سيد أعمالك إلى الله عز وجل – 08-10-2021
فضيلة الشيخ أسامة بن عبدالله الخياط
فضيلة الشيخ أسامة بن عبدالله الخياط
مولانا عبد الاحد فکردے صاحب ندوی
مولانا عبد الاحد فکردے صاحب ندوی
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
اردو ترجمہ محمد اقبال راشد
عنوان: حسنِ اخلاق
مكۃ المكرّمہ اردو ترجمہ : ظل الرحمن تیمی
عنوان: آبدیدہ نگاہوں کے ساتھ طلاق کا مسئلہ
فقہ شافعی سوال نمبر / 1004
اگر کوئی شخص فرض نماز تنہاء پڑھ رہا ہو اور اسی جگہ کچھ لوگ آکر جماعت سے نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوجائیں تو کیا تنہا نماز پڑھنے والا شخص اپنی نماز چھوڑ کر ان کے ساتھ جماعت میں شامل ہوجائے گا یا اپنی نماز تنہا ہی مکمل کرے گا؟
تنہا فرض نماز پڑھتے وقت اگر دوسرے لوگ آکر الگ سے جماعت بنا کر نماز کے لیے کھڑے ہوجائیں تو تنہا نماز پڑھنے والے شخص کے لیے یہ مستحب ہے کہ وہ اپنی دو رکعت کے بعد سلام پھیرے یا پھر اپنی نماز کو توڑ دے اور اس جماعت میں شریک ہوکر اپنی نماز مکمل کرے۔
قال الإمام النووی رحمة الله عليه: أصْحابُنا إذا دَخَلَ فِي فَرْضِ الوَقْتِ مُنْفَرِدًا ثُمَّ أرادَ الدُّخُولَ فِي جَماعَةٍ اُسْتُحِبَّ أنْ يُتِمَّها رَكْعَتَيْنِ ويُسَلِّمَ مِنها فَتَكُونَ نافِلَةً ثُمَّ يَدْخُلَ فِي الجَماعَةِ فَإنْ لَمْ يَفْعَلْ اُسْتُحِبَّ أنْ يَقْطَعَها ثُمَّ يَسْتَأْنِفَها فِي الجَماعَةِ (المجموع: ١٨٠/٤)