سود اور اسکی رائج شکلیں – 16-09-2022
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1133
اگر کسی لکڑی پر قرآن مجید کی آیت لکھی ہو تو اسے جلانے کا کیا حکم ہے؟
اگر کسی لکڑی پر قرآن مجید لکھا ہوا ہو تو اس لکڑی کو جلانا مکروہ ہے اگر اس کو جلانے سے قرآن مجید کی حفاظت مقصود ہو تو قرآنی آیت لکھی ہوئی لکڑی کو جلانا جائز ہے۔ البتہ بہتر یہ ہے کہ اس لکڑی کی راکھ کو دفنایا جائے
قال الخطيب الشربيني رحم ة الله عليه: ويكره إحراق خشب نقش بالقرآن إلا إن قصد به صيانة القرآن فلا يكره (مغنى المحتاج: ١\١٥٢)
*نهاية المحتاج ١\١٢٦ *تحفة المحتاج مع حواشي الشرواني .. ١\١٥٥ *إعانة الطالبين ١\٨٥ *الاقناع ١\١٠٤
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1132
مسجد کی پرانی ناقابل استعمال چیزیں جن کو زیادہ دن رکھنے سے خراب ہونے کا اندیشہ ہو، نیز دوسری ضروری چیزیں رکھنے کے لیے جگہ تنگ ہو رہی ہو تو اس پرانی چیز کو (رکھ کر خراب کرنے سے) بیچنے کا کیا مسئلہ ہے؟
اگر مسجد کی چیزیں استعمال کے قابل نہ ہو اور استعمال نہ ہونے سے ضائع ہونے کا اندیشہ ہو، اور اس چیز کے ہوتے ہوئے دوسری ضروری چیزیں رکھنے کے لیے جگہ تنگ ہو رہی ہو تو اس پرانی چیز کو بیچنا درست ہے۔ البتہ اُن چیزوں کو بیچنے کے بعد اس رقم کو مسجد ہی دوسرے کے کاموں میں استعمال کرنا ہوگا۔
قال الإمام النووي (ر):حُصْرُ المَسْجِدِ إذا بَلِيَتْ، ونُحاتَةُ أخْشابِهِ إذا نَخَرَتْ، وأسْتارُ الكَعْبَةِ إذا لَمْ يَبْقَ فِيها مَنفَعَةٌ ولا جَمالٌ، فِي جَوازِ بَيْعِها وجْهانِ: أصَحُّهُما: تُباعُ لِئَلّا تَضِيعَ وتُضَيِّقَ المَكانَ بِلا فائدة و على الأوَّلِ قالُوا: يُصْرَفُ ثَمَنُها فِي مَصالِحِ المَسْجِدِ أمّا ما اشْتَراهُ النّاظِرُ لِلْمَسْجِدِ، أوْ وهَبَهُ لَهُ واهِبٌ، وقَبِلَهُ النّاظِرُ فَيَجُوزُ بَيْعُهُ عِنْدَ الحاجَةِ بِلا خِلافٍ.
روضة الطالبين: ٥/٣٥٨ عجالة المحتاج :٢/٩٧٧ المهمات – ٦/٢٦٠ النجم الوهاج – ٥/٥١٧
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1131
عورتوں کے بال سر سے جدا ہوجانے کے بعد خریدتے اور عورتیں بھی خوشی سے بال بیچ دیتی ہیں کیا ایسا کرنا جائز ہے۔؟
کسی بھی انسان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے سر کے بالوں کو فروخت کرے۔ جس طرح سر پر ہوتے (متصل) بیچنا حرام ہے اسی طرح سر سے الگ ہونے کے بعد بھی خریدنا اور بیچنا دونوں حرام ہے۔
وبِأنَّهُ فَضْلَةُ آدَمِيٍّ فَلَمْ يَجُزْ بَيْعُهُ كالدَّمْعِ والعَرَقِ والمُخاطِ وبِأنَّ ما لا يَجُوزُ بَيْعُهُ مُتَّصِلًا لا يَجُوزُ بَيْعُهُ مُنْفَصِلًا كَشَعْرِ الآدَمِيّ المجموع شرح المهذب:٩/٢٥٤
فيحرم وصْلُه؛ لأن من كرامته أن لا ينتفع بشيء منه بعد مَوْتِهِ وانفصاله عنه، بل يدفن (أسنى المطالب: ١/١٧٣)
العزيز :٢/١٤ المهمات :٣/١٤٥