بھٹكل تنظیم جمعہ مسجِد عربی خطبہ – 02-04-2021
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا عبد الاحد فکردے صاحب ندوی
مولانا عبد الاحد فکردے صاحب ندوی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر / 0962
کسی کے انتقال کی خبر تشہیر (اعلان) کرنے کا شرعا کیا مسئلہ ہے؟
کسی کے انتقال ہونے پر خبر کی تشہیر کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور یہ تشہیر کسی بھی جدید ذرائع ابلاغ کے استعمال سے بھی کرنا جائز ہے۔ البتہ زمانہ جاہلیت کی طرح سواری پر سوار ہو کر مخصوص طریقہ سے موت کی خبر دی جاتی تھی اس سے منع کیا گیا ہے۔
(تحفۃ الاحوزی:4/22)
ولاباس بإعلامه بموت للصلاۃ وغیرھا بخلاف نعی الجاھلیة (منھاج الطالبین: 1/351)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
اردو ترجمہ محمد اقبال راشد
عنوان: "سبحان الله” کی اھمیت و فضیلت
مكۃ المكرّمہ اردو ترجمہ : حشر الدین مدنی
عنوان: دنیوی واخروی شفاعت
فقہ شافعی سوال نمبر / 0961
اگر کوئی شخص کسی متعین چیز کی نذر مانے تو کیا نذر پوری ہونے پر اس سےبہتر چیز دے سکتا ہے مثلا بکرے کی نذر مانے اور اونٹ دے تو اس کا کیا مسئلہ ہے؟
نذر ماننے والے پر وہی چیز واجب ہوتی ہے جس کی اس نے نذر مانی ہے نذر میں جس چیز کو متعین کیا ہے اس سے ہٹ کر کوئی دوسری بہتر اور قیمتی چیز دینے کی اجازت نہیں ہے۔
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: اذا نذر ان یھدی شیئا معینا من ثوب او طعام او دراھم او عبید او دار او شجر او غیر ذلك لزمه ماسماہ ولا یجوز العدول عنه ولا إبداله (المجموع:8/359)
شیخ ابن حجر ہیتمی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ویجب صرفه لحر مسکین مالم یعین شخصا او اھل بلد والا تعین الصرف .. (فتح الجواد:3/490)
من نذر معینا من عین او جنس مباح لزمه الوفاء بما سماہ فی النذر. (فتاوی اللجنة الدائمة:23/319)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0960
اگر میت ایسی حالت میں ملے جس کا سر نہ ہو تو اس پر غسل اور نماز جنازہ پڑھنے کا کیا حکم ہے؟
لاش اگر اس حالت میں ملے کہ اس کا سر نہ ہو تو اس کو غسل دینا کفن پہنانا اور نماز جنازہ پڑھ کر مسلمانوں کے قبرستان میں دفن کرنا ضروری ہے
وان وجد بعض المیت غسل ویصلی علیه لان عمر رض صلی علی عظام بالشام وصلی ابوعبیدہ علی رووس وصلیت الصحابۃ رض علی ید عبدالرحمن بن عتاب بن اسید القاھا طائر بمکة من وقعة الجمل (المجموع:5/207)
ﺃﻥ ﻳﻮﺟﺪ ﺟﺴﺪ اﻟﻤﻴﺖ، ﺃﻭ ﺃﻛﺜﺮﻩ ﻋﻨﺪ اﻟﺤﻨﻔﻴﺔ ﻭاﻟﻤﺎﻟﻜﻴﺔ، ﺑﺄﻥ ﻭﺟﺪ ﻋﻨﺪ اﻟﺤﻨﻔﻴﺔ ﺃﻛﺜﺮ اﻟﺒﺪﻥ ﺃﻭ ﻧﺼﻔﻪ ﻣﻊ اﻟﺮﺃﺱ، ﻭﺇﻥ ﻭﺟﺪ ﻋﻨﺪ اﻟﻤﺎﻟﻜﻴﺔ ﺛﻠﺜﺎ ﺑﺪﻧﻪ ﻭﻟﻮ ﻣﻊ اﻟﺮﺃﺱ، ﻭﺇﻻ ﻛﺎﻥ ﻏﺴﻠﻪ ﻣﻜﺮﻭﻫﺎ. ﻭﻗﺎﻝ اﻟﺸﺎﻓﻌﻴﺔ ﻭاﻟﺤﻨﺎﺑﻠﺔ: ﺇﻥ ﻟﻢ ﻳﻮﺟﺪ ﺇﻻ ﺑﻌﺾ اﻟﻤﻴﺖ ﻭﻟﻮ ﻛﺎﻥ ﻗﻠﻴﻼ ﻏﺴﻞ ﻭﺻﻠﻲ ﻋﻠﻴﻪ، ﻟﻔﻌﻞ اﻟﺼﺤﺎﺑﺔ. (الفقه الإسلامي وأدلته:١٤٩٢/٢)