درس حدیث نمبر 0038
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
(عید الفطر خطبۃ 1437 ) اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: مقاصدِعید و خارجبوں كے لئے وعید
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة النساء – آيت نمبر -089-090 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سوال نمبر/ 0211
رمضان میں ایک شخص نے بیماری کی بناء پر چار/4روزے چھوڑدئے تھے اور پھر وہ صحت یاب بھی ہوگیا تھا اب رمضان کے بعد قضاء کرنے کا ارادہ تھا لیکن چھ سات ماہ کے بعد اس کا انتقال ہوگیا اور وہ قضا نہ کرسکا تو اب اس کا بھائی یا کوئی رشتہ دار اس کی طرف سے قضا کرسکتا ہے یا نہیں؟
جواب: فقہاء نے نقل کیا ہے کہ کسی شخص پر فرض روزوں کی قضاء باقی ہو اور اس کے لئے ان روزوں کی قضاء کے لٰئے وقت بھی مل گیا تھا لیکن نہیں رکھا اور اس کا انتقال ہوگیا تو
اس کے ایک روزے کے بدلے ایک مد اناج فدیہ غریبوں میں تقسیم کیا جائے گا یا اس کا ولی یا رشتہ دار اس کی طرف سے ان روزوں کی قضا کریگا اس لٰئے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کا اس حال میں انتقال ہوجائے کہ اس پر فرض روزے باقی ہوں تو اس کا ولی و رشتہ دار اس کی طرف سے روزہ رکھےگا (بخاری/1952)
فَوَاتُ نَفْسِ الصَّوْمِ، فَمَنْ فَاتَهُ صَوْمُ يَوْمٍ مِنْ رَمَضَانَ وَمَاتَ قَبْلَ قَضَائِهِ فَلَهُ حَالَانِ. أَحَدُهُمَا: أَنْ يَمُوتَ بَعْدَ تَمَكُّنِهِ مِنَ الْقَضَاءِ، سَوَاءٌ تَرَكَ الْأَدَاءَ بِعُذْرٍ أَمْ بِغَيْرِهِ، فَلَا بُدَّ مِنْ تَدَارُكِهِ بَعْدَ مَوْتِهِ. وَفِي صِفَةِ التَّدَارُكِ قَوْلَانِ. الجَدِيدُ: أَنَّهُ يُطْعَمُ مِنْ تَرِكَتِهِ عَنْ كُلِّ يَوْمٍ مُدٌّ (روضۃ الطالبين 2 / 246)
Question No/0211
A person skipped 4 fasts of previous Ramadhan due to illness and later he recovered, he aimed to make up the missed fasts after Ramadhan but he died after 6-7 months and didnot make the missed fasts up.. so can his brother or any relative make these missed fasts up on behalf of him?
Ans; The jurists(fuqaha) narrated that if a person’s qaza fasts remain pending and he was able to make the fasts up but he did not do so and he died then for each fast, fidya(expiation) of one mudd of food may be distributed among the poor or his heirs/ relative/guardian may fast on his behalf the number of days that he did not fast So Hazrat Aaisha RA narrated that the messenger of Allah(peace and blessings of Allah be upon him) said "Whoever dies owing fasts,his heir should fast on his behalf”
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة النساء – آيت نمبر -088 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
سوال نمبر/ 0055
اگر سجدے میں پیشانی پر بال یا ٹوپی وغیرہ حائل ہو توسجدہ درست ہوگا یا پیشانی کا کھلا رکھنا ضروری ہے؟
جواب :حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و سلم نے حکم دیا ہے کہ سجدہ میں سات اعضاء کو زمین پر رکھا جائے اور بال یا کوئی کپڑا حائل نہ رہے. (مسلم)
دوسری ایک حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک شخص سے کہا کہ سجدہ کرو اور اپنی پیشانی کو زمین سے ٹیک دو (مستدرک حاکم/881)
ان احادیث کی روشنی میں علماء لکھتے ہیں کہ سجدے میں
کھلی پیشانی کا زمین پر رکھنا فرض ہے. اگر بدن سے متصل کوئی کپڑا (یعنی ٹوپی، دوپٹہ وغیرہ) یا بال درمیان میں آئے تو سجدہ درست نہیں ہوگا. اور جب سجدہ درست نہیں ہوگا تو نماز بھی درست نہیں ہوگی.
والله أعلم
📌. قال الإمام ابن حجر الهيتمي (ر)
(قَوْلُهُ فَلَوْ سَجَدَ) ……. عَلى شَعْرٍ إلَخْ) وكَذا لَوْ سَجَدَ عَلى سِلْعَةٍ نَبَتَتْ بِجَبْهَتِهِ لِأنَّها جُزْءٌ مِنهُ بِخِلافِ ما لَوْ سَجَدَ عَلى نَحْوِ يَدِهِ فَإنَّهُ يَضُرُّ شَيْخُنا (قَوْلُهُ بِجَبْهَتِهِ أوْ بِبَعْضِها)
خَرَجَ بِهِ الشَّعْرُ النّازِلُ مِن الرَّأْسِ فَلا يَكْفِي السُّجُودُ عَلَيْهِ ومِثْلُهُ شَعْرُ اللِّحْيَةِ واليَدَيْنِ تَحَرَّكَ بِحَرَكَتِهِ أمْ لا (١)
📌. وخَرَجَ بِهِ الشَّعْرُ النّازِلُ مِن الرَّأْسِ فَلا يَكْفِي السُّجُودُ عَلَيْهِ، ومِثْلُهُ شَعْرُ اللِّحْيَةِ واليَدَيْنِ تَحَرَّكَ بِحَرَكَتِهِ أمْ لا ما عَدا شَعْرَ الجَبْهَةِ. (٢)
📌. يشترط لصحة السجود مراعاة الأمور التالية:
(أ) كشف الجبهة عند ملامستها الأرض.
(ب) أن يكون السجود على سبعة أعضاء، وهي التي عدها النبي – ﷺ – بقوله: «أمرت أن أسجد على سبعة أعظم: على الجبهة – وأشار بيده على أنفه – واليدين والركبتين وأطراف القدمين»
ولكن لا يجب أن يكشف من هذه الأعضاء إلا الجبهة. (٣)
🔰📚 المراجع 📚🔰
(١). تحفة المحتاج في شرح المنهاج وحواشي الشرواني والعبادي ٢/٧٠
(٢). نهاية المحتاج إلى شرح المنهاج ١/٥١٠
(٣). الفقه المنهجي على مذهب الإمام الشافعي ١/١٣٥
﷼. حاشية الجمل على شرح المنهج ١/٣٧٥
﷼. حاشية البجيرمي على شرح المنهج ١/٢١١
Fiqha Shafi Question no:0055
If hair or cap or scarf etc comes in between forehead and the ground in Sajdah then does Sajdah will be valid? Or is it necessary to keep the forehead uncovered?
Ans;
Hazrat Abdullah bin Abbas Radhiallahu anhuma says that The Messenger of Allah( peace and blessings of Allah be upon him) ordered that while performing sajdah 7 parts of the body should touch the ground and there should not be any garment or hair in between them ..
(Sahih Muslim )
In one of the hadeeth, the Messenger of Allah sallallahu alaihi wasallam said to a man;” Perform Sujood and let your forehead touch the ground..
(Mustadrak Haakim 881)
In the light of this hadeeth the scholars writes that making forehead touch the ground while performing sujood is obligatory( farz).. if any garment from the body (cap or dupatta etc) falls between forehead and the ground then the sajdah will not be valid and if the sajdah is not valid then the prayer also will not be valid…