فقہ شافعی سوال نمبر / 1270 تہجد کی نماز میں بلند آواز سے قرات کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟ تہجد کی نماز پڑھنے والے کے لیے آہستہ یا اتنی آواز سے قراءت کرنا جائز جس سے دوسروں کی نیند میں خلل نہ ہو، ہاں اگر کوئی دوسرا موجود نہ ہو یا آواز نہ پہنچتی ہو تو بلند آواز میں قرات پڑھنا جائز ہے اور عورتوں کے لیے بہتر یہی ہے کہ آہستہ تلاوت کریں قال الدميري رحمة الله عليه :والأصح أن نوافل الليل يتوسط فيها بين الجهر والإسرار ، وقال المتولي : يستحب فيها الجهر إلا إذا كان عنده مصلون أو نيام يشوش عليهم فيسر. (النجم الوهاج:٣١٧/٢) المهمات : ٧١/٣ روضة الطالبين: ٣٥٣/١ أسنى المطالب : ٣٢١/١ المجموع: ٣٤٥/٣
فقہ شافعی سوال نمبر / 1269 کیا ہر سفر میں باوجود امن و امان کے قصر کرنا ہے یا جس سفر میں خوف ہو اسی سفر میں نمازوں کو قصر کرنا ہے؟ نماز کو قصر کرنا صرف خوف کی حالت کے ساتھ خاص نہیں ہے۔ بلکہ سفر میں امن کی حالت میں بھی قصر کی اجازت ہے البتہ سفر مسافت قصر کے مطابق ہو اصحاب فقہ المنہجی فرماتے ہیں:عن يعلى بن أمية قال: قلت لعمر بن الخطاب:﴿ليس عليكم جناح أن تقصروا من الصلاة إن خفتم أن يقتنكم الذين كفروا} فقد أَمِنَ الناس؟ فقال: عجبت مما عجبت منه، فسألت رسول الله ﷺ عن ذلك، فقال: «صدقة تصدق الله بها عليكم، فاقبلوا صدقته». وهذا يدل على أن قصر الصلاة ليس خاصًا بحالة الخوف (الفقه المنهجي:1/ 179) بحر المذهب:11/ 179 عجالة المحتاج:1/ 342 التعليقة للقاضي حسين:3/ 150