الثبات والاستقامة – 21-05-2021
فضيلة الشيخ عبدالله بن عبدالرحمن البعيجان
فضيلة الشيخ عبدالله بن عبدالرحمن البعيجان
فضيلة الشيخ بندر بن عبد العزيز بليلة
اردو ترجمہ حافظ محمد اقبال راشد
عنوان: رمضان کے بعد بھی بندگی پر گامزن رہنا
مكۃ المكرّمہ اردو ترجمہ : حفظ الرحمن تیمی
عنوان: عمل پر ہمیشگی برتیں
فضيلة الشيخ عبد المحسن بن محمد القاسم
فضيلة الشيخ ماهر بن حمد المعيقلي
فقہ شافعی سوال نمبر / 0964
اگر کوئی شخص گزشتہ سال صاحب نصاب تھا لیکن اس نے زکوۃ ادا نہیں کی اب اس سال وہ خود مستحق زکاۃ ہوگیا تو گزشتہ سال کی زکاۃ اس کو ادا کرنا ضروری ہوگا؟
اگر کوئی شخص صاحب نصاب ہو اور زکاۃ ادا کرنے کی قدرت کے باوجود زکاة ادا نہ کرے تو ایسا شخص گنہگار ہوگا اور اس کو اس تلف شدہ مال کی بھی زكاة نکالنا ضروری ہے اگرچہ کہ دوسرے سال وہ خود مستحقین زکاة میں سے ہوجائے تب بھی اس کو اس مال کی زکوۃ نکالنا ضروری ہے
صاحبِ فقہ المنہجی فرماتے ہیں: اﻟﺜﺎﻧﻲ: اﻟﻀﻤﺎﻥ، ﺃﻱ ﻳﻨﺘﻘﻞ ﺣﻖ اﻟﻔﻘﺮاء ﻭاﻟﻤﺴﺘﺤﻘﻴﻦ ﻣﻦ اﻟﺘﻌﻠﻖ ﺑﻌﻴﻦ اﻟﻤﺎﻝ ﺇﻟﻰ اﻟﺘﻌﻠﻖ ﺑﺬﻣﺔ اﻟﻤﺎﻟﻚ، ﻓﺘﺼﺒﺢ ﺫﻣﺘﻪ ﻣﺸﻐﻮﻟﺔ ﺑﺤﻘﻬﻢ ﺣﺘﻰ ﻭﺇﻥ ﺗﻠﻒ ﺟﻤﻴﻊ ﻣﺎﻟﻪ، ﺫﻟﻚ ﻷﻧﻪ ﻗﺼﺮ ﺑﺴﺒﺐ اﻟﺘﺄﺧﻴﺮ اﻟﺬﻱ ﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﻟﻪ ﻓﻴﻪ ﻋﺬﺭ ﻓﻴﺘﺤﻤﻞ ﻣﺴﺆﻭﻟﻴﺔ ﺗﻘﺼﻴﺮﻩ، ﺣﻔﻈﺎ ﻟﻤﺼﻠﺤﺔ اﻟﻤﺴﺘﺤﻘﻴﻦ۔ (الفقه المنهجى:٢/٥٣) (ﻭﺗﺄﺧﻴﺮ) اﻟﻤﺎﻟﻚ ﺃﺩاء (اﻟﺰﻛﺎﺓ ﺑﻌﺪ اﻟﺘﻤﻜﻦ) ﻭﻗﺪ ﻣﺮ (ﻳﻮﺟﺐ اﻟﻀﻤﺎﻥ) ﺃﻱ ﺇﺧﺮاﺝ ﻗﺪﺭ اﻟﺰﻛﺎﺓ ﻟﻤﺴﺘﺤﻘﻴﻪ۔ (نهاية المحتاج:٣/١٤٦) (ﻭﺣﺮﻡ ﺗﺄﺧﻴﺮﻫﺎ) ﺃﻱ ﺗﺄﺧﻴﺮ اﻟﻤﺎﻟﻚ ﺃﺩاء اﻟﺰﻛﺎﺓ ﺑﻌﺪ اﻟﺘﻤﻜﻦ (ﻭﺿﻤﻦ) ﺃﻱ اﻟﻤﺎﻟﻚ (ﺇﻥ) ﺃﺧﺮ اﻷﺩاء (ﻭﺗﻠﻒ) ﺃﻱ اﻟﻤﺎﻝ (ﺑﻌﺪ ﺗﻤﻜﻦ) (نهاية الزين:١/١٧٩) (ﻳﻮﺟﺐ اﻟﻀﻤﺎﻥ) ﺃﻱ ﺇﺧﺮاﺝ ﻗﺪﺭ اﻟﺰﻛﺎﺓ ﻟﻤﺴﺘﺤﻘﻴﻪ (ﻭﺇﻥ ﺗﻠﻒ اﻟﻤﺎﻝ) ﻟﺘﻘﺼﻴﺮﻩ۔ (تحفة المحتاج:٣/٣٦٣)
اردو ترجمہ حافظ محمد اقبال راشد
عنوان: اہلِ ایمان کے نام رحمٰن کے پیغامات
مكۃ المكرّمہ اردو ترجمہ : ثناء الله صادق تیمی
عنوان: عید اور مسرت و دلگی
ساحل آن لائن یوٹیوب پر نشر کی گئی ویڈیو کی اوڈیو
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی