔
لہذا اسے صورت میں اس کے لئے ایک روزہ کی قضاء ضروری ہے. لیکن اسے 29/ روزے حاصل ہوچکے ہیں تو قضاء کی ضرورت نہیں. کیوں مہینہ 29/کا بھی ہوتا ہے چاہے جس بستی سے چلا تھا وہاں رمضان 30/ دن کا ہوگیا ہو۔
وَمَنْ سَافَرَ مِنْ الْبَلَدِ الْآخَرِ) الَّذِي لَمْ يَرَ فِيهِ (إلَى بَلَدِ الرُّؤْيَةِ عَيَّدَ) أَيْ أَفْطَرَ (مَعَهُمْ) وَإِنْ كَانَ لَمْ يَصُمْ إلَّا ثَمَانِيَةً وَعِشْرِينَ يَوْمًا لِمَا مَرَّ أَنَّهُ صَارَ مِثْلَهُمْ (وَقَضَى يَوْمًا) إذَا عَيَّدَ مَعَهُمْ فِي التَّاسِعِ وَالْعِشْرِينَ مِنْ صَوْمِهِ كَمَا بِأَصْلِهِ؛ لِأَنَّ الشَّهْرَ لَا يَكُونُ ثَمَانِيَةً وَعِشْرِينَ بِخِلَافِ مَا إذَا عَيَّدَ مَعَهُمْ يَوْمَ الثَّلَاثِينَ فَإِنَّهُ لَا قَضَاءَ؛ لِأَنَّهُ يَكُونُ تِسْعَةً وَعِشْرِينَ
(تحفة المحتاج مع حواشي الشرواني 3/ 384)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
سوال نمبر/ 0198
جو لوگ بیرون ملک یا بیرون شہربرسر روزگار مقیم ہیں وہ اپنا صدقہ فطر وطن اصلی میں نکالیں گے یا اقامت کی جگہ پر نکالنا ضروری ہے؟
جواب:۔ جو شخص رمضان کے آخری دن کے غروب کے وقت جہاں مقیم ہے اس کے لئے اپنا صدقہ فطر نکالنےکے لئے اسی جگہ کا اعتبار ہوتا ہے. لہذا جو لوگ برسر روزگار بیرون ملک یا بیرون شہر مقیم ہیں وہ اپنا صدقہ فطر اسی جگہ پر ادا کریں گے. البتہ اگر اس جگہ پر صدقہ فطر لینے والے موجود نہ ہوں تو پھر کسی قریبی دوسری جگہ یا اپنے وطن اصلی میں منتقل کرسکتے ہیں۔ (المجموع 225/6)
قال الإمام النووي رحمه الله:
قالَ أصْحابُنا إذا كانَ فِي وقْتِ وُجُوبِ زَكاةِ الفِطْرِ فِي بَلَدٍ ومالُهُ فِيهِ وجَبَ صَرْفُها فِيهِ
_____________
المجموع (٢٢٥/٦)