منگل _21 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر. / 1227
والدین اگر کمانے پر قادر ہو لیکن نہیں کما رہے ہوں یا کمانے پر قادر نہ ہو تو اولاد کا والدین کو کمانے پر مجبور کرنے کا کیا حکم ہے؟
اسلام میں والدین کے ساتھ ہر حال میں حسن سلوک کا حکم دیا گیا ہے۔ اولاد اگر مالدار ہو اور والدین کمانے سے عاجز ہوں تو اولاد پر والدین کا نفقہ واجب ہوگا اگر اولاد مالدار نہ ہو اور والدین کمانے سے عاجز یا بیمار بھی نہ ہو تب بھی والدین کے ساتھ حسن سلوک کا تقاضا یہ ہے کہ ان کو کمانے پر مجبور نہیں کیا جائے گا اور بہرحال والدین کا نفقہ اولاد ہی پر واجب ہوگا ۔
علامہ غمراوی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: وتجب لفقير غير مكتسب ان كان زمنا وكذا العاجز بمرض او اعمى او صغيرا او مجنونا والا بان قدر على الكسب ولم يكتسب فاقوال: احسنها تجب مطلقا للاصل والفرع او لا تجب مطلقا والثالث تجب للاصل لا فرع قلت الثالث أظهر. (السراج الوهاج ٤٧٣)
دكتور محمد مطرحي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وان كان من الاصول وجبت على الاظهر نفقته، لان الله تعالى امر بمصاحبتهم في الدنيا بالمعروف وليس من المعروف ان يكلفوا الاكتساب مع كبر السن لحرمة الوالدين. (المجموع ١٩/٤٠٣)
علامه زحيلي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ان يكون الاصل فقيرا او عاجزا عن الكسب فان كان قادرا على الكسب فتجب ايضا نفقته عند….. الشافعيه في الأظهر ، لان الله تعالى امر بالاحسان الى الوالدين وفي الزام الاباء بالاكتساب مع غنى الابناء ترك للاحسان اليهم وايذائهم هولايجوز ويقبح بالانسان ان يكلف قريبه الكسب مع اتساعه ماله. (الموسوعة الفقه الاسلامي ٨/٧٨٢)
روضة الطالبين ٩/٨٤
(البيان ١١/٢١٩)
منگل _21 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
اتوار _19 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
اتوار _19 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
اتوار _19 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
ہفتہ _18 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير
ہفتہ _18 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ عبد الرحمن بن عبدالعزيز السديس
ہفتہ _18 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
جمعہ _17 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبد الاحد فکردے صاحب ندوی
جمعہ _17 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
جمعہ _17 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
جمعہ _17 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
جمعرات _16 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1226
اگر کسی پر قرض ہو تو اس کے لیے نفلی صدقات کرنے کا کیا حکم ہے؟
اگر کسی کے ذمہ قرض ہو تو اس شخص کے لیے مستحب یہ ہے کہ قرض ادا ہونے تک نفلی صدقات نہ کرے۔ اگر نفلی صدقہ و خیرات کرنے سے قرض ادا نہ کرسکتا ہو تو پھر نفلی صدقہ و خیرات کرنا حرام ہوگا۔
علامه كمال الدين الدميري رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وَمَنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ أَوْ لَهُ مَنْ تَلْزَمُهُ نَفَقَتُهُ… يُسْتَحَبُّ أَنْ لاَ يَتَصَدَّقَ حَتَّى يُؤَدِّيَ مَا عَلَيْهِ*
النجم الوهاج:٦/٤٨١
دكتور وهبه الزحيلي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: يستحب ألا يتصدق من عليه دين، أو من تلزمه نفقة لنفسه أو عياله، حتى يؤدي ما عليه. والأصح عند الشافعية تحريم الصدقة من مدين لا يجد لدينه وفاء. (الفقه الاسلامي وأدلته: ٢/٩٢١)
امام شمس الدين محمد بن خطيب شربيني رحمة الله عليه فرماتے ہیں:وَمَنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ أَوْ وَلَهُ مَنْ تَلْزَمُهُ نَفَقَتُهُ يُسْتَحَبُّ أَنْ لَا يَتَصَدَّقَ حَتَّى يُؤَدِّيَ مَا عَلَيْهِ. (مغني المحتاج ٥/٨)
بدايه المحتاج في شرح المنهاج ٢/٦٩٧
نهاية المحتاج ٦/١٧٤
منگل _14 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1225
رہن میں رکھی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھانے کی شرط لگاکر رہن میں رکھنے کا کیا مسئلہ ہے اگر کوئی قرض دیتے وقت قرض لینے والے سے یہ شرط لگائے کہ تم مجھے اپنی گاڑی، گھر وغیرہ بطور رہن دے دو تاکہ میں اس کو استعمال کرسکوں تو اس طرح کی شرط کے ساتھ رہن میں رکھنے کا کیا مسئلہ ہے؟
رہن میں رکھی ہوئی چیز کو معاملہ کے وقت ہی فائدہ اٹھانے کی شرط لگانا درست نہیں ہے ہاں اگر معاملہ کرتے وقت ایسی کوئی شرط نہ ہو بلکہ بعد میں رہن میں رکھنے والا شخص اپنی مرضی سے اس چیز کے استعمال کرنے کی اجازت دے تو رہن میں رکھنے والے کے لیے اس چیز سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔
قال الإمام الخطيب الشربيني رحمة الله عليه: وَإِنْ نَفَعَ الشَّرْطُ الْمُرْتَهِنَ، وَضَرَّ الرَّاهِنَ كَشَرْطِ مَنْفَعَتِهِ لِلْمُرْتَهِنِ بَطَلَ الشَّرْطُ لِحَدِيثِ «كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى فَهُوَ بَاطِلٌ (وَكَذَا) يَبْطُلُ (الرَّهْنُ فِي الْأَظْهَرِ) لِمُخَالَفَةِ الشَّرْطِ مُقْتَضَى الْعَقْدِ. مغني المحتاج: ٣٩/٣
قال الإمام اارافعي رحمة الله عليه:ليس للمرتهن في المرهون سوى حق الاستيثاق (أما) البيع وسائر التصرفات القولية الانتفاعات وسائر التصرفات العقلية فهو ممنوع من جميعها. العزيز: ١٤١/١٠
قال اصحاب الفقه المنهجي:وأما إذا لم يكن الانتفاع للمرتهن مشروطًا في العقد فهو جائز، ويملكه المرتهن، لأن الراهن مالك، وله أن يأذن بالتصرّف في ملکه. الفقه المنهجي: ١٢٧/٧
نهاية المحتاج: ٢٣٥/٥
تحفة المحتاج: ٥٢/٥
منگل _14 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ حسين بن عبدالعزيز آل الشيخ