درس حدیث نمبر 0637
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 1110
کیا چھ یا سات سال کی عمر کا بچہ نومولود بچہ کے کان میں اذان دے سکتا ہے یا نہیں؟
بچہ عام طور پر چھ یا سات سال کی عمر میں ممیز ہوتا ہے اگر اس عمر کا بچہ ممیز ہو تو پیدا ہونے والے بچہ کے کان میں اذان اور اقامت کہہ سکتا ہے چونکہ اذان درست ہونے کے لیے بچہ کا ممیز ہونا ضروری ہے۔
قال النووى رحمة الله عليه: ويَصِحُّ أذانُ الصَّبِيِّ المُمَيِّزِ عَلى الصَّحِيحِ المَعْرُوفِ فِي المَذْهَبِ (روضة الطالبين : ۳۱۳/۱)
*الوسيط في المذهب :٢/٥٥ *فتح العزيز : ٣/١٨٩ *المجموع :٣/١٠١ *العزيز : ١/٤١٩
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 1109
سنن و رواتب یا چاشت کی نماز کے ساتھ صلاة الحاجہ کی نماز ایک ساتھ الگ الگ نیت سے پڑھ سکتے یا نہیں؟
ایک ساتھ کئی سنت نمازوں کی نیت کرنا درست ہے اسی طرح سنن و رواتب یا چاشت نماز کے ساتھ صلاة الحاجة کی نیت سے بھی نماز پڑھ سکتے ہیں
امام نووی رحمة اللہ علیہ فرماتے ہیں: تستحبّ الاستخارة بالصلاة والدعاء المذكور، وتكون الصلاة ركعتين من النافلة، والظاهر أنها تحصل بركعتين من السنن الرواتب، وبتحية المسجد وغيرها من النوافل (الاذكار: ٨٧)
علامہ سیوطی رحمة الله عليه : فَعَلى هَذا يَتَّجِه إلْحاقها بِالتَّحِيَّةِ فِي عَدَم اشْتِراط التَّعْيِين، ومِثْلها صَلاةُ الحاجَةِ (الشباه و النظائر: ۲٦)
*اسنى المطالب: ١/ ٤١٧ *حاشية الرملي: ١/ ٤١٧ مع اسنى المطالب
فقہ شافعی سوال نمبر / 1108
اگر کوئی ظہر کی نماز نہ پڑھے اور عصر کی اذان ہوجائے تو کیا وہ عصر کی اذان کے بعد ظہر کی قضا نماز پڑھ سکتا ہے یا عصر پہلے پڑھنا ہوگا؟
قضاء نماز پڑھنے میں ترتیب کا خیال رکھنا سنت ہے، اگر عصر کی اذان اور جماعت کے درمیان ظہر کی قضا نماز پڑھ سکتا ہو تو پہلے ظہر کی قضا کرے البتہ اس بات کا خیال رکھے کہ ادا نماز(عصر)وقت ختم ہونے کی بناء پر قضا نہ ہو پائے۔ اگر ادا نماز (عصر) کا وقت بہت کم باقی رہنے کی بناء پر قضا ہونے کا اندیشہ ہو تو نمازوں کی ترتیب سنت نہیں ایسی صورت میں پہلے ادا نماز پڑھ لی جائے اس کے بعد قضاء نماز پڑھی جائے گی
(ويُسَنُّ تَرْتِيبُهُ) أيْ الفائِتِ فَيَقْضِي الصُّبْحَ قَبْلَ الظُّهْرِ، وهَكَذا خُرُوجًا مِن خِلافِ مَن أوْجَبَهُ (و) يُسَنُّ (تَقْدِيمُهُ عَلى الحاضِرَةِ الَّتِي لا يَخافُ فَوْتَها) مُحاكاةً لِلْأداءِ، ولِلْخُرُوجِ مِن خِلافِ مَن أوْجَبَ ذَلِكَ أيْضًا، ولِأنَّهُ – ﷺ – فاتَتْهُ صَلاةُ العَصْرِ يَوْمَ الخَنْدَقِ فَصَلّاها بَعْدَ الغُرُوبِ ثُمَّ صَلّى المَغْرِبَ مُتَّفَقٌ عَلَيْهِ، فَإنْ لَمْ يُرَتِّبْ ولَمْ يُقَدِّمْ الفائِتَةَ جازَ؛ لِأنَّ كُلَّ واحِدَةٍ عِبادَةٌ مُسْتَقِلَّةٌ، والتَّرْتِيبُ إنّما وجَبَ فِي الأداءِ لِضَرُورَةِ الوَقْتِ، فَإنَّهُ حِينَ وجَبَ الصُّبْحُ لَمْ يَجِبْ الظُّهْرُ، فَإذا فاتَ لَمْ يَجِبْ التَّرْتِيبُ فِي قَضائِهِ كَصَوْمِ رَمَضانَ، وفِعْلُهُ – ﷺ المُجَرَّدُ إنّما يَدُلُّ عِنْدَنا عَلى الِاسْتِحْبابِ. فَإنْ خافَ فَوْتَ الحاضِرَةِ لَزِمَهُ البُداءَةُ بِها لِئَلّا تَصِيرَ فائِتَةً أيْضًا، وتَعْبِيرُهُ بِلا يَخافُ فَوْتَها صادِقٌ بِما إذا أمْكَنَهُ أنْ يُدْرِكَ رَكْعَةً مِن الحاضِرَةِ فَيُسَنُّ تَقْدِيمُ الفائِتِ عَلَيْها فِي ذَلِكَ أيْضًا، وبِهِ صَرَّحَ فِي الكِفايَةِ وهُوَ المُعْتَمَدُ كَما جَرى عَلَيْهِ شَيْخُنا فِي شَرْحِ مَنهَجِهِ، (المغني المحتاج :٢١٧/١)
نهاية المحتاج : ٣٨١/١ عجالة المحتاج : ١٦٩/١ عمدة المحتاج : ٢٨٧/٢n الديباج : ١٨٥/١
فضيلة الشيخ عبد المحسن بن محمد القاسم
فضيلة الشيخ أسامة بن عبدالله الخياط
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی