درس حدیث نمبر 0452
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0889
*ناپاک جگہ پر چٹائی وغیرہ بچھاکر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟*
*نجاست کی جگہ پر نماز پڑھنا درست نہیں ہے ہاں اگر کوئی مناسب جگہ نہ ہو تو اسی نجاست والی زمین پر کپڑا یا چٹائی وغیرہ بچھا کر ہو نماز پڑھ سکتے ہیں البتہ ایسی جگہ پر کوئی چیز بچھا کر نماز پڑھنا مکروہ ہے۔*
*علامہ نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں۔اﻟﻤﺰﺑلة، ﻭاﻟﻤﺠﺰﺭﺓ، ﻭاﻟﻨﻬﻲ ﻓﻴﻬﻤﺎ ﻟﻨﺠﺎﺳﺔ اﻟﻤﻮﺿﻊ. ﻓﻠﻮ ﻓﺮﺵ ﺛﻮﺑﺎ ﺃﻭ ﺑﺴﺎﻃﺎ ﻃﺎﻫﺮا، ﺻﺤﺖ ﺻﻼﺗﻪ، ﻭﻟﻜﻦ ﺗﻜﺮﻩ ﺑﺴﺒﺐ اﻟﻨﺠﺎﺳﺔ ﺗﺤﺘﻪ..* (روضةالطالبين: ٢٧٧/١) *علامہ شیرازی ابو اسحاق رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ﻓﺈﻥ ﺻﻠﻰ ﻋﻠﻰ ﺃﺭﺽ ﻓﻴﻬﺎ ﻧﺠﺎﺳﺔ ﻓﺈﻥ ﻋﺮﻑ ﻣﻮﺿﻌﻬﺎ ﺗﺠﻨﺒﻬﺎ ﻭﺻﻠﻰ ﻓﻲ غيرها ﻭﺇﻥ ﻓﺮﺵ ﻋﻠﻴﻬﺎ ﺷﻴﺌﺎ ﻭﺻﻠﻰ ﻋﻠﻴﻪ ﺟﺎﺯ ﻷﻧﻪ ﻏﻴﺮ ﻣﺒﺎﺷﺮ ﻟﻠﻨﺠﺎﺳﺔ۔* (المهذب: ١٢٠/١)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0888
*ریت سے تیمم کرنے کا شرعاً کیا حکم ہے ؟*
*ايسی ریت جس میں غبار ہو تو اس ریت سے تیمم کرنا جائز ہے، اگر ریت میں غُبار نہ ہو تو اس ریت سے تیمم کرنا درست نہیں ہے۔*
*علامہ ماوردی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ﻓﺄﻣﺎ اﻝﺭﻣﻞ ﻓﻘﺪ ﻧﺺ اﻟﺸﺎﻓﻌﻲ ﻓﻲ اﻟﻘﺪﻳﻢ ﻋﻠﻰ ﺟﻮاﺯ اﻟﺘﻴﻤﻢ ﺑﻪ ﻭﻧﺺ ﻓﻲ اﻟﺠﺪﻳﺪ ﻋﻠﻰ ﺃﻧﻪ ﻻ ﻳﺠﻮﺯ اﻟﺘﻴﻤﻢ ﺑﻪ ﻭﻟﻴﺲ ﺫﻟﻚ ﻋﻠﻰ ﻗﻮﻟﻴﻦ ﻛﻤﺎ ﻏﻠﻂ ﻓﻴﻪ ﺑﻌﺾ ﺃﺻﺤﺎﺑﻨﺎ، ﻭﺇﻧﻤﺎ اﻝﺭﻣﻞ ﻋﻠﻰ ﺿﺮﺑﻴﻦ: ﺿﺮﺏ ﻣﻨﻪ ﻳﻜﻮﻥ ﻟﻪ ﻏﺒﺎﺭ ﻳﻌﻠﻖ ﺑﺎﻟﻴﺪ، ﻓﺎﻟﺘﻴﻤﻢ ﺑﻪ ﺟﺎﺋﺰ؛ ﻷﻧﻪ ﻣﻦ ﺟﻨﺲ اﻷﺭﺽ ﻭﻃﺒﻘﺎﺕ اﻷﺭﺽ، ﻭﺿﺮﺏ ﻣﻨﻪ ﻻ ﻏﺒﺎﺭ ﻟﻪ، ﻓﻼ ﻳﺠﻮﺯ اﻟﺘﻴﻤﻢ ﺑﻪ؛ ﻟﻌﺪﻡ ﻏﺒﺎﺭﻩ اﻟﺬﻱ ﻳﻘﻊ اﻟﺘﻴﻤﻢ ﺑﻪ، ﻻ ﻟﺨﺮﻭﺟﻪ ﻣﻦ ﺟﻨﺲ اﻟﺘﺮاﺏ.* (الحاوی الکبیر:٢٤٠/١) *علامہ شیرازی ابو اسحاق رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ﻭﻳﺠﺐ اﻟﺘﻴﻤﻢ ﻋﻦ اﻷﺣﺪاﺙ ﻛﻠﻬﺎ اﺫا ﻋﺠﺰ ﻋﻦ اﺳﺘﻌﻤﺎﻝ اﻟﻤﺎء ﻭﻻ ﻳﺠﻮﺯ اﻟﺘﻴﻤﻢ اﻻ ﺑﺘﺮاﺏ ﻃﺎﻫﺮ ﻟﻪ ﻏﺒﺎﺭ.* (التنبیه:٢٠/١)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
مولانا عبد الاحد فكردے صاحب ندوی
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی