بدھ _6 _دسمبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1230
مدرسہ یا مسجد وغیرہ کے لئے زمین کو وقف کرنے کے بعد اس کی نگرانی اپنے یا اپنی اولاد کے لئے متعین کرنے کی شرط لگانے کا کیامسئلہ ہے؟
اگر کوئی اس شرط کے ساتھ زمین کو مسجد یا مدرسے کے لیے وقف کر دے کہ اس کی اولاد میں سے ہی اس کا کوئی ذمدار رہے گا (جو ذمہ داری کی صلاحیت رکھتا ہو) تو اس شرط کے ساتھ زمین کو مسجد یا مدرسہ کے لیے وقف کرنا درست ہے اور اسے صرف زمین کی حد تک نگرانی کا حق حاصل ہوگا۔مسجد یا مدرسہ میں کسی قسم کی دخل اندازہ کا اختیار نہیں ہوگا
امام ابو الخیر العمرانی رحمة الله عليه علیہ فرماتے ہیں: وأما النظر في الوقف: فإن جعل الواقف النظر فيه لنفسه أو لغيره.. حمل على ذلك. (البیان ۸/۸۸)
علامه كمال الدين دميري رحمة الله عليه فرماتے ہیں: إن شرط الواقف النظر لنفسه أو غيره… اتبع) سواء قلنا: الملك له أو للموقوف عليه، وسواء فوضه في الحياة أو أوصى به، فكل منهما معمول به بشرط أن يكون التفويض في صلب الوقف أن له ذلك؛ لأنه المتقرب بصدقه فهو أحق من يقوم بإمضائها وصرفها إلى مصارفها. النجم الوهاج في شرح المنهاج:٥/٥١٩
صواحب المنهجي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: أحقّ الناس بالولاية على الموقوف هو من يعيّنه الواقف نفسه. فإن شرط النظر على الوقف لنفسه، كان له النظر عليه، وكان أولى الناس به، وإن شرطه لغيره واحدًا كان أو أكثر اتُبع شرطه. (الفقه المنهجي :٢/٢٣٣)
نهاية المهتاج الى شرح المنهاج:٥/٣٩٧
الموسوعة الفقهية الكويتية:٤٤/٢٠٤
روضة الطالبين/٩٥٠
اتوار _3 _دسمبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
ہفتہ _2 _دسمبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ عبد الباري بن عواض الثبيتي
ہفتہ _2 _دسمبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ فيصل بن جميل غزاوي
ہفتہ _2 _دسمبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
ہفتہ _2 _دسمبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
جمعہ _1 _دسمبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبد الاحد فکردے صاحب ندوی
جمعہ _1 _دسمبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
جمعہ _1 _دسمبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
جمعہ _1 _دسمبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
جمعہ _1 _دسمبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
جمعہ _1 _دسمبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
جمعہ _1 _دسمبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
جمعہ _1 _دسمبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1229
اگر کوئی تنگدست آدمی عمرہ کے لیے زکات کی رقم طلب کرے تو ایسے شخص کو زکات کی رقم دینے کا کیا حکم ہے؟
غریب و تنگدست آدمی پر حج اور عمرہ فرض نہیں اور زکات کا مال صرف حج و عمرہ کے لیے دینا جائز نہیں ہے ہاں اگر کوئی غریب یا تنگدست آدمی کو غربت کی وجہ سے زکاۃ دی جائے اور وہ ان پیسوں سے حج یا عمرہ کرے تو کوئی حرج نہیں ہے صرف حج یا عمرہ کی نیت سے مانگ کر لوگوں سے زکات کی رقم وصول کرنا اور حج یا عمرہ کرنا جائز نہیں
وليس الحج والعمرة من هذه المصارف عند الجمهور، فقد اختلف العلماء في جواز دفع الزكاة لمن لا يستطيع الحج أو العمرة لكي يحج ويعتمر، والمعتمد في مذهب الحنابلة الجواز، وذهب الجمهور إلى المنع، ومذهب الجمهور هو الصحيح، ورجح المنع جمع من محققي الحنابلة، منهم الموفق ابن قدامة. (فتاوي دار المصرية)
ومال إلى المنع أيضا العلامة العثيمين رحمه الله، حيث سئل رحمه الله السؤال التالي: هل يجوز للإنسان أن يعطي شيئا من زكاته لمن أراد أن يحج؟ فأجاب رحمه الله بقوله: أما إذا كان الحج نفلا فلا يجوز أن يعطى من الزكاة، وأما إذا كان فريضة فذهب بعض أهل العلم إلى جواز ذلك، وأن تعطيه ليحج الفريضة، وفي نفسي من هذا شيء؛ لأنه لا فريضة عليه ما دام معسرا، وإذا كان لا فريضة عليه فلا يجوز أن يعطى من الزكاة۔. (الفتوى/١٢١٩٠٩)
إن الأصناف الثمانية هم المستحقون للزكاة حصراً، فلا تصرف لغيرهم، لأن نص الآية أفاد الحصر، فقال تعالى: ﴿ إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ.. التوبة : ٦٠] والمقصود من (الصدقات) الزكاة المفروضة لقوله تعالى في آخر لآية ﴿ فَرِيضَةً مِّنَ اللهِ، فلا يجوز دفعها لبناء المسجد أو غير ذلك، أما غير الزكاة من الصدقات المتطوع بها فيجوز صرفها لهم ولغيرهم۔. (المعتمد:٢-١١٨)
كتاب الفقه على مذهب الأربعة:٢-١٥١
بدھ _29 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1228
مطلق سنت نماز ایک رکعت پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
مطلق سنت نمازیں دو دو رکعت یعنی ایک تشہد اور ایک سلام کے ساتھ پڑھنا سنت ہے۔ لیکن اگر کوئی ایک رکعت ایک تشہد اور ایک سلام کے ساتھ پڑھنا چاہے تب بھی درست ہے۔
إنْ تَطَوَّعَ بركعة فلابد مِنْ التَّشَهُّدِ عَقِبَهَا وَيَجْلِسُ مُتَوَرِّكًا كَمَا سَبَقَ بَيَانُهُ فِي بَابِهِ وَإِنْ زَادَ عَلَى رَكْعَةٍ فَلَهُ أَنْ يَقْتَصِرَ عَلَى تَشَهُّدٍ وَاحِدٍ فِي آخر صلاته۔. (المجموع: ٤/٥٠)
ولا حصر للنفل المطلق، وله أن يقتصر على ركعة بتشهد مع سلام بلا كراهة، فإن نوى فوق ركعة فله التشهد في كل ركعتين. فتح المعين:١/١٦٩
ثُمَّ إِنْ تَطَوَّعَ بِرَكْعَةٍ، فَلَا بُدَّ مِنَ التَّشَهُّدِ. وَإِنْ زَادَ عَلَى رَكْعَةٍ، فَلَهُ أَنْ يَقْتَصِرَ عَلَى تَشَهُّدٍ فِي آخِرِ صَلَاتِهِ. إعانة الطالبين. ١/٣١٠
روضة الطالبين: ١/٣٣٦
فتح العزيز. ٤/٢٧٣