جمعرات _16 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1226
اگر کسی پر قرض ہو تو اس کے لیے نفلی صدقات کرنے کا کیا حکم ہے؟
اگر کسی کے ذمہ قرض ہو تو اس شخص کے لیے مستحب یہ ہے کہ قرض ادا ہونے تک نفلی صدقات نہ کرے۔ اگر نفلی صدقہ و خیرات کرنے سے قرض ادا نہ کرسکتا ہو تو پھر نفلی صدقہ و خیرات کرنا حرام ہوگا۔
علامه كمال الدين الدميري رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وَمَنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ أَوْ لَهُ مَنْ تَلْزَمُهُ نَفَقَتُهُ… يُسْتَحَبُّ أَنْ لاَ يَتَصَدَّقَ حَتَّى يُؤَدِّيَ مَا عَلَيْهِ*
النجم الوهاج:٦/٤٨١
دكتور وهبه الزحيلي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: يستحب ألا يتصدق من عليه دين، أو من تلزمه نفقة لنفسه أو عياله، حتى يؤدي ما عليه. والأصح عند الشافعية تحريم الصدقة من مدين لا يجد لدينه وفاء. (الفقه الاسلامي وأدلته: ٢/٩٢١)
امام شمس الدين محمد بن خطيب شربيني رحمة الله عليه فرماتے ہیں:وَمَنْ عَلَيْهِ دَيْنٌ أَوْ وَلَهُ مَنْ تَلْزَمُهُ نَفَقَتُهُ يُسْتَحَبُّ أَنْ لَا يَتَصَدَّقَ حَتَّى يُؤَدِّيَ مَا عَلَيْهِ. (مغني المحتاج ٥/٨)
بدايه المحتاج في شرح المنهاج ٢/٦٩٧
نهاية المحتاج ٦/١٧٤
منگل _14 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1225
رہن میں رکھی ہوئی چیز سے فائدہ اٹھانے کی شرط لگاکر رہن میں رکھنے کا کیا مسئلہ ہے اگر کوئی قرض دیتے وقت قرض لینے والے سے یہ شرط لگائے کہ تم مجھے اپنی گاڑی، گھر وغیرہ بطور رہن دے دو تاکہ میں اس کو استعمال کرسکوں تو اس طرح کی شرط کے ساتھ رہن میں رکھنے کا کیا مسئلہ ہے؟
رہن میں رکھی ہوئی چیز کو معاملہ کے وقت ہی فائدہ اٹھانے کی شرط لگانا درست نہیں ہے ہاں اگر معاملہ کرتے وقت ایسی کوئی شرط نہ ہو بلکہ بعد میں رہن میں رکھنے والا شخص اپنی مرضی سے اس چیز کے استعمال کرنے کی اجازت دے تو رہن میں رکھنے والے کے لیے اس چیز سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔
قال الإمام الخطيب الشربيني رحمة الله عليه: وَإِنْ نَفَعَ الشَّرْطُ الْمُرْتَهِنَ، وَضَرَّ الرَّاهِنَ كَشَرْطِ مَنْفَعَتِهِ لِلْمُرْتَهِنِ بَطَلَ الشَّرْطُ لِحَدِيثِ «كُلُّ شَرْطٍ لَيْسَ فِي كِتَابِ اللَّهِ تَعَالَى فَهُوَ بَاطِلٌ (وَكَذَا) يَبْطُلُ (الرَّهْنُ فِي الْأَظْهَرِ) لِمُخَالَفَةِ الشَّرْطِ مُقْتَضَى الْعَقْدِ. مغني المحتاج: ٣٩/٣
قال الإمام اارافعي رحمة الله عليه:ليس للمرتهن في المرهون سوى حق الاستيثاق (أما) البيع وسائر التصرفات القولية الانتفاعات وسائر التصرفات العقلية فهو ممنوع من جميعها. العزيز: ١٤١/١٠
قال اصحاب الفقه المنهجي:وأما إذا لم يكن الانتفاع للمرتهن مشروطًا في العقد فهو جائز، ويملكه المرتهن، لأن الراهن مالك، وله أن يأذن بالتصرّف في ملکه. الفقه المنهجي: ١٢٧/٧
نهاية المحتاج: ٢٣٥/٥
تحفة المحتاج: ٥٢/٥
منگل _14 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ حسين بن عبدالعزيز آل الشيخ
منگل _14 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ عبد الله بن عواد الجهني
پیر _13 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
اتوار _12 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
ہفتہ _11 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبد الاحد فکردے صاحب ندوی
جمعہ _10 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
جمعہ _10 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
جمعہ _10 _نومبر _2023AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی