بدھ _9 _مارچ _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1057
بہت زیادہ بیمار یا انتہائی بوڑھا شخص جس کے ہاتھ پاؤں ٹھیک سے کام نہ کرتے ہوں اور وہ شخص زیر ناف بالوں کو کاٹنے کی قدرت نہ رکھتا ہوں تو کیا ایسے شخص کے لیے زیر ناف بال نہ کاٹنے کی گنجائش ہے؟
بیمار اور ضعیف شخص اگر خود سے زیر ناف بال کاٹنے سے عاجز ہو تواس کے لئے اپنی بیوی کے ذریعہ زیر ناف بال نکالنے کی اجازت ہے اگر بیوی نہ ہو تو کسی اجنبی سے شخص کے ہاتھوں زیر ناف بالوں کو صاف کرنااس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ وہ شخص بقدر ضرورت اس بیمار و ضعیف شخص کے ستر کو دیکھے، ضرورت سے زیادہ نہ دیکھے یا کوئی ایسی چیز استعمال کرے جس کے ذریعہ بالوں کو نکالنے میں آسانی ہو سکے۔
وأمّا حَلْقُ العانَةِ فَمُتَّفَقٌ عَلى أنَّهُ سُنَّةٌ … والسُّنَّةُ فِي العانَةِ الحَلْقُ كَما هُوَ مُصَرَّحٌ بِهِ فِي الحَدِيثِ فَلَوْ نَتَفَها أوْ قَصَّها أوْ أزالَها بِالنُّورَةِ جازَ: وكانَ تارِكًا لِلْأفْضَلِ وهُوَ الحَلْقُ ويَحْلِقُ عانَتَهُ بِنَفْسِهِ ويَحْرُمُ أنْ يُوَلِّيَها غَيْرَهُ إلّا زَوْجَتَهُ أوْ جارِيَتَهُ الَّتِي تَسْتَبِيحُ النَّظَرَ إلى عَوْرَتِهِ ومَسَّها فَيَجُوزُ مَعَ الكَراهَة (المجموع شرح المهذب :١/٢٨٩)
الِاسْتِحْدَادُ فَهُوَ حَلْقُ الْعَانَةِ سُمِّيَ اسْتِحْدَادًا لِاسْتِعْمَالِ الْحَدِيدَةِ وَهِيَ الْمُوسَى وَهُوَ سُنَّةٌ وَالْمُرَادُ بِهِ نَظَافَةُ ذَلِكَ الْمَوْضِعُ (شرح النووي على مسلم: ١٤٨/٣)
حَلْقُ العانَةِ بِيَدِهِ وإنْ حَلَقَ الحَجّامُ جازَ إذا غَضَّ بَصَرَه (البحر الرائق شرح كنز الدقائق :٨/٢٣٣)
من ابتلي بخدمة مريض أو مريضة في وضوء أو استنجاء أو غيرهما فحكمه حكم الطبيب في النظر والمس . نص عليه [ يعني : الإمام أحمد رحمه الله ] . كذا لو حلق عانةَ مَنْ لا يحسن حلق عانته . نص عليه . وقاله أبو الوفاء , وأبو يعلى الصغير ” انتهی (الإنصاف:٨/٢٢)
☆ الحاوي الكبير :١٣/٤٣١
☆ التهذيب في فقه الإمام الشافعي :١/٢١٨
☆ مغني المحتاج :٦/١٤٤
منگل _8 _مارچ _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
منگل _8 _مارچ _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1056
امانت رکھی ہوئی رقم رکھنے والے کی اجازت کے بغیر کسی دوسرے شخص کو قرض کے طور پر دے سکتے ہیں؟ اگر دے اور وہ واپس نہ کرے تو کیا امانت رکھنے والا شخص اس رقم کا ذمہ دار ہوگا یا نہیں؟
اگر کسی کی رقم امانت رکھی ہو اور کوئی دوسرا شخص بغیر اجازت کے امانت میں رکھی ہوئی رقم لے گا تو دینے والا شخص اس رقم کا ذمہ دار ہوگا کیونکہ مذکورہ مال کسی اور کا ہے جو اس کے پاس بطور امانت رکھا گیا ہے چونکہ امانت کے مال میں مالک کی اجازت کے بغیر امین کو کسی بھی طرح کے تصرف کا حق نہیں ہے۔
الخِيانَةُ، وهُوَ أنْ يُخْرِجَها لِيَبِيعَها، أوْ لِيُنْفِقَها، فَهَذا عُدْوانٌ يَجِبُ بِهِ الضَّمانُ وكَذَلِكَ لَوْ جَحَدَها (الحاوي الكبير :٨/٣٦٢ )
إذا صارَتِ الوَدِيعَةُ مَضْمُونَةً عَلى المُودَعِ بِانْتِفاعٍ أوْ إخْراجٍ مِنَ الحِرْزِ أوْ غَيْرِهِما مِن وُجُوهِ التَّقْصِيرِ (روضة الطالبين وعمدة المفتين :٦/٣٣٥)
*مغني المحتاج:٣ /٨٨
پیر _7 _مارچ _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
اتوار _6 _مارچ _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
ہفتہ _5 _مارچ _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
جمعہ _4 _مارچ _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب
جمعہ _4 _مارچ _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب
جمعہ _4 _مارچ _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبد الاحد فکردے صاحب ندوی
جمعہ _4 _مارچ _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبد الاحد فکردے صاحب ندوی
جمعہ _4 _مارچ _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
جمعہ _4 _مارچ _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
جمعہ _4 _مارچ _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
جمعرات _3 _مارچ _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
جمعرات _3 _مارچ _2022AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 1055
اگر کوئی شخص ظہر کی قضا نماز کی امامت کر رہا ہو اور مقتدی عصر کی نماز جماعت سے پڑھ رہا ہو اس طرح ایک ساتھ قضاء نماز کو جماعت کے ساتھ پڑھنے کا کیا مسئلہ ہے ؟
قضاء نماز کو جماعت کے ساتھ ادا کرنا اس شرط کے ساتھ سنت ہے کہ امام اور مقتدی اس نماز میں متفق ہوں مثلاً دونوں کی ظہر کی نماز ہو یا عصر کی نماز اگر امام ظہر تاخیر سے پڑھ رہا ہو اور مقتدی عصر پڑھ رہا ہو تو پھر ایسے امام کی اقتداء کرنا درست نہیں امام اور مقتدی کا جماعت کے ساتھ پڑھی جانے والی قضا نماز میں ایکسانیت (دونوں کی ظہر یا دونوں عصر ) کا ہونا ضروری ہے
قال الإمام النووي رحمة الله عليه : اما المَقْضِيَّةُ مِن المَكْتُوباتِ فَلَيْسَتْ الجَماعَةُ فِيها فَرْضَ عَيْنٍ ولا كِفايَةٍ بِلا خِلافٍ ولَكِنْ يُسْتَحَبُّ الجَماعَةُ فِي المَقْضِيَّةِ الَّتِي يَتَّفِقُ الإمامُ والمَأْمُومُ فِيها بِأنْ يَفُوتَهُما ظُهْرٌ أوْ عَصْرٌ (المجموع: ١٨٩/٤)
*روضة الطالبين: ٣٤٠/١
*الشرح الكبير :١