درس حدیث نمبر 0221
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: اعلی اخلاقی اقدار کی فضیلت اور اہمیت
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0589
اگر کوئی شخص غلطی سے یا نہ جانتے ہوئے سجدہ سہو دو سجدے کے بجائے تین مرتبہ سجدہ کرے تو اس کی نماز کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ سجدہ سہو کے دو سجدے کرنا سنت ہے چاہے کتنے مرتبہ بھی سہو ہوجائے۔ لہذا اگر کوئی سہوا یا جہلا سجدہ سہو دو کے بجائے تین سجدے کرے تو اس کے لئے دوبارہ سجدہ سہو کرنے کی ضرورت نہیں لہٰذا اس صورت میں اس کی نماز بغیر سجدہ سہو کے ہو جائے گی۔
سُجُودُ السَّهْوِ سُنَّةٌ عِنْدَ تَرْكِ مَامُورٍ بِهِ، أَوْ فِعْلِ مَنْهِيٍّ عَنْهُ…..وَسُجُودُ السَّهْوِ وَإِنْ كَثُرَ سَجْدَتَانِ كَسُجُودِ الصَّلاَةِ. (إعانة الطالبين ٣١٢/١) وصورة جبره لما يحصل فيه من السهو أن يسجد له ثم يتكلم فيه بكلام قليل ناسيا فلا يسجد ثانيا لأنه لا يأمن من وقوع مثل ذلك في السجود الثاني، وهكذا فيتسلسل. وكذلك لو سجد ثلاث سجدات ناسيا فلا يسجد ثانيا للتعليل المذكور. (النجم الوهاج ٢٤٨/٢-٢٦٤)
فقہ حنفی سوال نمبر/ 0189
آج کل بعض جگہوں پر بکرے کے کپورے،اور اس کی شرمگاہ کے کھانے کا رواج ہوگیا ہے، لوگ اسے خریدتے ہیں اور کھاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے جنسی قوت میں اضافہ ہوتا ہے تو کیا ان چیزوں کا کھانا جائز ہے؟
جواب:۔ فقہائے احناف نے قرآن و حدیث پر غور کرکے اور شریعت کے مقاصد کو مد نظر رکھتے ہوئے جانور کے سات اعضاء کو کھانا حرام لکھا ہے، بہنے والا خون، جانور کی شرمگاہ چاہے جانور مذکر ہو یا مونث، اور ان کے خصئے (کپورے)، غدود، پِتہ۔ مثانہ۔
اس لئے جانور کی شرمگاہ یا اس کے عضو خاص یا کپوروں کا کھانا جائز نہیں ہے، اس سے بچنا واجب و لازم ہے، ہاں اگر کوئی شخص ایسا بیمار ہو یا ایسی بیماری میں مبتلا ہو جس میں اس سے ہی فائدہ ہوسکتا ہے تو ماہر ڈاکٹر کے مشورے سے بقدرِ ضرورت استعمال جائز ہوگا۔
وأما مایحرم أكله من أجزاء الحيوان سبعة، الدم المسفوح، والذكر، والانثيان، والقبل، والغدة، والمرارة، (فتاوى عالگیری 110/4) الاضطرار يبيح المحظورات (الاشباه و النظائر لإبن نجيم المصري) إذا ضاق الأمر اتسع (الاشباه و النظائر لإبن نجيم المصري)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة رعد – آيت نمبر 40-41-42-43 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فقہ حنفی سوال نمبر/ 0188
اگر کوئی معذور شخص کسی نماز کے وقت سے پہلے وضو کرلیا تو اس وقت سے پہلے کیے ہوئے وضو سے اگلے وقت کی نماز پڑھنا کیسا ہے؟
جواب:۔ اگر کوئی معذور شخص مثلاً ظہر کی نماز سے پہلے وضو کرے اور ظہر کی نماز کے بعد اسی وضو سے عصر کی نماز پڑھنا چاہے تو اس کا ایک وضو سے نماز کا وقت گزر جانے کے بعد دوسری نماز اسی وضو سے پڑھنا درست نہیں ہے اس لیے کہ وقت نکلنے سے معذور شخص کا وضو ٹوٹ جاتا ہے۔ (شامی بيروت ٤٣٩/١)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مكۃ المكرّمہ اردو ترجمہ : حفظ الرحمن تیمی
عنوان: دین میں مصیبت کے ہڈی
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة رعد – آيت نمبر 38-39-40 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
اس میں بھٹکل کے جمعہ بیانات اور مولانا عبد الباری ندوی صاحب رحمہ اللہ کی تفسیر اور فکروخبر فقہ شافعی کے مسلئہ مسائل بھیجے جاتے ہیں
اس میں فکروخبر فقہ حنفی کے مسلئہ مسائل بھیجے جاتے ہیں
اس میں مولانا صادق اكرمی ندوی صاحب کی نوائطی درسِ حدیث بھیجے جاتے ہیں
اس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے عربی خطبات ہر ہفتے بھیجے جاتے ہیں
اس میں مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے خطبات کا اردو ترجمہ بھیجا جاتا ہے
اس گروپ میں فكروخبر كے نیوزو نیوزاور سچی بات كی ویڈیو بھیجی جاتی ہے
(گروپ میں شامل ہونے کے لئے اس لنك كا استعمال كریں)
Jumma bayans of bhatkal and tafseers of moulana Abdulbari nadvi and Issues of fikrokhabar fiqheshafi are posted here
Issues of fikrokhabar fiqhehanafi are posted here
Darse hadees by Moulana sadiq akrami nadvi posted here
Arabic khutbas of Makkah and Madina are posted here weekly
Urdu translation of khutbas from makkah and madina are posted here
fikrokhabar news, news and seedhibaath videos are posted here
(Use this link to join the group)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0588
فرض نماز کے بعد انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر بیٹھنے کا شرعاً کیا حکم ہے؟
جواب :۔ فقہاء کرام نے یہ مسئلہ بیان کیا ہے کہ جو شخص نماز کے انتظار میں ہو یا جس کا نماز کا قصد ہو اس کے لیے بالاتفاق تشبیک مکروہ ہے تشبیک یعنی ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں ڈالنا) کیونکہ نماز کا انتظار کرنے والا نماز ہی میں ہوتا ہے، البتہ نماز کے بعد انگلیوں میں انگلیاں ڈال کر بیٹھنا مکروہ نہیں ہے۔
اتفق الأصحاب على كراهة تشبيك الأصابع في طريقه إلى المسجد وفي المسجد يوم الجمعة وغيره…… فإن قيل أنه صلى الله عليه وسلم شبك بين أصابعه في المسجد بعد ما سلم من الصلاة عن ركعتين في قصة ذي اليدين وشبك في غيره، أجيب بأن الكراهة إنما هي في حق المصلي وقاصد الصلاة وهذا كان منه صلى الله عليه وسلم بعدها في اعتقادها. (ابوداؤد: 562) (بخارى :479) (مغنى المحتاج 506/1-507)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)