منگل _8 _اگست _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1188
کتنی دور سے غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے کی گنجائش ہے میت کا شہر یا گاؤں سے قصر کی مسافت کے بقدر دور ہونا ضروری ہے؟
جی ہاں عام حالات میں غائبانہ نماز جنازہ پڑھنے کے لیے یہ ضروری ہے کہ میت اس کے شہر سے باہر ہو چاہیے قریب والے گاوں یا بستی میں ہی کیوں نہ ہو اس میں مسافت قصر کی قید نہیں ہے البتہ نماز میت کی موجودگی میں پڑھنا افضل ہے
وَيُصَلَّى عَلَى الْغَائِبِ عَنْ الْبَلَدِ) وَلَوْ فِي مَسَافَةٍ قَرِيبَةٍ دُونَ مَسَافَةِ الْقَصْرِ۔ نهاية المحتاج: ٤٨٥/٢
(وَيُصَلَّى عَلَى الْغَائِبِ عَنْ الْبَلَدِ) وَإِنْ قَرُبَتْ الْمَسَافَةُ*۔ مغني المحتاج: ٢٧/٢
(وَيُصَلَّى عَلَى الْغَائِبِ عَنْ الْبَلَدِ) بِأَنْ يَكُونَ بِمَحَلٍّ بَعِيدٍ عَنْ الْبَلَدِ بِحَيْثُ لَا يُنْسَبُ إلَيْهَا عُرْفًا*۔ تحفة المحتاج: ١٤٩/٣
(وَ) تَصِحُّ (عَلَى غَائِبٍ عَنْ الْبَلَدِ) وَلَوْ دُونَ مَسَافَةِ الْقَصْر*۔ (حاشية البجيرمي: ٤٧٩/١)
پیر _7 _اگست _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
پیر _7 _اگست _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
پیر _7 _اگست _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
جمعہ _4 _اگست _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
جمعہ _4 _اگست _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
جمعہ _4 _اگست _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
جمعہ _4 _اگست _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
جمعہ _4 _اگست _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
جمعہ _4 _اگست _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1187
کیا تنہا شخص غائبانہ نماز جنازہ پڑھ سکتا ہے یا جماعت کے ساتھ ہی پڑھنا ضروری ہے؟
اگر کوئی شخص تنہا غائبانہ نماز جنازہ پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے۔ غائبانہ نماز جنازہ درست ہونے کے لیے جماعت کے ساتھ پڑھنا ضروری نہیں
*امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: إذَا حَضَرَ مَنْ لَمْ يُصَلِّ عَلَيْهِ بَعْدَ دَفْنِهِ وَأَرَادَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ فِي الْقَبْرِ أَوْ أَرَادَ الصَّلَاةَ عَلَيْهِ فِي بَلَدٍ آخَرَ جَازَ بِلَا خِلَافٍ*. (المجموع:٢٠٣/٥)
*امام نووى رحمة الله عليه فرماتے ہیں: تَجُوزُ الصَّلَاةُ عَلَى الْغَائِبِ بِالنِّيَّةِ وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِ جِهَةِ الْقِبْلَةِ وَالْمُصَلِّي يَسْتَقْبِلُ الْقِبْلَةَ، وَسَوَاءٌ كَانَ بَيْنَهُمَا مَسَافَةُ الْقَصْرٍ، أَمْ لَا؟ بِشَرْطِ أَنْ يَكُونَ خَارِجَ الْبَلَدِ.*. روضة الطالبين /٢٣٤
البيان: ٧٣/٣