بھٹكل جامع مسجد عربی خطبہ – 07-06-2024
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 1201
بیت اللہ کا طواف ننگے پاوں کرنا ہے یا چپل پہن کر کرنے کی اجازت ہے؟
بیت اللہ کا طواف ننگے پاؤں کرنا افضل ہے.ہاں اگر سخت گرمی ہو اور بغیر چپل طواف کرنا دشوار ہو تو پاک چپل پہن کر طواف کرنے کی گنجائش ہے۔
ابن ملقن فرماتے ہیں: الافضل ان يطوف حافيا.
عمدة المحتاج: ٥/٤٣٠
علامہ حضرمی فرماتے ہیں: ويستحب دخول مكة قبل الوقوف، ومن اعلانات نهارا ماشية حافيا، وأن يطوف للقدوم ان كان حاجا أو قارنا.
المقدمة الحضرمية: ٤٣٠
علامہ ابن حجر ہیتمی فرماتے ہیں:الاولى ان يكون حافيا، وهو ما جزم به في المجموع واعتمدت غيره بل قال الحليمي يسن المشى والحلفاء من اول الحرم و يؤيده ما رواه ابن ماجه.
حاشية ابن حجر الهيتمي على شرع الايضاح:٢٣١
ويسن ايضا الجفاء اي عدم الانتعالية الا اعذرني، كندة الحر، وعليه حمل ما نقل عن السلف انهم يطوفون بنعالهم، وكذا ما ورد : (انه ﷺ طاف بنعلين) على انه يحتمل انه لبيان الجواز.
حاشية الترمذي:٦/٢١٥
اسنى المطالب:٣٥٢
شرح التنبيه/٣٦١
النجم الوهاج: ٣/٤٦٩
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 1258
حاجی حضرات کے لیے عشرہ ذی الحجہ یعنی 1 ذی الحجہ سے دس ذی الحجہ کے دنوں میں روزہ رکھنے کا کیا حکم ہے؟
حاجی حضرات کے لیے 1 ذی الحجہ سے 8 ذی الحجہ یعنی عرفہ کے دن یعنی 9 ذی الحجہ سے پہلے کے اٹھ دن کے روزے رکھنا سنت ہے اور عرفہ کے دن کا روزہ رکھنا حاجیوں کے لیے سنت نہیں ہے۔ بلکہ اس دن حاجی کے لیے روزہ نہ رکھنا افضل ہے۔
قال الخطيب الشربيني: ويسن ايضا صوم الثمانية ايام قبل يوم عرفة كما صرّح به في الرّوضة ولم يخصه بغير الحاج فيسنّ صومها للحج وغيره اما الحاج فلا يسن له صوم يوم عرفته فليسن له فطره وان كان قوياقويا.
(مغني المحتاج: ٢ / ٥٩٨)
عمدة المحتاج: ٥ / ٢٢٧
الديباج : ١ / ٦٣٣
بداية المحتاج : ٢ / ٥٩١
بجيرمي علي الخطيب: ٢ / ٤٠٤
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
فقہ شافعی سوال نمبر / 1257
قربانی کے جانور میں اگر زبان نہ ہو تو اس جانور کی قربانی کا کیا حکم ہے؟
قربانی کے جانور میں اگر زبان نہ ہو یا زبان کا کچھ حصہ کٹ جائے تو اس جانور کی قربانی نہیں ہوگی۔ چونکہ زبان کا نہ ہونا ایک طرح کا عیب ہے اور قربانی درست ہونے کے لیے جانور کا عیب سے پاک ہونا شرط ہے۔
قال الامام جلال الدين المحلي رحمة الله عليه: وشرطها اي الاضحية لتجزء سلامة من عيب ينقص لحماً…..﴿قليوبي) ومقطوعة بعض اذن ففاقدتها ولو خلقة لا تجزئ بالاولى لانها عضو لازم للحيوان….. ولا تجزئ مقطوعة بعضِ اللسان.
(حاشيتا القليوبي وعميره ٥/ ٣٦٦٠،٣٦٦١)
قال الامام خطيب شربيني رحمة الله عليه: ولا مقطوعة بعض اذن، وان كان يسيرا…. او بقطع بعض لسان، فانه يضر لحدوث ما يؤثر في نقص اللحم
(مغنى المحتاج ٧/١٢٣)
حواشي الشرواني وابن القاسم العبادي: ٢٦١/١٢
نهاية المحتاج مع حاشية ابي الضياء و هاشية احمد عبد الرزاق:١٣٥/٨
بجيرمي على الخطيب ٣٣٦/٤