درس حدیث نمبر 0710
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 1252
طواف وداع میں نیت کرنے کا کیا حکم ہے؟
طواف وداع چوں کہ حج کے مناسک میں داخل نہیں ہے اس لئے حج کی نیت اس کے لئے شامل نہیں ہے اس بناء پر طواف وداع میں مستقل نیت کرنا ضروری ہے۔
وَسَابِعُهَا نِيَّةُ الطَّوَافِ إنْ لَمْ يَشْمَلْهُ نُسُكٌ كَسَائِرِ الْعِبَادَاتِ، وَطَوَافُ الْوَدَاعِ لَا بُدَّ لَهُ مِنْ نِيَّةٍ كَمَا قَالَهُ ابْنُ الرِّفْعَةِ وَلِأَنَّهُ لَيْسَ مِنْ الْمَنَاسِكِ عِنْدَ الشَّيْخَيْنِ كَمَا سَيَأْتِي بِخِلَافِ مَا شَمِلَهُ نُسُكٌ، وَهُوَ طَوَافُ الرُّكْنِ وَالْقُدُومِ فَلَا يَحْتَاجُ إلَى نِيَّةِ لِشُمُولِ نِيَّةُ النُّسُكِ لَهُ اهـ. حاشیۃ الشروانی 5/131
المھمات :4/334
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فضيلة الشيخ حسين بن عبدالعزيز آل الشيخ
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
مولانا عبد الاحد فکردے صاحب ندوی
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
فقہ شافعی سوال نمبر / 1251
کسی طواف کے بعد اگر صلاۃ الطواف باقی رہ جائے تو وطن لوٹنے کے بعد ادا کرسکتے ہیں یا مسجد حرام میں ہی ادا کرنا چاہیے؟
اگر کسی کو طواف کے بعد کی دو رکعت پڑھنے کا موقع نہ ملے اور شخص واپس اپنے مقام پر پہنچ جائے اور وہ طواف وداع کی نیت سے دو رکعت نماز پڑھنا چاہے تو گھر لوٹنے کے بعد بھی پڑھ سکتا ہے
والسنة أن يُصليهما خَلْفَ المَقَامِ فإن لم يصلهما خلف المقام الزحمة أو غيرها صَلاهُما فى الحِجْر فإن لم يَفْعَلْ فَفِى الْمَسْجِدِ وَإِلا فَقَى الْحَرَم والا فخارج الْحَرَمِ ولا يتعين لَهُما مكان ولا زمَانٌ بَلْ يَجُورُ أَنْ يُصَلِّيهُما بَعْدَ رُجُوعِهِ إِلَى وَطَنِهِ وَفِي غَيْرِهِ ولا يَفُوتَانِ مَا دَامَ حَيَّا
حَاشِيَة ابن حجر الهيتمي على شرح
الايضاح:288,289
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی