007 – سورة الاعراف – آیت نمبر – 158
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
سورة كهف– آيت نمبر 065-066-067-068-069-070 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0719
جنبی شخص (یعنی جس پر غسل واجب ہوا ہو) بسم الله الله اکبر پڑھ کر جانور ذبح کرنا کیسا ہے؟
جواب:۔ جنبی آدمی کا بِسْم الله الله اكبر کہہ کر جانور کو ذبح کرنا جائز ہے اسلیے کہ بِسْم الله الله اكبر ذکر ہے نہ کہ تلاوت ہے. اور اس کا ذبح شدہ جانور حلال ہے ۔
امام نووي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: نَقَلَ ابْنُ الْمُنْذِرِ الِاتِّفَاقَ علی ذَبِيحَةِ الْجُنُبِ قَالَ وَإِذَا دَلَّ الْقُرْآنُ عَلَى حِلِّ إبَاحَةِ ذَبِيحَةِ الْكِتَابِيِّ مَعَ أَنَّهُ نَجِسٌ فَاَلَّذِي نَفَتْ السُّنَّةُ عَنْهُ النَّجَاسَةَ أَوْلَى قَالَ والحائض كالجنب۔ (المجموع :9/ 77) امام رافعي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: أما إذا قرأ شيئاً منه لا على قصد القرآن فيجوز كما لو قال: باسم الله الرحمن الرحيم على قصد التبرك والابتداء، أو الحمد لله في خاتمة الأمر، أو قال: "سُبْحَانَ اللَّهِ الذِي سَخَّرَ لَنَا هذَا وَمَا كُنَّا لَهُ مُقْرِنِينَ” على قصد إقامة سنة الركوب، لأنه إذا لم يقصد القرآن لم يكن فيه إخلال بالتعظيم ولو جرى على لسانه ولم يقصد هذا ولا ذاك فلا يحرم أيضاً. (العزيز شرح الوجيز :1/ 185) امام نووي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: أَمَّا أَحْكَامُ الْفَصْلِ فَإِذَا أَرَادَ الرَّجُلُ الْغُسْلَ مِنْ الْجَنَابَةِ سَمَّى اللَّهَ تَعَالَى وَصِفَةُ التَّسْمِيَةِ كَمَا تَقَدَّمَ فِي الْوُضُوءِ بِسْمِ اللَّهِ فَإِذَا زَادَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ جَازَ وَلَا يَقْصِدُ بِهَا الْقُرْآنَ وَهَذَا الَّذِي ذَكَرْنَاهُ مِنْ اسْتِحْبَابِ التَّسْمِيَةِ هُوَ الْمَذْهَبُ الصَّحِيحُ وَبِهِ قَطَعَ الْجُمْهُورُ۔ (المجموع:2/ 181)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
سورة كهف– آيت نمبر 063-064-065 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0718
کیا مسافر ایک ہی تیمم سے دو فرض نمازوں کو جمع کرکے پڑھ سکتا ہے؟
جواب:۔ مسافر کے لیے ایک تیمم سے دو فرض نمازوں کو جمع کرکے پڑھنا جائز نہیں ہوگا۔
امام نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: مَذْهَبُنَا أَنَّهُ لَا يَجُوزُ الْجَمْعُ بَيْنَ فَرِيضَتَيْنِ بِتَيَمُّمٍ، سَوَاءٌ كَانَتَا فِي وَقْتٍ أَوْ وَقْتَيْنِ، قَضَاءً أَوْ أَدَاءً (المجموع :2/ 293) علامہ عمراني رحمةالله عليه فرماتے ہیں: وجملة ذلك: أنه لا يجوز للمتيمم أن يصلي بتيمم واحد فريضتين من فرائض الأعيان، سواء كان ذلك في وقت أو وقتين. (البيان :1/ 314)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
سورة كهف– آيت نمبر 060-061-062-063 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0717
حکومت کی کسی اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے محکمہ کے افسران سے سیٹنگ کرکے اپنا کام کروانا کیسا ہے؟
جواب:۔ شریعت اسلامیہ میں ہر کام کو سچائی اور امانت داری سے کرنے کا حکم دیا گیا ہے صورت مذکورہ میں سرکاری اسکیم ہو یا اس طرح کی کوئی اور چیز الغرض کسی طرح کی سیٹنگ اور دھوکا دے کر فائدہ اٹھانا جائز نہیں۔ (صحيح مسلم /101)
علامہ قرطبي رحمة الله عليه فرماتے ہیں۔ وَفِي الْحَدِيثِ” مَنْ غَشَّنَا فَلَيْسَ مِنَّا” أَيْ لَيْسَ مِنْ أَصْحَابِنَا وَلَا عَلَى طَرِيقَتِنَا وَهَدْيِنَا (تفسير قرطبي: 3/ 252) امام بغوي رحمة الله عليه فرماتے ہیں: التدليس في البيع حرام، ويأثم به الرجل.
وهو أن يكون بالمبيع عيب؛ فيكتم أو يكذب في الثمن. (التهذيب:3/ 468) علامہ دميري رحمة الله عليه فرماتے ہیں: تجب طاعة الإمام في أمره ونهيه ما لم يخالف حكم الشرع، سواء كان عادلًا أو جائرًا. (النجم الوهاج: 9/ 69) فتاوی اللجنة الدائمه میں ہے: إملاء المراقبين الأجوبة على الطلاب في الاختبار من الغش والخيانة، وفيه مفسدة للأخلاق، ومضرة للأمة في نهضتها الثقافية، وهبوط في مستوى التعليم، وضعف في تحمل المسئولية، والقيام بواجبها، وذلك حرام كسائر أنواع الغش؛ لعموم حديث:«من غشنا فليس منا.(فتاوي اللجنة الدائمة:12/ 203)
اردو ترجمہ عيدالفطر شفقت الرحمٰن
عنوان: جمعہ کے فضائل و احکام
مولانا جعفر فقیہ صاحب ندوی