مدينة المنوّرة دعاء – 21 رمضان 1439
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير
فضيلة الشيخ عبد الرحمن بن عبد العزيز السديس
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0192
عورت کے لئے اعتکاف کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟
جواب:۔ اعتکاف کے لئے اصل مسجد شرط ہے چاہے مرد ہو یا عورت ہو اس کا اعتکاف مسجد ہی میں صحیح ہوگا. مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ اعتکاف صحیح نہیں ہوگا. لیکن موجودہ پُرفتن زمانہ میں کسی عورت کے لئے مسجد میں اعتکاف کرنا مشکل ترین امر ہے اس بناء پر عورت کے لیے اپنے گھر میں نماز کے لیے متعین جگہ میں اعتکاف کرنے کی گنجائش ہے. لہذا عورتیں اعتکاف کرنا چاہیں تو اپنی گھر میں نماز کی جگہ اعتکاف کرلیں.
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:
لایصح الاعتکاف من الرجل والمراۃ الا فی المسجد ولا یصح فی مسجد بیت المراۃ ..وھوالمعتزل المھیاللصلاۃ ..وحکی الخراسانیوں وبعض العراقیین فیہ قولین ..وھو القدیم یصح اعتکاف المراۃ فی مسجد بیتھا (المجموع:6/472)
Fiqhe Shafi Question No/0192
What is the ruling with regard to women performing I’tikaaf?
Ans; Masjid is the main condition for performing I’tikaaf whether it might be male or female.. His or her Itikaaf will be valid in Masjid only and except masjid no other place is appropriate to perform Itikaaf.. But in this era of mischievousness it is highly difficult for a woman to perform I’tikaaf so based on this there is permissiblility for woman to determine some specific place in her house for performing I’tikaaf.. Therefore if a woman wants to perform I’tikaaf then she may perform in a place of praying salah in her house…
سوال نمبر/ 0195
عام طور پر مساجد میں معتکفین کے لئے مسجد کے ایک کونہ میں پردہ لٹکاکر جگہ کو مختص کیا جاتا ہے. شرعا اس کی گنجائش ہے؟
جواب:۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف میں ہوتے تو نماز پڑھنے کے بعد اس حجرہ میں چلے جاتے جو اعتکاف کے لیے مسجد میں بنایا جاتا. (بخاری :2034)
اس عمل کی بناء پر فقہاء نے معتکف کے لئے مسجد میں چادر کے ذریعہ ایک کونہ کو کمرہ نما بنانے کی اس طرح اجازت دی ہے کہ لوگوں کوجگہ تنگ نہ ہو تاکہ معتکف کو عبادت میں تنہائی اور یکسوئی حاصل ہو. البتہ بہتر یہی ہے کہ یہ کمرہ نما مسجد کے آخیری حصہ میں بنایا جائے تاکہ نمازیوں کو جگہ کی تنگی نہ ہوسکے۔
قال الإمام إبن حجر العسقلاني:
وفِيهِ جَوازُ ضَرْبِ الأخْبِيَةِ فِي المَسْجِدِ(١)
__________
(١)فتح الباري:(٢٧٧/٤)
*شرح مسلم (٢٤٨/٣)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ
عنوان : روزے کے اہم مسائل
فضيلة الشيخ عبدالله بن عبدالرحمن البعيجان
فضيلة الشيخ ياسر بن راشد الدوسري
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة الحجر– آيت نمبر 45-46-47-48-49-50 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0446
اگر کوئی امام نماز میں سورہ ص کا سجدہ کرے تو اس نماز کا کیا حکم ہے ؟
جواب:۔ ۲۳/ تئیسویں پارے میں سورہ ص کا سجدہ شوافع کے نزدیک سجدہ تلاوت نہیں ہے بلکہ یہ سجدہ شکر ہے جس کو نماز کے علاوہ میں کرنا مستحب ہے اور اصح قول کے مطابق اس سجدہ کو نماز میں کرنا حرام ہے, اگر کوئی امام "سورہ ص” کا سجدہ نماز میں عمدا کرے تو اس کی نماز باطل ہوجائے گی اور اگر کوئی مسئلہ نہ جانتے ہوئے یا بھول کر اس سجدہ کو نماز میں کرے تو نہ جاننے کی بناء پر اس کی نماز باطل نہیں ہوگی البتہ وہ سجدہ سہو کریگا، اور اگر امام حنفی ہو تو ایسی صورت میں مقتدی امام سے الگ ہونے کی نیت کریگا اور امام قیام میں واپس لوٹنے تک کھڑے رہ کر امام کا انتظار کرے۔
امام شربینی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:(تسن سجدات التلاوة وهن في الجديد أربعة عشر) سجدة (منها سجدتا الحج لا) سجدة (ص بل هي سجدة الشكر تستحب في غير الصلاة وتحرم فيها) وتبطلها(على الأصح) لمن علم ذلك وتعمده، أما الجاهل أو الناسي فلا تبطل صلاته لعذره، لكن يسجد للسهو. ولو سجد إمامه وكان يعتقدها كحنفي جاز له مفارقته و انتظاره قائما…ولا يسجد للسهو إذا انتظره. (مغني المحتاج:٣٠١-٣٠٢\١-دار الكتب العلمية) امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں:ﻭﻟﻮ ﺳﺠﺪ ﺇﻣﺎﻣﻪ ﻓﻲ "ص” ﻟﻜﻮﻧﻪ ﻳﻌﺘﻘﺪﻫﺎ ﻓﺜﻼﺛﺔ ﺃﻭﺟﻪ ﺃﺻﺤﻬﺎ ﻻ ﻳﺘﺎﺑﻌﻪ
ﺑﻞ ﺇﻥ ﺷﺎء ﻧﻮﻯ ﻣﻔﺎﺭﻗﺘﻪ ﻷﻧﻪ ﻣﻌﺬﻭﺭ ﻭﺇﻥ ﺷﺎء ﻳﻨﺘﻈﺮﻩ ﻗﺎﺋﻤﺎ ﻛﻤﺎ ﻟﻮ ﻗﺎﻡ ﺇﻟﻰ ﺧﺎﻣﺴﺔ ﻻ ﻳﺘﺎﺑﻌﻪ ﺑﻞ ﺇﻥ ﺷﺎء ﻓﺎﺭﻗﻪ ﻭﺇﻥ ﺷﺎء اﻧﺘﻈﺮﻩ ﻓﺈﻥ اﻧﺘﻈﺮﻩ ﻟﻢ ﻳﺴﺠﺪ ﻟﻠﺴﻬﻮ ﻷﻥ اﻟﻤﺄﻣﻮﻡ ﻻ ﺳﺠﻮﺩ ﻋﻠﻴﻪ….
Fiqhe Shafi Question No/0446
If anyone Emam performs the sajdah of surah Sua’d in prayer then what is the ruling with regard to this?
Ans; According to Shaafi’s The Sajdah of Surah Suad is not considered as Sajdah tilawat rather it is sajdah shukr which is recommended (mustahab) to be performed in times other than salah and according to the correct description performing this sajdah in prayer is forbidden.. If a Emam performs the sajdah of Surah Suad deliberately then the salah invalidates and if anyone performs this sajdah unknowingly or due to ignorance then the salah will not invalidate however she/he must perform sajda suhu… If the Imaam is hanafi then in this situation the muqtadi shall make the niyyah of separation from Imaam and will wait until the Imaam gets back to the standing position..
مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ
عنوان : روزے کے اہم مسائل
فضيلة الشيخ احمد بن طالب حميد
فضيلة الشيخ عبد الله عواد الجهني
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)