بھٹكل تنظیم جمعہ مسجِد عربی خطبہ – 11-05-2018
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب
فضيلة الشيخ حسين بن عبدالعزيز آل الشيخ
فضيلة الشيخ صالح بن عبدالله بن حميد
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0241
اگر کسی آدمی کا کسی پر قرض ہو اور مقروض ادابھی نہیں کر رہا ہے تو کیا اس پیسے پر ہم زکات کی نیت کرکے چھوڑ سکتے ہیں ؟ اور اس سے زکوۃ ادا ہوگی؟
جواب: اگر مقروض قرض ادا نہیں کر رہا ہے تو قرض دینے والا قرض کی رقم میں زکوۃ کی نیت سے اس قرض کو زکوۃ میں شمار نہیں کرسکتا. یہاں تک کہ وہ اس مال پر قبضہ کرے پھر دوبارہ اسی مقروض کوجب کہ وہ مستحق ہو یا کسی اور مستحق کو زکوۃ دے دے (الاقناع:1/332)
مولانا جعفر فقیہ صاحب ندوی
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0605
رضاعی ماں کو زکات دینے یا رضاعی ماں اپنے رضاعی بچےکو زکات دے تو کیا زکات ادا ہوگی؟
جواب: اگر کوئی اپنی رضاعی ماں کو جو زکات کی مستحق ہو زکات دے تو اس کی زکات ادا ہوجائے گی، اسی طرح اگر رضاعی ماں اپنے دودھ پینے والے بچے کو زکات دے تب زکات ادا ہوگی اس لیے کہ رضاعی ماں پر رضاعی بچہ کا نفقہ واجب نہیں اور نہ رضاعی بیٹے پر رضائی ماں کا نفقہ واجب ہے۔
وأجمعت الأمة على تأثيره في النكاح، وثبوت المحرمية، وأظهر قولي الشافعي: أنه يؤثر في عدم نقض الوضوء، ولا يؤثر فيما عدا ذلك كالميراث والنفقة والعتق. (النجم الوهاج: ٨/١٩٩) شروط استحقاق الزكاة، ومن لا تدفع إليهم…..أن لا تكون نفقته واجبة على المزكي….فلا يجوز دفع الزكاة إلى الأب والأم أو الجد والجدة مهما علوا، لأن نفقتهم واجبة على الفروع، وكذلك لا يجوز دفع الزكاة إلى الأبناء والبنات وفروعهم إن كانوا صغارا، أو كبارا مجانين أو مرضى مزمنين، لأن نفقة هؤلاء واجبة على آبائهم. (الفقه المنهجي ١/٣٢٥) مغني المحتاج ٤/٢٩٠
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0449
اگر کسی کا پڑوسی زکات کا مستحق ہو تو کیا ہم اسکی طرف سے تحفہ اور دعوت قبول کرسکتے ہیں؟
جواب:۔ اگر کسی کا پڑوسی مستحق زکات ہو اور وہ تحفہ و ہدیہ پیش کرے یا دعوت دے تو اس کو قبول کرنا جائز ہے، چونکہ مستحق زکات شخص کو جو زکات دى جاتی ہیں تو وہ اس مال کا مالک بن جاتا ہے لہذا اگر کسی کا پڑوسی زکات کی رقم لے کر آپ کو ہدیہ یا تحفہ دے تو اس کو قبول کرنا درست ہے۔
عن انس رضی اللہ عنہ أن النبي صلى الله عليه وسلم أتي بلحم تصدق به على بريرة فقال هو عليها صدقة وهو لنا هدية…(رواه البخاري 1495) (مسلم: 170 /1074) دلیل للشافعی: وموافقیه ان لحم الاضحیة اذا قبضه المتصدق علیه وسائر الصدقات یجوز لقابضھا بیعھا. ویحل لمن اھداھا الیه او ملکھا منه بطریق آخر (شرح مسلم:3/148)
Fiqhe Shafi Question No/0449
Can one accept the gifts and invitation from his neighbour who deserves zakah?
Ans; If ones neighbour is a person deserving zakah and he presents gift and invitation then accepting from him is permissible…Whereas the zakah given to the deserving person becomes the owner of the wealth of zakah. Therefore, if ones neighbour accepts the wealth of zakah and give it as a gift or present then accepting those gifts is permissible..