درس قرآن نمبر 1327
سورة مريم – آيت نمبر 59-60-61-62-63 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سورة مريم – آيت نمبر 59-60-61-62-63 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سورة مريم – آيت نمبر 56-57-58-59*60 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سورة مريم – آيت نمبر 54-55-56-57 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فضيلة الشيخ علي بن عبد الرحمن الحذيفي
فضيلة الشيخ سعود بن إبراهيم الشريم
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0737
اگر کوئی شخص کسی دوسری جگہ عید منا کر انڈیا آیا تو کیا اب یہاں بھی عید منائے گا اور عید کی نماز پڑھے گا؟
جواب:۔ جس طرح فرض نمازوں کا اعادہ سنت ہے اسی طرح جن نمازوں میں جماعت سنت ہے ان نمازوں کا اعادہ بھی سنت ہے۔ لہذا عید کی نماز کا اعادہ بھی سنت ہے۔ تو جو شخص دبئی سے عید منا کر انڈیا آئے تو اس کے لیے دوبارہ عید کی نماز ادا کرنا مستحب ہوگا ۔
علامہ خطیب شربینی فرماتے ہیں وَالنَّافِلَةُ الَّتِي لَا تُسَنُّ الْجَمَاعَةُ فِيهَا. أَمَّا مَا تُسَنُّ فِيهَا فَالْقِيَاسُ كَمَا فِي الْمُهِمَّاتِ أَنَّهَا كَالْفَرْضِ فِي سَنِّ الْإِعَادَةِ، وَأَمَّا صَلَاةُ الْجُمُعَةِ فَلَا تُعَادُ لِأَنَّهَا لَا تُقَامُ مَرَّةً بَعْدَ أُخْرَى فَإِنْ فُرِضَ الْجَوَازُ لِعُسْرِ الِاجْتِمَاعِ فَالْقِيَاسُ كَمَا فِي الْمُهِمَّاتِ أَنَّهَا كَغَيْرِهَا، وَكَذَا لَوْ صَلَّى بِمَكَانٍ ثُمَّ سَافَرَ إلَى مَكَانٍ آخَرَ فَوَجَدَهُمْ يُصَلُّونَهَا كَانَ الْحُكْمُ كَذَلِكَ، (١) ِ أَنَّ مَا تُسَنُّ فِيهِ الْجَمَاعَةُ مِنْهَا كَالْفَرْضِ فِي سَنّ الْإِعَادَةِ (٢) بخلاف ما تسن فيه الجماعة من النوافل فإنه تسن إعادته كالفرض (٣) 1۔مغنى المحتاج ١/٤٧٢ 2۔ اسنی المطالب ١/٢١٣ 3۔المنهاج القويم ١/١٤٨
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0736
تراویح میں قرآن مجید کب ختم کرنا مستحب ہے ؟
جوب:۔ تراویح میں مکمل قرآن مجید کو تجوید کی رعایت اور اطمینان کے ساتھ سے پڑھ کر ختم کرنا سنت ہے۔ جس کے لیے ہر دن ایک پارہ یا ابتداء میں کچھ دن سوا پارہ اس کے بعد ایک ایک پارہ تلاوت کی ترتیب بنانا بھی سنت ہے۔ تاکہ انتیس رمضان کو ختم قرآن مجید مکمل ہوجائے۔ لیکن اگر کسی جگہ تجوید کی رعایت اور اطمینان کے ساتھ، نیز مقتدیوں کی رضامندی سے ہر دن ایک پارہ کے بجائے دیڑھ پارہ یا زیادہ دنوں تک سوا پارہ پڑھا جائے اور ۲۹/رمضان کے بجائے ۲۷/ ۲۸ رمضان کو مکمل قرآن مجید کا ختم کیا جائے تو یہ عمل بھی خلاف سنت نہیں ہوگا۔
وأما القراءة فالمختار الذي قاله الأكثرون وأطبق الناس على العمل به أن تقرأ الختمة بكمالها في التراويح جميع الشهر، فيقرأ في كل ليلة نحو جزء من ثلاثين جزءا، ويستحب أن يرتل القراءة ويبينها، وليحذر من التطويل عليهم بقراءة أكثر من جزء۔ (الأذكار : ١٨٤/١) ولیحذرمن التطویل علیھم محلہ فی غیر امام الجمع المحصورالذی لم یتعلق بعینہ حق ورضوا بالتطویل۔ (الفتوحات الربانية: ٤/ ٢٠٧) ﻓﺈﻥ اﻟﺴﻨﺔ ﻓﻴﻬﺎ اﻟﺼﻼﺓ ﺑﺟﻤﻴﻊ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﻓﻴﺠﺰﺋﻪ ﻋﻠﻰ اﻟﻠﻴﺎﻟﻲ ﺑﺤﻴﺚ ﻳﻜﻮﻥ ﺁﺧﺮ اﻟﺨﺘﻤﺔ ﻣﻨﻄﺒﻘﺎ ﻋﻠﻰ ﺁﺧﺮ ﻟﻴﻠﺔ ﻓﻲ اﻟﺸﻬﺮ۔ (نهاية الزين :٦٤/١)