جمعرات _3 _مارچ _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1055
اگر کوئی شخص ظہر کی قضا نماز کی امامت کر رہا ہو اور مقتدی عصر کی نماز جماعت سے پڑھ رہا ہو اس طرح ایک ساتھ قضاء نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کا کیا مسئلہ ہے ؟
قضاء نماز کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا اس شرط کے ساتھ سنت ہے کہ امام اور مقتدی اس نماز میں متفق ہوں مثلاً دونوں کی ظہر کی نماز ہو یا عصر کی نماز اگر امام ظہر تاخیر سے پڑھ رہا ہو اور مقتدی عصر پڑھ رہا ہو تو پھر ایسے امام کی اقتداء کرنا درست نہیں امام اور مقتدی کا جماعت کے ساتھ پڑھی جانے والی قضا نماز میں ایکسانیت (دونوں کی ظہر یا دونوں عصر ) کا ہونا ضروری ہے
قال الإمام النووي رحمة الله عليه : اما المَقْضِيَّةُ مِن المَكْتُوباتِ فَلَيْسَتْ الجَماعَةُ فِيها فَرْضَ عَيْنٍ ولا كِفايَةٍ بِلا خِلافٍ ولَكِنْ يُسْتَحَبُّ الجَماعَةُ فِي المَقْضِيَّةِ الَّتِي يَتَّفِقُ الإمامُ والمَأْمُومُ فِيها بِأنْ يَفُوتَهُما ظُهْرٌ أوْ عَصْرٌ (المجموع: ١٨٩/٤)
*روضة الطالبين: ٣٤٠/١
*الشرح الكبير :١
بدھ _2 _مارچ _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0841
ایک ملک سے دوسرے ملک بذریعہ بنک اکاونٹ روپیہ بھیجنے (ٹرانسفرنگ)کا کاروبار کرنا کیسا ہے؟ جس میں ٹرانسفر کرنے والا 1000 روپےنقد لیتا ہے اور اس کے اکاونٹ میں 10 روپیہ چارج لے کر منتقل کرتا ہے کیا یہ عمل جائز ہے؟
ایک ملک سے دوسرے ملک یا ایک شہر سے دوسرے شہر روپیہ بھیجنے ٹرانسفر کا کاروبار کرنا جائز ہے۔ اور روپیہ منتقل کرنے کے کام پر اجرت لینا بھی جائز ہے۔ خواہ روپیہ بھیجنے کے لیے بنک اکاونٹ یا گوگل پے، فون پے یا کسی اور طریقہ سے بھیجے تو اس کام پر اجرت لے سکتا ہے.
قال الإمام دبيان الدبيان رح : وما يأخذه المصرف في هذه الحالة مقابل خدماته جائز أيضًا كالعمولة التي تؤخذ من قبله في عملية التحويل (المعاملات المالية أصالة ومعاصرة:١٢/٤٥٢)
قال الأئمة رح : الحوالات التي تقدم مبالغها بعملة ما، ويرغب طالبها تحويلها بنفس العملة جائزة شرعا، سواء أكان بدون مقابل أم بمقابل في حدود الأجر الفعلي (فقه المعاملات:٢/٢١٢)
قال الإمام الشربيني رح : وإجارَةُ العَيْنِ لا يُشْتَرَطُ ذَلِكَ فِيها، ويَجُوزُ فِيها التَّعْجِيلُ والتَّأْجِيلُ (مغني المحتاج :٣/٤٤٣)
منهاج الطالبين وعمدة المفتين في الفقه: ١/١٥٩
نهاية المحتاج إلى شرح المنهاج :٥/٢٦٥
فقه التاجر المسلم :١/١٥٢
مجلة مجمع الفقه الإسلامي:٨/١٠٧١
منگل _1 _مارچ _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
پیر _28 _فروری _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
اتوار _27 _فروری _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
ہفتہ _26 _فروری _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبد الاحد فکردے صاحب ندوی
ہفتہ _26 _فروری _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا مفتی انعام اللہ خان صاحب
ہفتہ _26 _فروری _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
جمعہ _25 _فروری _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
جمعہ _25 _فروری _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
جمعہ _25 _فروری _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
جمعہ _25 _فروری _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
جمعہ _25 _فروری _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1054
لڑکی کا نام اگر سونم ہے اور وہ مسلمان ہےتو کیا سونم نام پے نکاح ہوجائے گا یا نہیں؟
نکاح کے لیے مرد و عورت کا مسلمان ہونا ضروری ہے صرف نام سونم ہونے سے نکاح پر کوئی اثر نہیں ہوگا بلکہ نکاح صحیح ہوگا
امام نووی رحمة اللہ عليه ہیں: الرُّكْنُ الثّانِي:المَنكُوحَةُ، ويُشْتَرَطُ خُلُوُّها مِن مَوانِعِ النِّكاحِ… فَمِنَ المَوانِعِ أنْ تَكُونَ مَنكُوحَةً أوْ مُعْتَدَّةً عَنْ غَيْرِهِ، أوْ مُطَلَّقَتَهُ بِالثَّلاثِ ما لَمْ تُحَلَّلْ، أوْ مُلاعَنَتَهُ، أوْ مُرْتَدَّةً، أوْ مَجُوسِيَّةً، أوْ وثَنِيَّةً (روضة الطالبين وعمدة المفتين: ٧/٤٣)
*أسنى المطالب في شرح روض الطالب:٣/١٦٢
*النجم الوهاج في شرح المنهاج :٧/٥٩٩
جمعرات _24 _فروری _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1053
کیا عورت اپنے بالوں میں انسان یا جانور کے بال لگا سکتی ہے؟
عورت کے لئے اپنے بالوں میں کسی دوسرے انسان کے بالوں کو جوڑنا حرام ہے اور انسانی بالوں کے علاوہ کسی مردار یا غیر ماکول اللحم جانور کے بال جو اس کی زندگی میں الگ ہوگئے ہوں تو ان بالوں کو لگانا بھی حرام ہے اس لئے کہ یہ نجس ہیں البتہ ذبح کیے ہوئے مأکول اللحم جانور کے بال پاک ہیں اور ان بالوں کو شادی شدہ عورت کے لیے اپنے شوہر کی اجازت سے لگانا جائز ہے۔ لیکن غیر شادی شدہ عورت کے لیے پاک بال لگانا بھی حرام ہے۔
قال الإمام النووي رحمة الله عليه: وهَذِهِ الأحادِيثُ صَرِيحَةٌ فِي تَحْرِيمِ الوَصْلِ ولَعْنِ الواصِلَةِ والمُسْتَوْصِلَةِ مُطْلَقًا وهَذا هُوَ الظّاهِرُ المُخْتارُ وقَدْ فَصَّلَهُ أصْحابُنا فَقالُوا إنْ وصَلَتْ شَعْرَها بِشَعْرٍ آدَمِيٍّ فَهُوَ حرام بلاخلاف سَواءٌ كانَ شَعْرَ رَجُلٍ أوِ امْرَأةٍ وسَواءٌ شعر المحرم والزوج وغيرهما بلاخلاف لِعُمُومِ الأحادِيثِ ولِأنَّهُ يَحْرُمُ الِانْتِفاعُ بِشَعْرِ الآدَمِيِّ وسائرأجزائه لِكَرامَتِهِ بَلْ يُدْفَنُ شَعْرُهُ وظُفْرُهُ وسائِرُ أجْزائِهِ وإنْ وصَلَتْهُ بِشَعْرٍ غَيْرِ آدَمِيٍّ فَإنْ كانَ شعرانجسا وهُوَ شَعْرُ المَيْتَةِ وشَعْرُ ما لا يُؤْكَلُ إذا انْفَصَلَ فِي حَياتِهِ فَهُوَ حَرامٌ أيْضًا للحديث ۔۔۔۔وأمّا الشَّعْرُ الطّاهِرُ مِن غَيْرِ الآدَمِيِّ فَإنْ لَمْ يَكُنْ لَها زَوْجٌ ولاسيد فَهُوَ حَرامٌ أيْضًا وإنْ كانَ فَثَلاثَةُ أوْجُهٍ ۔۔۔۔وأصَحُّها عِنْدَهُمْ إنْ فَعَلَتْهُ بِإذْنِ الزَّوْجِ أوِ السَّيِّدِ جازَ وإلّا فَهُوَ حَرامٌ (شرح مسلم: ١٠٣/١٤)
قال أصحاب فقه المنهجي: تحريم مواصلة الشعر وصل الشعر بشعر آخر حرام على الرجال والنساء، أيامى أو متزوجين، للتجمّل أو غيره وهو كبيرة من الكبائر، لورود اللعن لفاعِله، والمعاون فيه. لذلك قال الفقهاء: إن وصلت المرأة شعرها بشعر آدمي، امرأة كان أو رجلًا، محرمًا أو زوجًا، فهو حرام، لعموم الأدلة، ولأنه يحرم الانتفاع بشعر الآدمي وسائر أجزائه لكرامته، بل يدفن شعره وظفره، وسائر أجزائه إن فصلت منه حال الحياة. وإن وصلته بشعر غير الآدمي، فإن كان شعرًا نجسًا، وهو شعر الميتة، أو شعر ما لا يؤكل لحمه إذا انفصل في حال حياته، فهو حرام أيضًا لعموم النهي عن ذلك، ولأنه حمل نجاسة في الصلاة، وغيرها. وأما الشعر الطاهر من غير الآدمي، فإن لم يكن لها زوج فهو حرام، وإن كان لها زوج، فإن فعلته بإذنه جاز، وإن فعلته بغير إذنه لم يجز. (فقه المنهجي: ٥١٨/١)
*المجموع: ٢٩٦/١٨
*الحاوي الكبير: ٢٥٦/٢
*المهمات :١٤٤/٣
بدھ _23 _فروری _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1052
عورت کے سر کے بال نکل جائیں تو ان بالوں کو دیکھنے، پھینکنے یا دفن کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟
عورت کے بال اگر سر سے الگ ہوجائیں تو ان بالوں کو دیکھنا جائز نہیں ہے اسی طرح ان بالوں کو کسی جگہ پر پھینکنا بھی درست نہیں بلکہ ان بالوں کو اس طرح دفنایا جائے یا چھپایا جائے کہ کسی اجنبی مرد کی نظر نہ پڑے
مالا يجوز النظر اليه بعد الانفصال كشعر رأسها.. وما أشبهها يحرم النظر اليه بعد الانفصال على الأصح (عجالة المحتاج:١١٨٣/٣)
تَنْبِيهٌ كُلُّ مَا حَرُمَ نَظَرُهُ مُتَّصِلًا حَرُمَ نَظَرُهُ مُنْفَصِلًا: كَشَعْرِ عَانَةٍ وَلَوْ مِنْ رَجُلٍ، وَقُلَامَةِ ظُفْرِ حُرَّةٍ، وَلَوْ مِنْ يَدَيْهَا، وَتَجِبُ مُوَارَاتُهُ عَلَى مَا اقْتَضَاهُ كَلَامُ الْقَاضِي لِئَلَّا يَنْظُرَ إلَيْهِ أَحَدٌ (الخطيب الشربيني، مغني المحتاج إلى معرفة معاني ألفاظ المنهاج: ٢١٧/٤)
ويسن دفن ما خرج من أجزاء الحي، وقد يجب، كأن كان من امرأة وخشي نظر أجنبي إليه. (شرح المقدمة الحضرمية المسمى بشرى الكريم بشرح مسائل التعليم: ١/٤٠٠)
روضة الطالبين :٢٦/٧