مسجدوں کے کھلنے پر اللہ کا شکر – 12-06-2020
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
فضيلة الشيخ صلاح بن محمد البدير
فضيلة الشيخ عبد الله بن عواد الجهني
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فضيلة الشيخ عبد المحسن بن محمد القاسم
فضيلة الشيخ فيصل بن جميل غزاوي
فضيلة الشيخ أحمد بن طالب بن حميد
فضيلة الشيخ ماهر بن حمد المعيقلي
فضيلة الشيخ عبدالله بن عبدالرحمن البعيجان
فضيلة الشيخ صالح بن عبدالله بن حميد
فضيلة الشيخ ماهر بن حمد المعيقلي
فضيلة الشيخ أحمد بن طالب حميد
فقہ شافعی سوال نمبر / 0853
*کیا کوئی اجنبی شخص کسی کی طرف سے یا داماد اپنے سسرال والوں کی طرف سے صدقہ فطر ادا کر سکتا ہے ؟*
*اس سلسلے میں فقہائے کرام نے یہ اصول مرتب کیا ہے کہ صدقہ فطر ہر اس شخص پر ان لوگوں کی جانب سے ادا کرنا ضروری ہے جن کا نان نفقہ اس کے ذمہ ہو جیسا کہ باپ، بیٹا وغیرہ، اگر کوئی اجنبی شخص یا داماد اپنے سسرال والوں کی طرف سے ان کی اجازت کے ساتھ صدقہ فطر نکالنے تو اس صورت میں صدقہ فطر ادا ہوجائے گا، اس کے برخلاف اگر اجازت کے بغیر نکالے تو صدقہ فطر ادا نہیں ہوگا۔*
*علامہ بجیرمی رحمة الله علیه فرماتے ہیں: كُلُّ مَنْ لَزِمَهُ نَفَقَةُ شَخْصٍ لَزِمَتْهُ فِطْرَتُهُ۔* (حاشیة البجیرمی علی الخطیب ٣٥٣/٢) *امام نووی رحمة الله علیه فرماتے ہیں: قَالَ أَصْحَابُنَا لَوْ أَخْرَجَ إنْسَانٌ الْفِطْرَةَ عَنْ أَجْنَبِيٍّ بِغَيْرِ إذْنِهِ لَا يُجْزِئُهُ بِلَا خِلَافٍ لِأَنَّهَا عِبَادَةٌ فَلَا تَسْقُطُ عَنْ الْمُكَلَّفِ بِهَا بِغَيْرِ إذْنِهِ وَإِنْ أَذِنَ فَأَخْرَجَ عَنْهُ أَجْزَأَهُ كَمَا لَوْ قَالَ لِغَيْرِهِ اقْضِ دَيْنِي وَكَمَا لَوْ وَكَّلَهُ فِي دَفْعِ زَكَاةِ مَالِهِ…..لَوْ تَبَرَّعَ إنْسَانٌ بِالنَّفَقَةِ عَلَى أَجْنَبِيٍّ لَا يَلْزَمُهُ فِطْرَتُهُ بِلَا خِلَافٍ عِنْدَنَا۔* (ألمجموع شرح المھذب:١٣٦/٦)