درس قرآن نمبر 0377
سورہ النساء آیت نمبر 090
مولانا عبد العلیم خطیب صاحب ندوی
سورہ النساء آیت نمبر 090
مولانا عبد العلیم خطیب صاحب ندوی
سورہ النساء آیت نمبر 089
مولانا عبد العلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبد الاحد فکردے صاحب ندوی
فضيلة الشيخ عبد المحسن بن محمد القاسم
فضيلة الشيخ عبد الله بن عواد الجهني
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
سورہ النساء آیت نمبر 088
مولانا عبد العلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر / 1315
اگر کوئی السلام علیکم کہنے کے بجائے عمدا وعلیکم السلام کہہ تو اس سلام کے جواب دینے کا کیا حکم ہے؟
سلام کی ابتداءً السلام علیکم ورحمۃ اللّٰہ وبرکاتہ مکمل سلام سے کرنا سنت ہے۔ اگر کوئی جان بوجھ کر سلام کی ابتدا "علیکم السلام” یا "علیکم سلام” کہے تو یہ بھی سلام ہوگا اور اس کا جواب دینا واجب ہوگا البتہ اس طرح سلام کرنا مکروہ ہے۔ ہاں اگر کوئی وعلیکم السلام کہے تو یہ سلام ہی نہیں ہے۔ اور اس طرح سلام کرنے پر جواب دینا واجب نہیں ہے۔
ﻭﺃﻣﺎ ﺃﻗﻞ اﻟﺴﻼﻡ اﺑﺘﺪاء ﻛﺄﻥ ﻳﻘﻮﻝ اﻟﺴﻼﻡ ﻋﻠﻴﻜﻢ ﺃﻭ ﻋﻠﻴﻚ ﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﻭﺣﺪﻩ ﺃﻭ ﺳﻼﻡ ﻋﻠﻴﻜﻢ ﺃﻭ ﻋﻠﻴﻚ ﻭﻟﻮ ﻗﺎﻝ ﻋﻠﻴﻜﻢ اﻟﺴﻼﻡ ﻓﻮﺟﻬﺎﻥ (ﺃﺣﺪﻫﻤﺎ) ﺃﻧﻪ ﻟﻴﺲ ﺑﺘﺴﻠﻴﻢ ﻭﺑﻪ ﻗﻄﻊ اﻟﻤﺘﻮﻟﻲ (ﻭاﻟﺜﺎﻧﻲ) ﻭﻫﻮ اﻟﺼﺤﻴﺢ ﺃﻧﻪ ﺗﺴﻠﻴﻢ ﻳﺠﺐ ﻓﻴﻪ اﻟﺠﻮاﺏ ﻭﺑﻪ ﻗﻄﻊ اﻟﻮاﺣﺪﻱ ﻭﺇﻣﺎﻡ اﻟﺤﺮﻣﻴﻦ ﻭﻏﻴﺮﻫﻤﺎ ﻭﻟﻜﻦ ﻳﻜﺮﻩ اﻻﺑﺘﺪاء ﺑﻪ ﺻﺮﺡ ﺑﻜﺮاﻫﺘﻪ اﻟﻐﺰاﻟﻲ ﻓﻲ اﻻﺣﻴﺎء ﻭﺩﻟﻴﻠﻪ اﻟﺤﺪﻳﺚ اﻟﺼﺤﻴﺢ ﻋﻦ ﺃﺑﻰ ﺟﺮﺉ ﺑﻀﻢ اﻟﺠﻴﻢ ﺗﺼﻐﻴﺮ ﺟﺮﻭ ﺭﺿﻲ اﻟﻠﻪ ﻋﻨﻪ ﻗﺎﻝ ” ﻗﻠﺖ ﻋﻠﻴﻚ اﻟﺴﻼﻡ ﻳﺎ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﻗﺎﻝ ﻻ ﺗﻘﻞ ﻋﻠﻴﻚ اﻟﺴﻼﻡ ﻓﺈﻥ ﻋﻠﻴﻚ اﻟﺴﻼﻡ ﺗﺤﻴﺔ اﻟﻤﻮﺗﻰ” ﺭﻭاﻩ ﺃﺑﻮ ﺩاﻭﺩ ﻭاﻟﺘﺮﻣﺬﻱ ﻭﻏﻴﺮﻫﻤﺎ ﺑﺎﻷﺳﺎﻧﻴﺪ اﻟﺼﺤﻴﺤﺔ ﻗﺎﻝ اﻟﺘﺮﻣﺬﻱ ﺣﺪﻳﺚ ﺣﺴﻦ ﺻﺤﻴﺢ
(المجموع :٤/٥٩٦)
ﺗﻨﺒﻴﻪ:ﺻﻴﻐﺔ اﻟﺴﻼﻡ اﺑﺘﺪاء: اﻟﺴﻼﻡ ﻋﻠﻴﻜﻢ، ﻓﺈﻥ ﻗﺎﻝ: ﻋﻠﻴﻜﻢ اﻟﺴﻼﻡ ﺟﺎﺯ؛ ﻷﻧﻪ ﺗﺴﻠﻴﻢ ﻟﻜﻦ ﻣﻊ اﻟﻜﺮاﻫﺔ ﻟﻠﻨﻬﻲ ﻋﻨﻪ ﻓﻲ ﺧﺒﺮ اﻟﺘﺮﻣﺬﻱ ﻭﻏﻴﺮﻩ، ﻭﻳﺠﺐ ﻓﻴﻪ اﻟﺮﺩ ﻋﻠﻰ اﻟﺼﺤﻴﺢ ﻛﻤﺎ ﻧﻘﻠﻪ ﻓﻲ اﻟﺮﻭﺿﺔ ﻋﻦ اﻹﻣﺎﻡ ﻭﺃﻗﺮﻩ، ﻭﺇﻥ ﺑﺤﺚ اﻷﺫﺭﻋﻲ ﻋﺪﻡ اﻟﻮﺟﻮﺏ، ﻭﻙﻋﻠﻴﻜﻢ اﻟﺴﻼﻡ ﻋﻠﻴﻜﻢ ﺳﻼﻡ. ﺃﻣﺎ ﻟﻮ ﻗﺎﻝ: ﻭﻋﻠﻴﻜﻢ اﻟﺴﻼﻡ ﻓﻠﻴﺲ ﺳﻼﻣﺎ ﻓﻼ ﻳﺴﺘﺤﻖ ﺟﻮاﺑﺎ؛ ﻷﻧﻪ ﻻ ﻳﺼﻠﺢ ﻟﻻﺑﺘﺪاء ﻛﻤﺎ ﻧﻘﻠﻪ ﻓﻲ اﻷﺫﻛﺎﺭ ﻋﻦ اﻟﻤﺘﻮﻟﻲ ﻭﺃﻗﺮﻩ
(مغني المحتاج:٦/١٦)
(ﻗﻮﻟﻪ: ﻭﺻﻴﻐﺔ ﺇﺑﺘﺪاﺋﻪ اﻟﺴﻼﻡ ﻋﻠﻴﻜﻢ) ﺃﻱ ﻭﺻﻴﻐﺔ ﺭﺩﻩ: ﻭﻋﻠﻜﻴﻢ اﻟﺴﻼﻡ، ﺃﻭ ﺳﻼﻡ ﻭﻟﻮ ﺗﺮﻙ اﻟﻮاﻭ ﺟﺎز- ﻭﺇﻥ ﻛﺎﻥ ﺫﻛﺮﻫﺎ ﺃﻓﻀﻞ – ﻓﺈﻥ ﻋﻜﺲ ﻓﻴﻬﻤﺎ، ﺑﺄﻥ ﻗﺎﻝ ﻓﻲ اﻻﺑﺘﺪاء ﻋﻠﻴﻜﻢ اﻟﺴﻼﻡ، ﻭﻗﺎﻝ ﻓﻲ اﻟﺮﺩ اﻟﺴﻼﻡ ﻋﻠﻴﻜﻢ، ﺟﺎﺯ ﻭﻛﻔﻰ. ﻓﺈﻥ ﻗﺎﻝ ﻓﻲ اﻟﺮﺩ ﻭﻋﻠﻴﻜﻢ ﻭﺳﻜﺖ ﻋﻦ اﻟﺴﻼﻡ ﻟﻢ ﻳﺠﺰ: ﺇﺫ ﻟﻴﺲ ﻓﻴﻪ ﺗﻌﺮﺽ ﻟﻠﺴﻼﻡ.(ﻗﻮﻟﻪ: ﻭﻛﺬا ﻋﻠﻴﻜﻢ اﻟﺴﻼﻡ) ﺃﻱ ﻭﻛﺬﻟﻚ ﻳﻜﻔﻲ ﻓﻲ ﺻﻴﻐﺔ اﻻﺑﺘﺪاء ﻋﻠﻴﻜﻢ اﻟﺴﻼﻡ ﺑﺘﻘﺪﻳﻢ اﻟﺨﺒﺮ.(ﻗﻮﻟﻪ: ﺃﻭ ﺳﻼﻡ) ﻣﻌﻄﻮﻑ ﻋﻠﻰ ﻟﻔﻆ اﻟﺴﻼﻡ: ﺃﻱ ﻭﻛﺬا ﻳﻜﻔﻲ ﻋﻠﻴﻜﻢ ﺳﻼﻡ، ﺑﺎﻟﺘﻨﻜﻴﺮ ﻭﺗﻘﺪﻳﻢ اﻟﺨﺒﺮ. (ﻗﻮﻟﻪ: ﻟﻜﻨﻪ ﻣﻜﺮﻭﻩ) ﺃﻱ ﻟﻜﻦ اﻻﺗﻴﺎﻥ ﻓﻲ اﻻﺑﺘﺪاء ﺑﻋﻠﻴﻜﻢ اﻟﺴﻼﻡ، ﺃﻭ ﻋﻠﻴﻜﻢ ﺳﻼﻡ ﻣﻜﺮﻭﻩ،ﻓﻀﻤﻴﺮ ﻟﻜﻨﻪ ﻳﻌﻮﺩ ﻋﻠﻰ ﻣﺎ ﺑﻌﺪ، ﻭﻛﺬا ﻻ ﻋﻠﻰ ﻗﻮﻟﻪ ﺃﻭ ﺳﻼﻡ ﻓﻘﻂ. ﻭﻋﺒﺎﺭﺓ اﻟﻨﻬﺎﻳﺔ: ﻭﻳﺠﺰﺉ ﻣﻊ اﻟﻜﺮاﻫﺔ ﻋﻠﻴﻜﻢ اﻟﺴﻼﻡ، ﻭﻳﺠﺐ ﻓﻴﻪ اﻟﺮﺩ، ﻭﻙﻋﻠﻴﻜﻢ اﻟﺴﻼﻡ ﻋﻠﻴﻜﻢ ﺳﻼﻡ.اﻩ.(ﻭﻗﻮﻟﻪ: ﻟﻠﻨﻬﻲ ﻋﻨﻪ) ﺃﻱ ﻓﻲ ﺧﺒﺮ اﻟﺘﺮﻣﺬﻱ ﻭﻏﻴﺮﻩ.ﻗﻮﻟﻪ: ﺑﺨﻼﻑ ﻭﻋﻠﻴﻜﻢ اﻟﺴﻼﻡ) ﺃﻱ ﻓﺈﻧﻪ ﻻ ﻳﺠﺐ ﻓﻴﻪ اﻟﺮﺩ، ﻷﻧﻪ ﻻ ﻳﺼﻠﺢ ﻻﺑﺘﺪاء اﻟﺴﻼﻡ،ﻟﺘﻘﺪﻡ ﻭاﻭ اﻟﻌﻄﻒ.
(إعانة الطالبين:٤/٢١٤)
فقہ شافعی سوال نمبر / 1314
اگر کسی عورت سر کے بال بہت زیادہ لمبے ہوں تو اس کے کاٹنے کا کیا حکم ہے؟
عورت کے لیے حلق کرنا مکروہ ہے۔ اگر کسی عورت کے بال اس قدر لمبے ہوں کہ ان کو سنبھالنا دشوار ہوجائے تو زائد مقدار والے بالوں کو کاٹ سکتی ہیں۔اسی طرح شوہر کی اجازت سے زینت کی غرض سے یا عذر کی بناء پر بالوں کو باریک کرنا جائز ہے۔ اس کے برخلاف عورت اگر فیشن یا اہل مغرب کی تقلید میں بال کٹواتی ہے یا غیر شادی شدہ عورت زینت کے لیے بالوں کو فیشن کے طور پر کاٹتی ہے تو اس کی گنجائش نہیں. غیر شادی شدہ عورتوں کے لیے اس طرح کرنا حرام ہے۔
وفيه دليل على جواز تخفيف الشعور للنساء”
(شرح مسلم:٤/٥)
قال ابن المنذر: أجمعوا أن لا حلق على النساء إنما عليهن التقصير قالوا: ويكره لهن الحلق، لأنه بدعة في حقهن وفيه.
المجموع:٨/١١٠
(ﻭﺗﻘﺼﺮ اﻟﻤﺮﺃﺓ) ﻭﻻ ﺗﺆﻣﺮ ﺑﺎﻟﺤﻠﻖ ﺇﺟﻤﺎﻋﺎ ﺑﻞ ﻳﻜﺮﻩ ﻟﻬﺎ اﻟﺤﻠﻖ ﻋﻠﻰ اﻷﺻﺢ ﻓﻲ اﻟﻤﺠﻤﻮﻉ، ﻭﻗﻴﻞ: ﻳﺤﺮﻡ ﻷﻧﻪ ﻣﺜﻠﺔ ﻭﺗﺸﺒﻪ ﺑﺎﻟﺮﺟﺎﻝ، ﻭﻣﺎﻝ ﺇﻟﻴﻪ اﻷﺫﺭﻋﻲ ﻓﻲ اﻟﻤﺰﻭﺟﺔ ﻭاﻟﻤﻤﻠﻮﻛﺔ ﺣﻴﺚ ﻻ ﻳﺆﺫﻥ ﻟﻬﺎ ﻓﻴﻪ.”
(مغني المحتاج:٢/٢٦٩)