درس قرآن نمبر 1210
سورة بنى اسرائيل– آيت نمبر 016-017 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
سورة بنى اسرائيل– آيت نمبر 016-017 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0641
بچے کو دودھ پلانے کی کتنی مدت ہے؟ اور متعین مدت کے بعد دودھ پلانا کیسا ہے؟
جواب:۔ قرآن میں اللہ تعالی کا فرمان ہے۔مائیں اپنے بچوں کو پورے دو سال دودھ پلائیں۔ (سورة البقرة /233) رضاعت کے ثبوت کے لیے بچے کو دودھ پلانے کی اصل مدت دو سال تک ہے، اگر ماں دو سال کے بعد بھی اپنے بچے کو دودھ پلانا چاہیے تو پلانا جائز ہے اس لئے کہ وہ بچوں کے حق میں بہتر ہے، لہذا ماں اپنے بچے کو جب تک دودھ پلا سکتی ہے پلائے اسلئے کہ ماں کا دودھ بچے کے حق میں بہتریں غذا ہے۔
فذكر أن تمام الرضاع في الحولين فعلم أنه لم يرد أنه لا يجوز أكثر منه لأن ذالك يجوز۔ (البيان 11/ 122) فإن استمر رضاع بعد الحولين لضعف الطفل فلا مانع منه للحاجة ولكن لايترتب عليه احكامه من التحريم۔ (الفقه الإسلامي وأدلته :7/ 710) وقوله تعالي (حولين كاملين لمن أراد أن يتم الرضاعة) يدل علي أن هذا تمام الرضاعة ومابعد ذالك فهو غذاء من الأغذية۔ (مجموع الفتاوي/34) ★فتاوي اللجنة الدائمة 21/ 60
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة بنى اسرائيل– آيت نمبر 015-016 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
درس حدیث نمبر / 003
فقہ شافعی سوال نمبر 0640
حالت حمل میں کیا عورت بچے کو دودھ پلا سکتی ہے؟
جواب:۔ حالت حمل میں دودھ پلانا جائز ہے۔ صحیح مسلم کی روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے حالت حمل میں بچوں کو دودھ پلانا سے منع کرنے کا ارادہ تھا لیکن میں نے دیکھا کہ رومی اور ایرانی لوگ اس طرح حالت حمل میں اپنے بچوں کو دودھ پلاتے ہیں اور ان کے لیے کوئی نقصان نہیں ہوتا اس لیے میں نے اس سے منع کرنے کا ارادہ ترک کر دیا۔
إختلف العلماء في المراد بالغيلة في هذا الحديث وهي الغيل. فقال مالك في المؤطا واالاصماعي وغيره من اهل اللغة. أن يجامع إمرأته وهي مرضع. وقال إبن السكيت .هو أن ترضع المرأة وهي حامل. قال العلماء رحمهم الله. سبب همه صلي الله عليه وسلم بالنهي عنها أنه يخاف منه ضرر الولد الرضيع قالو. والأطباء يقولون إن ذلك اللبن داء والعرب تكرهه وتتقيه. وفي الحديث جواز الغيلة فإنه صلي الله عليه وسلم لم ينه عنها وبين سبب ترك النهي۔ (شرح المنهاج :4/ 16) وتجوز الغيلة. وهي إرضاع الحامل. وتركهاأولي إن لم يتحقق مرض الرضيع وإلا منعت (الموسوعة الفقهية 31/ 344) (مسلم شريف/1442)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
سورة بنى اسرائيل– آيت نمبر 012-013-014 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی