من خدعك بدعاء غير ربك – 09-12-2022
فضيلة الشيخ حسين بن عبدالعزيز آل الشيخ
فضيلة الشيخ حسين بن عبدالعزيز آل الشيخ
فضيلة الشيخ صالح بن عبدالله بن حميد
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا عبد الاحد فکردے صاحب ندوی
مولانا ارشاد نائطے صاحب ندوی
مولانا ارشاد نائطے صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1130
کیا والدین اپنی اولاد کو استطاعت کے باوجود فرض یا نفل حج و عمرہ سے روک سکتے ہیں؟
اگر کوئی فرض حج و عمرہ کی استطاعت رکھتا ہو اور تمام شرائط پائے جاتے ہوں اور تاخیر کی صورت میں فوت ہونے کا اندیشہ ہو تو فرض حج و عمرہ کے لیے والدین منع نہیں کرسکتے، ہاں اگر سنت حج یا عمرہ ہو تو والدین اپنی اولاد کو روک سکتے ہیں۔
فمنها حَجَّةُ الإسْلاَم إذا وجبت على الابْنِ؛ لاجتماع شَرائِطِ الاستطاعة فليس لَهُما المنعُ منها؛ لأنها فرضُ عَيْنٍ، وفي التأخير خطر الفوات (العزيز: ١١/٣٦٠)
ويجوز للأبوين منع الولد غير المكي من الإحرام بتطوع حج أو عمرة دون الفرض (المقدمة الحضرمية: ١/١٥٨)
المجموع – ٨/٣٤٧ المهذب – ١/٤٢٨ المنهاج القويم – ١/٣٠٣
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1129
عقیقہ میں جانور ذبح کرنے کے بجائے اس رقم کو کسی ضرورت مند کو دینے کا کیا مسئلہ ہے؟
عقیقہ میں اصل جانور ذبح مقصود ہے اسی وجہ سے عقیقہ میں جانور کو ذبح کرنا سنت اور افضل عمل ہے. ہاں اگر کوئی شخص جانور ذبح کرنے کے بجائے کسی سخت ضرورت کی بنا پر وہ رقم کسی فقیر یا مسکین کو بطور صدقہ دینا چاہیے تو دے سکتا ہے. لیکن اس طرح قیمت صدقہ کرنے سے عقیقہ کی سنت ادا نہیں ہوگی
وقال الامام النووي رحمة الله عليه : فِعْلُ العَقِيقَةِ أفْضَلُ مِن التَّصَدُّقِ بِثَمَنِها عِنْدَنا (المجموع: ٨/٤٣٣)
النجم الوهاج:٥٢٧/٩ تحفة المحتاج :٣٦٩/٩ حاشية الجمل: ٥/٢٦٤ نهاية المحتاج :٨/١٤٥