جمعرات _30 _اگست _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال/ 0638
کھڑے ہو کر استنجاء کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب:۔ اگر کسی شخص کو بیٹھ کر پیشاب پاخانہ کرنے میں تکلیف ہوتی ہو تو اس کے لیے کھڑے ہوکر کرنا جائز ہے ہاں اگر کھڑے ہوکر کرنے سے چھینٹے اڑنے کا اندیشہ ہو تو پھر پیالہ یا مخصوص پیشاب کے لیے بنائے گئے باتل یا کھڑے ہوکر پیشاب کرنے کے لیے بنائے گئے بیسن میں پیشاب یا پاخانہ کرے گا۔ ہاں اگر کھڑے ہوکر استنجاء کرنے سے ناپاکی کے چھینٹے اڑنے کا اندیشہ ہو تو اس جگہ سے ہٹ کر استنجاء کرے گا، اس کے باوجود بھی اگر نجاست لگ جائے تو استنجا کے بعد اس کو دھونا ضروری ہے۔
ولا يبول قائما…….. الا لعذر فلا يكره فلا يكره له ذلك، ولاء خلاف اولی فقد ثبت انه النبي صلى الله عليه و سلم أتى. سباطه قوم فبال قائما۔ (مغني المحتاج:136/1) ولاء يستنجي بماء في مجلسه بل ينتقل لانه تحصل له رشاش ينجسه ،قال في الروضه: الا في الاخلية المعدة لذلك، فلا ينتقل، لانه لا يناله فيها رشاش۔ (كنز الراغبين/ 41) لاباس بالبول في إناء (النجم الوهاج1/291)
جمعرات _30 _اگست _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
جمعرات _30 _اگست _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سورة بنى اسرائيل– آيت نمبر 009-010-011-012 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
بدھ _29 _اگست _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
بدھ _29 _اگست _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0637
ملازمین کی تنخواہ وقت پر نہ دیتے ہوئے اس میں تاخیر کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب :۔ تنخواہ ملازمین کی محنت کی اجرت ہے اس کا بلا وجہ تاخیر کرنا جائز نہیں اسلئے کہ حدیث شریف میں ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تم لوگ اجیر کی اجرت کو اس کے پسینہ خشک ہو نے سے پہلے ادا کرو(۱) حضرت ابوھریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ مالدار آدمی کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے (۲) ان حدیثوں کی روشنی میں یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ بلاوجہ ٹال مٹول کرنا ظلم اور ناجائز ہے اگر کسی عذر کی وجہ سے تاخیر ہو رہی ہو تو اس کی گنجائش ہے۔ البتہ وقت پر ادائیگی کی کوشش کرنی چاہیے۔
وقال الأزهري. المطل المدافعة، والمراد هنا تأخير مااستحق أداءه بغير عذر …والمعني أنه يحرم علي الغني القادر أن يمطل بالدين بعد إستحقاقه بخلاف العاجز(۳) (مطل الغني) أي تأخيره أداء الدين من وقت إلي وقت، قوله ظلم. فإن المطل منع لأداء مااستحق أداءه وهو حرام من المتمكن ولو كان غنيا، ولكنه ليس متمنكا جاز له التأخير إلي الإمكان، ذكره النووي(۴) (۱)سنن ابن ماجہ رقم الحدیث ۲۴۴۳ (۲)صحیح البخاری رقم الحدیث ۲۲۸۷ (۳)فتح الباری ۶/ ۳۵۷ (۴)عون المعبود ۵/ ۴۴۲ ★سنن الدارمی رقم الحدیث ۲۶۲۸
بدھ _29 _اگست _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
منگل _28 _اگست _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
منگل _28 _اگست _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
منگل _28 _اگست _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سورة بنى اسرائيل– آيت نمبر 008-009-010 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
اتوار _26 _اگست _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
درس حدیث نمبر / 002
اتوار _26 _اگست _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مكۃ المكرّمہ اردو ترجمہ
عنوان: حج کے فوائد
اتوار _26 _اگست _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سورة بنى اسرائيل– آيت نمبر 006-007-008 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
ہفتہ _25 _اگست _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مكۃ المكرّمہ اردو ترجمہ
عنوان: قول و عمل میں اخلاص
ہفتہ _25 _اگست _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ عبدالله بن عبدالرحمن البعيجان
ہفتہ _25 _اگست _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ صالح بن عبدالله بن حميد