فریضہِ حج – 17-06-2022
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر / 1083
اگر کسی کے ہاتھ پاوں میں انگلیاں زائد ہوں تو وضو اور غسل میں ان زائد انگلیوں کا دھونا ضروری ہے؟
اگر کسی کو ہاتھ پاؤں کی انگلیاں زیادہ ہوں اور وہ اپنی جگہ یعنی ہاتھ پاؤں کی جگہ پر ہوں تو ان زائد انگلیوں کو دھونا فرض ہے اگر وہ فرض وضو کی جگہ پر نہ ہوں تو ان زائد انگلیوں کا وضو کرنا ضروری نہیں
اذا نبت في مواضع الفرض اصبع زائدة يجب غسلها لانها بمحل الفرض (مغني المحتاج: ١٧٣ /١)
وغسل يد زائدة إن نبتت بمحل الفرض ولو من المرفق كاصبع زائدة وسلعة سواء جاوزت الاصليه ام لا (روضة الطالبين :٥٢/١)
*نهاية المحتاج :١٧٤/١
*تحفة المحتاج :٧٤/١
*المجموع شرح المهذب :٤٤٨/١
فقہ شافعی سوال نمبر/ 1082
وضو شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ کہنے کا کیا حکم ہے؟ اگر کوئی بسم اللہ پڑھنا بھول جائے تو کیا یاد آنے پر پڑھ سکتے ہیں؟
وضوء شروع کرنے سے پہلے بسم اللہ پڑھنا مستحب ہے ہاں اگر کوئی شروع میں بسم اللہ پڑھنابھول جائے تو وضو ختم ہونے سے پہلے جب یاد آجائے بسم اللہ پڑھ لیں۔
قال العمرانی ویسمی اللہ تعالی عند ابتدا ۶ الطهارة …إذا ثبت هدا فانها مستحبة غير واجبة (البیان :۲۰۶/۱)
فإن نسي التسمية في أول الطهارة، أتى بها متى ذكرها قبل الفراغ، حتى لا يخلو الوضوء من اسم الله تعالى (البیان :۲۰۷/۱)
* حاشية الباجوری: ۱۶۱/۱
* الام :۲۸/۲
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)