فقہ شافعی سوال نمبر / 1273 اگر کسی شخص کے ذمہ مختلف قسم کے روزے باقی ہوں (قضا، کفارہ قسم، نذر) اور اسے یاد نہ ہو کہ اس کی تعداد کتنی ہے تو اس صورت میں قضا کیسے مکمل کرے گا؟ اگر کسی کے ذمہ مختلف قسم کے روزے مثلا رمضان کے قضا روزے، کفارے کے روزے، یا قسم کے روزے نذر کے روزے اور اسے معلوم نہ ہو کہ کتنے روزے قضا ہیں تو اس پر لازم ہے کہ وہ احتیاطا اس وقت تک روزے رکھے جب تک اسے ظن غالب ہوجائے کہ اس کے تمام قضا روزے مکمل ہوگئے ہیں۔ یعنی وہ زیادہ سے زیادہ تعداد میں روزے رکھے تاکہ کوئی قضا باقی نہ رہے۔ قال الامام الرملي رحمة الله عليه: ومن عليه فوائت لا يعرف عددها قال القفال يقضي ما تحقق تركه فقال القاضي الحسين يقضي ما زاد على ما تحقق فعله وهو الا صح نهايه المحتاج 1/ 383 التعليقات للقاضي حسين/ 2/ 476 الفتاوى الفقهيه الكبرى:1/ 225 النجم الوهاج:2/ 30 حاشيه البجيريمي1/ 406
فقہ شافعی سوال نمبر / 1272 جماع کے دوران اگر اذان ہوجائے تو کیا دوران جماع اذان کا جواب دینا جائز ہے یا جماع کو روک کر جواب دینا ہوگا؟ اگرجماع کے دوران اذان ہوجائے تو اس وقت جواب نہ دیں اس لئے کہ جماع کے دوران اذان کا جواب دینا مکروہ ہے۔ البتہ جماع سے فارغ ہوکر اذان کا جواب دیں۔ قال ابن حجرالهيتمي رح: ويقطع للإجابة نحو القراءة والدعاء والذكر وتكره (الإجابة) لمن في صلاة…. ولمجامع وقاضي حاجة، بل يجيبان بعد الفراغ. (تحفة المحتاج مع الحواشي: ١١٠/٢) حاشية الجمل: ٤٨٥/١ المجموع : ١٢٥/٣ حاشية البجيرمي على الخطيب: ١٧٤/١ فتح المعين:٧٣