درس حدیث نمبر 0514
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0953
قران مجید کی طرف پیٹھ کرکے بیٹھنا کیسا ہے؟
قرآن مجید کا احترام ہر مسلمان پر واجب ہے لہذا اس کی طرف پیٹھ کرکے نہ بیٹھنا اولی ہے،البتہ اس کی طرف رخ کرکے بیٹھناجائز ہے۔ جب کہ اس کی بے حرمتی کا قصد نہ ہو
علامہ قلیوبی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: وَيَجُوزُ مَدِّ رِجْلِهِ، أَيْ وَكَوْنُهُ خَلْفَ ظَهْرِهِ فِي نَوْمٍ أَوْ جُلُوسٍ لَا بِقَصْدِ إهَانَةٍ فِي ذَلِكَ. (حاشية قليوبي: ٤١/١)
علامہ بجیرمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَلَا يَحْرُمُ مَدُّ نَحْوِ رِجْلِهِ إلَى جِهَةِ الْمُصْحَفِ. (حاشية البجيرمي: ٣٧١/١)
علامہ ابن حجر الهيتمي رحمة اللہ عليه فرماتے ہیں: وَالْأولَى أَن لَا يستدبره۔ (الفتاوى الحديثية: ص-١٦٤)
(شہر کے خاص حالات کے پس منظر میں) *حضرت مولانا صادق صاحب کا فکر انگیز خطاب
فقہ شافعی سوال نمبر / 0952
اگر کسی کے جسم میں علاج کے خاطر ہڈیوں کو جوڑنے کے لیے میخ یا پیٹ میں کچھ ٹیوب وغیرہ ڈالا گیا ہو اور ایسے شخص کا انتقال ہوجائے تو ان چیزوں کو جسم سے نکالنے کا کیا مسئلہ ہے؟
اگر کسی شخص کے جسم میں علاج کی غرض سے ہڈیوں کو جوڑنے کے لیے یا پیٹ میں ٹیوب لگایا گیا ہو تو اس ہڈی لگاے،تو اس پر اس کو نکالنا واجب ہے دو شرطوں کے ساتھ ایک یہ ہے کہ وہ نجس شیء ہو دوسرے یہ کہ نفس یا عضو کے تلف ہونے کا خوف نہ ہو البتہ اگر وہ اسی حالت میں مر جائے تو نکالنا واجب نہیں ہے،اس لیے کہ موت کے بعد پھر انسان مکلف نہیں رہتا ہے اگر مصنوعی چیز پاک ہو تو پھر نکالنا جائز ہی نہیں ہے
قال الإمام الخطيب الشربيني رحمة اللّه عليه: فَإنْ ماتَ) مَن وجَبَ عَلَيْهِ النَّزْعُ (لَمْ يَنْزَعْ عَلى الصَّحِيحِ) المَنصُوصِ لِهَتْكِ حُرْمَتِهِ ولِسُقُوطِ التَّعَبُّدِ عَنْهُ. قالَ الرّافِعِيُّ: وقَضِيَّةُ التَّعْدِيلِ الأوَّلِ تَحْرِيمُ النَّزْعِ والثّانِي حِلُّهُ. اهـ. واَلَّذِي صَرَّحَ بِهِ الماوَرْدِيُّ والرُّويانِيُّ، ونَقَلَهُ فِي البَيانِ عَنْ عامَّةِ الأصْحابِ تَحْرِيمَهُ مَعَ تَعْلِيلِهِمْ بِالثّانِي، وهَذا هُوَ المُعْتَمَدُ، وإنْ كانَ قَضِيَّةُ كَلامِ المُحَرَّرِ وغَيْرِهِ الحِلَّ. (التهذيب :١٨١/١)
*قال الإمام البغوي رحمة اللّه عليه: وإذا انكسر عظمٌ من عظامه؛ فجبره بعظمٍ طاهر يجوز، ولو جبره بعظم نجس، ينزع إن كان لا يخاف هلاك نفسه، ولا تلف عضوه، وإن لحقه أذى. فإن لم ينزع أجبره السلطان على نزعه، سواء اكتسى اللحم، أو لم يكتس. فإن مات، لم ينزع؛ لأن التكليف سقط بالموت. هذا هو المذهب (التهذيب :١٨١/١)
*قال الإمام زكريا الانصاري رحمة اللّه عليه: فَرْعٌ لَوْ جُبِّرَ) مَن انْكَسَرَ عَظْمُهُ وخافَ الضَّرَرَ بِتَرْكِ الجَبْرِ (عَظْمُهُ بِعَظْمٍ نَجِسٍ لا يُصْلَح) لِلْجَبْرِ (غَيْره) مِن غَيْرِ آدَمِيٍّ (جازَ) فَلا تَبْطُلُ بِهِ صَلاتُهُ ولا يَلْزَمُهُ نَزْعُهُ قالَ السُّبْكِيُّ تَبَعًا لِلْإمامِ والمُتَوَلِّي وغَيْرِهِما إلّا إذا لَمْ يَخَفْ مِن النَّزْعِ ضَرَرًا وإنْ ماتَ لَمْ يُنْزَعْ) وإنْ لَزِمَهُ النَّزْعُ قَبْلَ مَوْتِهِ لِهَتْكِ حُرْمَتِهِ ولِسُقُوطِ التَّعَبُّدِ عَنْهُ قالَ الرّافِعِيُّ وقَضِيَّةُ التَّعْلِيلِ الأوَّلِ تَحْرِيمُ النَّزْعِ والثّانِي حِلُّهُ وهُوَ قَضِيَّةُ كَلامِ المُحَرَّرِ وغَيْرِهِ، لَكِنْ الَّذِي صَرَّحَ بِهِ الماوَرْدِيُّ والرُّويانِيُّ ونَقَلَهُ فِي البَيانِ عَنْ عامَّةِ الأصْحابِ تَحْرِيمُهُ مَعَ تَعْلِيلِهِمْ بِالثّانِي. (أسنى المطالب :١٧٢/١)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)