درس قرآن نمبر 1036
سورة هود – آيت نمبر 012-013-014 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سورة هود – آيت نمبر 012-013-014 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة هود – آيت نمبر 008-009-010-011 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0535
اگر کسی پاک جانور (بکری، گائے ) نے کتیہ کا دودھ پیا ہے تو اس جانور کا کیا حکم ہوگا؟
جواب:۔ اگر کسی پاک جانور نے کتیہ کا دودھ پیا ہے تو اس جانور کا حکم جلالہ کے حکم میں ہوگا. اور جلالہ اس جانور کو کہتے ہیں جو گندگی اور نجاست کھاتا ہو اور نجاست کھانے والے جانور کو کھانا کراہت کے ساتھ جائز ہے۔
(فَرْعٌ) السَّخْلَةُ الْمُرَبَّاةُ بِلَبَنِ الْكَلْبَةِ لَهَا حُكْمُ الْجَلَّالَةِ الْمُعْتَبَرَةِ فَفِيهَا وَجْهَانِ (أَصَحُّهُمَا) يَحِلُّ أَكْلُهَا۔. (المجموع ٢٧/٩) فَرْعٌ يُكْرَهُ أَكْلُ لَحْمِ الْجَلَّالَةِ كَرَاهَةَ تَنْزِيهٍ عَلَى الْأَصَحِّ الَّذِي ذَكَرَهُ أَكْثَرُهُمْ۔ روضةالطالبين ٥٤٥/٢
Fiqhe Shafi Question No/0535
If a halal animal (cow, goat) sucks milk of a female dog then what is the ruling with regard to this animal?
Ans; If a halal animal sucks milk of a female dog then the ruling of this animal will be considered among the rulings of Jalala and Jalala means the animal who eats impurity and najasah and consuming the animal that eats najasah is permissible but disliked..
فقہ حنفی سوال نمبر/ 0159
ٹیلی فون پر خرید و فروخت کرنا کیسا ہے؟
جواب:۔ ٹیلی فون میں بات کرنے والا جانا پہنچانا ہے اور اس پر پوری طرح اعتماد بھی ہے اور اس میں دھوکا بازی اور فریب میں مبتلا ء ہونے کا کسی طرح اندیشہ بھی نہیں ہے تو ٹیلی فون کے ذریعہ سے بھی خرید و فروخت کا معاملہ طے کرنا جائز ہے۔. (اسلامی فقہ ۳۰۱/۲)
Fiqhe Hanafi Question No/0159
How about performing trade by telephone?
Ans; Telephone is a gadget used for communication and it is trustworthy and there is no fear of deception or dishonesty in this so having trade through telephone is permissible..
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0534
اگر شادی شدہ نوجوان عورت کے بال سفید ہوچکے ہوں اور شوہر اسے بال کالے کرنے کہے تو اس عورت کے لئے شوہر کی بات مان کر بال کالے کرنے کا کیاحکم ہے؟
جواب:۔ احادیث مبارکہ میں سفید بال کو کالے کرنے کی سخت ممانعت وارد ہے اس لئے سفید بالوں کو کالا خضاب لگانا حرام ہے. چاہے مرد ہو یا عورت ہو. اس لیے اس سے احتیاط ضروری ہے. البتہ اگر کسی عورت کے بال کم عمری میں سفید ہوگئے ہوں اور وہ اپنے شو ہر کے لئے زینت اختیار کرنے کی غرض سے اپنے سفید بال کالے کررہی ہے تو شوہر کی اجازت و رضامندی کے ساتھ اس طرح کی گنجائش ہے. اور شوہر کی اجازت کے بغیر بالوں کا کالا کرنا حرام ہے اور اسی طرح غیر شادی شدہ مرد و عورت کے لیے بھی بالوں کا کالا کرنا حرام ہے۔
ﻭﺃﻣﺎ ﺗﺤﻤﻴﺮ اﻟﻮﺟﻨﺔ، ﻓﺈﻥ ﻛﺎﻧﺖ ﺧﻠﻴﺔ ﻣﻦ اﻟﺰﻭﺝ ﺃﻭ اﻟﺴﻴﺪ ﺃﻭ ﻛﺎﻥ ﺃﺣﺪﻫﻤﺎ، ﻭﻓﻌﻠﺘﻪ ﺑﻐﻴﺮ ﺇﺫﻧﻪ ﻓﻬﻮ ﺣﺮاﻡ، ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﺑﺈﺫﻧﻪ ﻓﺠﺎﺋﺰ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺬﻫﺐ، ﻭﻗﻴﻞ: ﻭﺟﻬﺎﻥ ﻛﺎﻟﻮﺻﻞ. ﻭﺃﻣﺎ اﻟﺨﻀﺎﺏ ﺑﺎﻟﺴﻮاﺩ ﻭﺗﻄﺮﻳﻒ اﻷﺻﺎﺑﻊ ﻓﺄﻟﺤﻘﻮﻩ ﺑﺎﻟﺘﺤﻤﻴﺮ. روضة الطالبين ١/ ٢٧٦ ويَحْرُمُ عَلَى الْمَرْأَةِ وَصْلُ شَعْرِهَا بِشَعْرٍ طَاهِرٍ مِنْ غَيْرِ آدَمِيٍّ، وَلَمْ يَأْذَنْهَا فِيهِ زَوْجٌ أَوْ سَيِّدٌ، وَيَجُوزُ رَبْطُ الشَّعْرِ بِخُيُوطِ الْحَرِيرِ الْمُلَوَّنَةِ وَنَحْوِهَا مِمَّا لَا يُشْبِهُ الشَّعْرَ. وَيَحْرُمُ أَيْضًا تَجْعِيدُ شَعْرِهَا، وَوَشْرُ أَسْنَانِهَا، وَهُوَ تَحْدِيدُهَا وَتَرْقِيقُهَا، وَالْخِضَابُ بِالسَّوَادِ وَتَحْمِيرُ الْوَجْنَةِ بِالْحِنَّاءِ وَنَحْوُهُ، وَتَطْرِيفُ الْأَصَابِعِ مَعَ السَّوَادِ، وَالتَّنْمِيصُ، وَهُوَ الْأَخْذُ مِنْ شَعْرِ الْوَجْهِ وَالْحَاجِبِ الْمُحَسِّنِ، فَإِنْ أَذِنَ لَهَا زَوْجُهَا أَوْ سَيِّدُهَا فِي ذَلِكَ جَازَ؛ لِأَنَّ لَهُ غَرَضًا فِي تَزْيِينِهَا لَهُ كَمَا فِي الرَّوْضَةِ، وَأَصْلِهَا، وَهُوَ الْأَوْجَهُ. (نھایة المحتاج:۲/۲۵)
Fiqhe Shafi Question No/0534
If the hairs of a married woman get decolourised to white and her husband tells her to blacken it then should she obey her husband and dye her hair to black?
Ans; There is a strict prohibition on dyeing hair to black in hadeeth because dyeing hair to black is forbidden(haram) whether the person is male or female so precaution is necessary.. However, if the hair of a woman decolourises to white in her early age and she dyes her hair to black so as to please her husband then with the permissibility of her husband it is permissible for her to dye her hair to black and dyeing hair to black without the permission of husband is forbidden(haram)… Similarly it is forbidden even for those men and women who are unmarried..
سورة هود – آيت نمبر 006-007 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: پانی اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت
مكۃ المكرّمہ اردو ترجمہ
عنوان: جزع و فزع کے خطورات
سورة هود – آيت نمبر 006-007 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0533
بعض لوگ اپنے مرحومین کی طرف سے مساجد کی تعمیر میں یا مسجد کی اصلاح ودیگر مصارف میں پیسہ یا مال خرچ کرتے ہیں شرعا اس کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ مسجد کےلئے خرچ کرنا اور کوئی چیز ھدیہ یا ھبہ کرنا بڑی نیکی اور عظیم سعادت کی بات ہے اور اس میں بڑا ثواب بھی ہے اس لئے انسان کو اس کار خیر میں اپنی حیات ہی میں حصہ لیتے رہنا چاہیے کیوں کہ نیکی کا موقع دنیا کی زندگی تک ہے پھر اس کے بعد نیکی کرنے کا موقع نہیں ملتا لھذا میت نیکی کا محتاج ہوتا ہے حدیث میں ہے کہ انسان کا عمل موت پر ختم ہوتا ہے سوائے تین چیزوں کے ۱) نیک اولاد جو اس کے لئے دعا کرئے ۲) صدقہ جاریہ ۳) ایسا علم جس سے نفع اٹھا یا جائے۔ یہ تین چیزیں انسان کو موت کے بعد بھی فائدہ دیتی ہیں، لھذا اگر کوئی شخص (میت کی اولاد یا دوست یا کوئی اجنبی) میت کی طرف سے صدقہ کرے تو اس سے مردے کو اس کا نفع پہنچتا ہے۔ لہذا میت کی طرف سے مسجد کے تعمیراتی کاموں میں حصہ لینا شرعا مستحسن اور مندوب ہے۔
فقال (وتنفع الميت صدقة) عنه ووقف ، بناء مسجد وحفر بئرا ونحو ذلك ودعاء له من وارث واجنبي كما ينفعه ما فعله من ذالك في حياته والإجماع والأخبار الصحيحة في بعضها كخبر: إذا مات ابن أدم انقطع عمله ….مغني المحتاج4/222
Fiqhe Shafi Question No/0533
Few people spend money in the construstion or renovation or on the other expenditures of masjid on behalf of their deadones, What does the shariah say with regard to this?
Ans; Spending money on masjid and presenting something as gift is of good deed and a matter of great blissfulness and it possess great reward so one should participate in this great work in his life because the chance of performing good deed is in the worldly life and there will be no chance of performing good deed after the life.. Therefore the deceased are the most needy of good deed.. There is a narration in hadeeth that ‘When the human beings dies, his deeds come to an end except for three; 1) a righteous child who prays for him.. 2)ongoing charity.. 3) beneficial knowledge.. These three benefits the human even after death.. Therefore if a person( the child or the friend of deceased or a stranger) gives charity on behalf of the deceased then it benefits the deceased.. Therefore participating in the construction of masjid on behalf of the deceased is good and sunnah(mandoob)..
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)