مومن عیار اور بھولا نہیں ہوتا – 03-08-2018
مولانا جعفر فقیہ صاحب ندوی
مولانا جعفر فقیہ صاحب ندوی
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
جامعہ اسلامیہ بھٹکل میں انعامی نشست تقریب میں کیا ہوا بیان
حضرت مولانا خالد غازی پوری صاحب ندوی دامت برکاتہم
سورة النحل– آيت نمبر 072-073-074 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مسجد بلال مگلی ہونڈا بھٹکل میں نو تعمیر شدہ مسجد کی افتتاحی تقریب میں کیا ہوا بیان
حضرت مولانا خالد غازی پوری صاحب ندوی دامت برکاتہم
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0626
*شوہر کے انتقال کے بعد سسُر کا بہو سے اور بیوی کے انتقال کے بعد شوہر کا ساس سے پردہ کرنے کا کیا مسئلہ ہے؟*
*شریعت میں بہو سسر پر ہمیشہ کے لیے حرام ہے۔ لھذا بیٹے کی وفات کے بعد بھی بہو اور سسُر اور بیٹی کی وفات کے بعد داماد اور ساس کے درمیان پردہ کی ضرورت نہیں ہے*
*وَجُمْلَتُهُ: أَنَّهُ يَحْرُمُ عَلَى الرَّجُلِ حَلَائِلُ أَبْنَائِهِ وَأَبْنَاءِ أَوْلَادِهِ وَإِنْ سَفَلُوا مِنَ الرِّضَاعِ وَالنَّسَبِ بِنَفْسِ الْعَقْدِ۔* (تفسير البغوي:۱۹۱/۲) *والثالثة: زوجة الابن محرمة على الأب لعقد الِابْنِ عَلَيْهَا تَحْرِيمَ تَأْبِيدٍ سَوَاءً دَخَلَ بِهَا الابن أم لا، وهي الحليلة واختلف في تسميها الحليلة عَلَى ثَلَاثَةِ أَوْجُهٍ: أَحَدُهَا: أَنَّهَا سُمِّيَتْ حَلِيلَةً لِأَنَّهَا تَحِلُّ لِلزَّوْجِ. وَالثَّانِي: لِأَنَّهَا تَحُلُّ فِي الْمَكَانِ الَّذِي يَحُلُّ بِهِ الزَّوْجُ.وَالثَّالِثُ: لِأَنَّ كُلَّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا يَحِلُّ إِزَارَ صَاحِبِهِ*. (الحاوي الكبير:٢٠٠/٩) *ﺯﻭﺟﺔ اﻻﺑﻦ، ﻭﺯﻭﺟﺔ اﺑﻦ اﻻﺑﻦ، ﻭاﺑﻦ اﻟﺒﻨﺖ، ﻭﻫﻜﺬا ﺯﻭﺟﺎﺕ اﻟﻔﺮﻭع ﻓﻼ ﻳﺠﻮﺯ ﻧﻜﺎﺣﻬﻦ ﺑﺤﺎﻝ.ﻗﺎﻝ ﺗﻌﺎﻟﻰ: ﻭﺣﻼﺋﻞ ﺃﺑﻨﺎﺋﻜﻢ اﻟﺬﻳﻦ ﻣﻦﺃﺻﻼﺑﻜﻢ* (الفقه المنهجي:٢٧/٤)