فقہ شافعی سوال نمبر / 0067 آج کل منگنی کے موقع پر لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو انگوٹھی پہناتے ہیں شرعا اس کا کیا حکم ہے؟ نکاح سے پہلے لڑکا کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ منگنی کے موقع پر اپنی مخطوبہ لڑکی کو انگوٹھی وغیرہ پہنائے بلکہ نکاح کا مکمل ہونے سے پہلے بھی اس طرح کرنا حرام ہے، چاہے منگنی کے موقع پر ہو یا نکاح سے پہلے کسی اور موقع پر ہی کیوں نہ ہو۔ کیونکہ اس وقت دونوں ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں۔ ہاں بات پکی کرنے کے موقع پر اپنے والدہ یا بہن یا کسی بھی قریبی عورت یا مخطوبہ کے کسی محرم (مرد) جیسے باپ/ چچا/ ماموں وغیرہ کے ہاتھوں انکھوٹھی پہنانا چاہے تو وہ ایسا کرسکتا ہے. قال الامام زين الدين:(و) سن (نظر كل) من الزوجين بعد العزم علي النكاح وقبل الخطبة…. ونذب لمن لم يتيسر له النظر ان يرسل نهو إمرأة لتتاملها وتصفها له، وخرج بالنظر المس فيحرم إذ لا حاجة اليه. (فتح المعين/٢٢٠) قال الامام محمد الزحيلي: وخرج بالنظر المس فلا يجوز، اذ لا حاجه اليه…. ويحرم كذلك المس بين الأجنبية والأجنبي، لانه ابلغ من النظر في التلذد وإثارة الشهوه. (المعتمد: ٤٩–٤/٤٨) قال الامام إبن حجر الهيتمي: (ولا ينظر)…(غير الوجه والكفين) من رؤوس الاصابع الى الكوع ظهرا وبطنا بلا مس شيء منهما (تحفة مع الحواشي:٩/١٨) شرح المنهاج في الفقه:٦/١٢ مغني المحتاج:٥/٣٠
فقہ شافعی سوال نمبر / 1272 مساجد میں فقراء و مساکین کے لیے تعاون کی اپیل کرنا یا ان کی مانگنے کی اجازت دینے کا کیا حکم ہے؟ مساجد میں مسکین و سائل کو تعاون کی اپیل کرنا یا ان کو مانگنے کی اجازت دینا جائز ہے جبکہ مانگنے میں کوئی غیر شرعی کام نہ ہو مثلا خواتین کی بے پردگی وغیرہ نیزاس کے مانگنے سے صفوں میں خلل یا نمازیوں کو تکلیف نہ ہو اگر مانگنے کی وجہ سے مسجد میں شور و غل اور نمازیوں کو تکلیف ہو تو مسجد میں مانگنا مکروہ ہے۔ امام نووی فرماتے ہیں:ولا بأس بان يعطي السائل في المسجد شيئا لحديث عبد الرحمن ابن ابي بكر. (المجموع/۱) علامہ ابن العماد فرماتے ہیں: وينبغى أن يمنع السائل من رفع الصوت بالسوال في المسجد ومشيه بين الصفوف وأمام المصلين فان ذلك حرام. (تسهيل المقاصد لزوار المساجد/٢٧٥) اسنى المطالب:٣٨٢/١ حواشي الشرواني علي تحفة المحتاج.٤٢٧/٢ فتح العلام:٢٦٥/١