010 – سورة يونس – آیت نمبر – 058
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0913
*سیلاب یا حادثہ میں متعدد مرنے والوں میں مرد اور عورت کو ایک ساتھ دفن کرنے کا کیا حکم ہے؟*
مرد اور عورت کو ایک قبر میں ایک ساتھ جمع کرنا حرام ہے۔ البتہ کسی وبائی مرض یا حادثہ کی وجہ سے زیادہ میتیں ہوں اور الگ الگ دفن کرنے میں دشواری ہو تو ضرورت کی وجہ سے ایک ساتھ ایک قبر میں مرد اور عورت کو جمع کر سکتے ہیں۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ان دونوں کے درمیان مٹی کے ذریعے سے اڑتے بنا دے جس میں مرد کو مقدم پھر بچے اور اخر میں عورت کو دفن کرینگے۔
علامہ ابو اسحاق شيرازي رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ﻭﻻ ﻳﺪﻓﻦ ﻓﻲ ﻗﺒﺮ ﻭاﺣﺪ اﺛﻨﺎﻥ ﻷﻥ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻟﻢ ﻳﺪﻓﻦ ﻓﻲ ﻛﻞ ﻗﺒﺮ ﺇﻻ ﻭاﺣﺪا ﻓﺈﻥ ﺩﻋﺖ ﺇﻟﻰ ﺫﻟﻚ ﺿﺮﻭﺭﺓ ﺟﺎﺯ ﻷﻥ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻛﺎﻥ ﻳﺠﻤﻊ اﻻﺛﻨﻴﻦ ﻣﻦ ﻗﺘﻠﻰ ﺃﺣﺪ ﻓﻲ ﻗﺒﺮ ﻭاﺣﺪ ﺛﻢ ﻳﻘﻮﻝ ﺃﻳﻬﻤﺎ ﻛﺎﻥ ﺃﺧﺬا ﻟﻠﻘﺮﺁﻥ ﻓﺈﺫا ﺃﺷﻴﺮ ﺇﻟﻰ ﺃﺣﺪﻫﻤﺎ ﻗﺪﻣﻪ ﺇﻟﻰ اﻟﻠﺤﺪ ﻭﺇﻥ ﺩﻋﺖ اﻟﻀﺮﻭﺭﺓ ﻷﻥ ﻳﺪﻓﻦ ﻣﻊ اﻟﺮﺟﻞ اﻣﺮﺃﺓ ﺟﻌﻞ ﺑﻴﻨﻬﻤﺎ ﺣﺎﺋﻞ ﻣﻦ اﻟﺘﺮاﺏ ﻭﺟﻌﻞ اﻟﺮﺟﻞ ﺃﻣﺎﻣﻬﺎ اﻋﺘﺒﺎﺭا ﺑﺤﺎﻝ اﻟﺤﻴﺎﺓ ﻭﻻ ﻳﺪﻓﻦ ﻛﺎﻓﺮ ﺑﻤﻘﺎﺑﺮ اﻟﻤﺴﻠﻤﻴﻦ ﻭﻻ ﻣﺴﻠﻢ ﻓﻲ ﻣﻘﺒﺮﺓ اﻟﻜﻔﺎﺭ.. (المهذب:٢٥٤/١)
علامہ عمرانی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ﻗﺎﻝ اﻟﺸﺎﻓﻌﻲ ﺭﺣﻤﻪ اﻟﻠﻪ ﻭﻻ ﺃﺣﺐ ﺃﻥ ﻳﺪﻓﻦ ﻓﻲ ﻗﺒﺮ ﺃﻛﺜﺮ ﻣﻦ ﻭاﺣﺪ؛ ﻷﻥ اﻟﻨﺒﻲ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ -ﻛﺎﻥ ﻳﻔﻌﻞ ﻫﻜﺬا) . ﻓﺈﻥ ﺩﻋﺖ ﺇﻟﻰ ﺫﻟﻚ ﺿﺮﻭﺭﺓ، ﺑﺄﻥ ﻳﻜﺜﺮ اﻟﻤﻮﺗﻰ، ﺃﻭ ﻳﻜﻮﻥ ﻓﻲ اﻟﻨﺎﺱ ﺿﻌﻒ؛ ﻟﻘﻠﺔ اﻟﻐﺬاء ﻓﻲ اﻟﻘﺤﻂ، ﺃﻭ ﻣﺸﺘﻐﻠﻴﻦ ﻓﻲ اﻟﺤﺮﺏ … ﺟﺎﺯ ﺃﻥ ﻳﺪﻓﻦ اﻻﺛﻨﺎﻥ، ﻭاﻟﺜﻼﺛﺔ، ﻭﺃﻛﺜﺮ ﻓﻲ ﻗﺒﺮ، ﻭﻳﻘﺪﻡ ﺃﻛﺜﺮﻫﻢ ﻗﺮﺁﻧﺎ ﺇﻟﻰ اﻟﻘﺒﻠﺔ؛ ﻟﻤﺎ ﺭﻭﻱ: «ﺃﻥ اﻟﻨﺒﻲ – ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ – ﺃﻣﺮ ﻓﻲ ﻗﺘﻠﻰ ﺃﺣﺪ ﺃﻥ ﻳﺠﻌﻞ اﻻﺛﻨﺎﻥ ﻭاﻟﺜﻼﺛﺔ ﻓﻲ ﻗﺒﺮ، ﻗﺎﻟﻮا: ﻓﻤﻦ ﻧﻘﺪﻡ؟ ﻗﺎﻝ: "ﺃﻛﺜﺮﻫﻢ ﻗﺮﺁﻧﺎ ﻗﺎﻝ اﻟﺸﺎﻓﻌﻲ ﺭﺣﻤﻪ اﻟﻠ(ﻭﻳﺠﻌﻞ ﺑﻴﻦ ﻛﻞ اﺛﻨﻴﻦ ﺣﺎﺟﺰ ﻣﻦ ﺗﺮاﺏ، ﻭﺇﻥ ﺩﻋﺖ ﺿﺮﻭﺭﺓ ﺃﻥ ﻳﺪﻓﻦ ﺭﺟﻞ ﻣﻊ اﻣﺮﺃﺓ ﻓﻲ ﻗﺒﺮ … ﺟﻌﻞ اﻟﺮﺟﻞ ﻗﺪاﻣﻬﺎ، ﻭﺟﻌﻞ ﺑﻴﻨﻬﻤﺎ ﺣﺎﺟﺰ ﻣﻦ ﺗﺮاﺏ) . ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﺭﺟﻼ ﻭﺻﺒﻴﺎ ﻭﺧﻨﺜﻰ ﻭاﻣﺮﺃﺓ … ﻗﺪﻡ اﻟﺮﺟﻞ، ﺛﻢ اﻟﺼﺒﻲ، ﺛﻢ اﻟﺨﻨﺜﻰ، ﺛﻢ اﻟﻤﺮﺃﺓ، اﻋﺘﺒﺎﺭا ﺑﺼﻒ اﻟﺼﻼﺓ. (البيان:٩٨/٣)
علامہ خطیب شربین رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ﻭﻳﻘﺪﻡ اﻟﺮﺟﻞ ﻋﻠﻰ اﻟﺼﺒﻲ ﻭاﻟﺼﺒﻲ ﻋﻠﻰ اﻟﺨﻨﺜﻰ، ﻭاﻟﺨﻨﺜﻰ ﻋﻠﻰ اﻟﻤﺮﺃﺓ، ﻭﻻ ﻳﺠﻤﻊ ﺭﺟﻞ ﻭاﻣﺮﺃﺓ ﻓﻲ ﻗﺒﺮ ﺇﻻ ﻟﻀﺮﻭﺭﺓ ﻓﻴﺤﺮﻡ ﻋﻨﺪ ﻋﺪﻣﻬﺎ ﻛﻤﺎ ﻓﻲ اﻟﺤﻴﺎﺓ. ﻗﺎﻝ اﺑﻦ اﻟﺼﻼﺡ: ﻭﻣﺤﻠﻪ ﺇﺫا ﻟﻢ ﻳﻜﻦ ﺑﻴﻨﻬﻤﺎ ﻣﺤﺮﻣﻴﺔ ﺃﻭ ﺯﻭﺟﻴﺔ ﻭﺇﻻ ﻓﻴﺠﻮﺯ اﻟﺠﻤﻊ. (مغني المحتاج:٤٠/٢)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0912
*اگر کسی عورت کا حالت حیض یا نفاس میں انتقال ہوجائے تو غسل دیتے وقت حیض و نفاس کی نیت سے الگ غسل دینا ضروری ہے؟*
*عورت کا اگر حالت حیض یا نفاس میں انتقال ہوجائے تو اسے ایک ہی غسل دینا کافی ہے، نفاس اور حیض اور موت کی نیت سے الگ غسل دینا ضروری نہیں ہے*
*قال الإمام النووي رحمة الله عليه: مَذْهَبُنَا أَنَّ الْجُنُبَ وَالْحَائِضَ إذَا مَاتَا غُسِّلَا غُسْلًا وَاحِدًا وَبِهِ قَالَ الْعُلَمَاءُ كَافَّةً إلَّا الْحَسَنَ الْبَصْرِيَّ.* (المجموع شرح المهذب:5/152) *قال الإمام الخطيب الشربيني رحمة الله عليه: وَيُغَسَّلُ الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ) وَالنُّفَسَاءُ (وَالْمَيِّتُ بِلَا كَرَاهَةٍ) ؛ لِأَنَّهُمَا طَاهِرَانِ كَغَيْرِهِمَا (وَإِذَا مَاتَا غُسِّلَا غُسْلًا وَاحِدًا فَقَطْ) ؛ لِأَنَّ الْغُسْلَ الَّذِي كَانَ عَلَيْهِمَا انْقَطَعَ بِالْمَوْتِ كَمَا تَقَدَّمَ فِي الشَّهِيدِ الْجُنُبِ.* (مغني المحتاج إلى معرفة معاني ألفاظ المنهاج:٤٦/٢) *قال الإمام الرافعي رحمة الله عليه: يجوز للجنب والحائض غسل الميت بلا كراهة ولو ماتا غسلاً غسلاً واحداً. وإذا رأى الغاسل من الميت ما يعجبه استحب أن يتحدث به.* (العزيز شرح الوجيز المعروف بالشرح الكبير ط العلمية:٤٠٩/٢) *قال الإمام ابن حجر الهيتمي رحمة الله عليه: وَيُغَسَّلُ الْجُنُبُ وَالْحَائِضُ) وَمِثْلُهُمَا النُّفَسَاءُ (الْمَيِّتُ بِلَا كَرَاهَةٍ) لِأَنَّهُمَا طَاهِرَانِ وَفِيهِ تَضْعِيفٌ لِمَا قَالَهُ الْمَحَامِلِيُّ مِنْ حُرْمَةِ حُضُورِهِمَا عِنْدَ الْمُحْتَضَرِ وَوَجْهٌ بِمَنْعِهِمَا لِمَلَائِكَةِ الرَّحْمَةِ لِمَا فِي الْخَبَرِ الصَّحِيحِ «أَنَّ الْمَلَائِكَةَ لَا تَدْخُلُ بَيْتًا فِيهِ جُنُبٌ» إذْ لَوْ نَظَرَ لِذَلِكَ لَحَرُمَ تَغْسِيلُهُمَا لَهُ أَيْضًا وَلَا قَائِلَ بِهِ وَتَوَهُّمُ فَرْقٍ بَيْنَ الْمُحْتَضَرِ وَالْمَيِّتِ لَا يُجْدِي لِاحْتِيَاجِ كُلٍّ إلَى حُضُورِ مَلَائِكَةِ الرَّحْمَةِ (وَإِذَا مَاتَا غُسِّلَا غُسْلًا فَقَطْ) لِلْمَوْتِ لِانْقِطَاعِ مَا عَلَيْهِمَا بِهِ.* (تحفة المحتاج في شرح المنهاج وحواشي الشرواني والعبادي:١٨٤/٣)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا جعفر فقیہ صاحب ندوی
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب
مولانا عبد الاحد فکردے صاحب ندوی