حالات کی تبدیلی کے لئے رجوع و انابت الی اللہ اور دعاؤں کے اہتمام کی تاثیر – 06-02-2024
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
بزبانِ نوائطی
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
بزبانِ نوائطی
فقہ شافعی سوال نمبر / 1246
اگر کسی عورت سے متعلق طبی علاج کے بعد یا معائنہ کے بعد یہ معلوم ہو جائے کہ اس میں ولادت کی صلاحیت نہیں ہے تو اس عورت سے نکاح کرنے کا کیا حکم ہے؟
نکاح کے بہت سارے مقاصد ہیں اس میں سے ایک مقصد یہ ہے کہ انسان پاک دامن رہے اپنی خواہشات کو حلال طریقے سے پورا کرے اور دوسرا مقصد یہ ہے کہ اس سے نسل انسانی کی ترویج بھی ہو۔ اگر طبی ذرائع سے یقینی طور پر کسی شخص کے تعلق سے یہ بات معلوم ہو کہ ولادت کی صلاحیت نہیں ہے تب بھی اس سے نکاح کرنا یا شادی کرنا جائز ہے۔ البتہ حدیث پاک میں اس بات کی ترغیب دی گئی ہے کہ اس شخص سے یا اس عورت سے شادی کی جائے جس میں ولادت کی صلاحیت ہو اس سے نکاح کرنا چاہیے۔
وقال المناوي رحمة الله عليه: «تزوج غير الولود مكروه تنزيهًا» انتهى.وكما يجوز للمرأة أن تتزوج من الرجل العقيم، فكذلك يجوز للرجل أن يتزوج من المرأة العقيم.*
فيض القدير: ٦/٩٧٧٥
وَيُنْدَبُ لِمُرِيدِ النِّكَاحِ أَنْ يَنْكِحَ (الْوَلُودَ) الْوَدُودَ لِخَبَرِ «تَزَوَّجُوا الْوَلُودَ الْوَدُودَ فَإِنِّي مُكَاثِرٌ بِكُمْ الْأُمَمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ۔
(الغرر البهية: ٤/٩٣)
التهذيب: ٥/٢٣٣
الوسيط: ٥/٢٧
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
فضيلة الشيخ عبد المحسن بن محمد القاسم
فضيلة الشيخ أسامة بن عبدالله الخياط
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
مولانا عبد الاحد فکردے صاحب ندوی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی