درس حدیث نمبر 0252
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0621
ایک جانور کو قر بانی کے ایام شروع ہونے سے پہلے کوئی مرض لاحق ہو گیا تھا اسکی وجہ سے اسکی صحت کافی متأثر ہوگئی لیکن قربانی کے ایام میں وہ جانور اچھا ہوگا مگر کمزوری کے اثرات اب بھی باقی ہے تو کیا ایسے جانور کی قربانی درست ہے؟
جواب:۔ ایسا جانور جسے قربانی کے ایام شروع ہونے سے پہلے کوئی مرض لاحق ہوجائے اسکی وجہ سے اسکی صحت کافی متأثر ہوگئی ہو لیکن قربانی کے ایام میں اس جانور کی بیماری مکمل دور ہوجائے، البتہ اس مرض کی وجہ سے جانور میں کمزوری کا اثر باقی رہے تو ایسے جانور کی قربانی کرنا درست ہے۔
قال امام النووي رحمة الله عليه: العجفاء التي ذهب مخها من شدةهزالها لاتجزئ وإن كان به بعض الهزال ولم يذهب مخها أجزأت۔ (روضة الطالبين2/464) لا تجزئ التضحية بما فيه عيب ينقص اللحم ألمريضة. فإن كان مرضها يسيرا لم يمنع الإجزاء وإن كان بينا يظهر بسبب الهزال واللحم لم يجز ۔ (المجموع:8/293)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة النحل– آيت نمبر 067-068-069 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0620
کیا گونگے جانور کی قربانی کرنا جائز ہے؟
جواب:۔ اگر کوئی جانور گونگا ہو اس طور پر کہ کبھی اس کی آواز سنی نہیں گئی ہو تو اس جانور کی قربانی کرنا جائز ہے۔فقہاءکرام نے مزید اس بات کی وضاحت کی ہے کہ قربانی کے جانور کا گونگا ہونے سے اس کی خوبصورتی پر بھی کوئی اثر نہیں پڑتا نیر قربانی سے جانور کا گوشت ہڈی وغیرہ مقصود ہے، جانور کا بات کرنا ضروری نہیں۔
أربع لا تجزئ في الأضاحي : العوراء البين عورها، والمريضة البين مرضها، والعرجاء البين عرجها، والعجفاء التي لا تنقي…..
لأن المقصود من الأضحية اللحم أو نحو۔. (مغني المحتاج/ كتاب الاضحيه/جلد ٧)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0619
اگر کوئی شخص سفر میں ہو یا کسی دینی کام کے لیے دوسرے مقام پر گیا ہوا ہو تو اس شخص کےلئے قر بانی کا کیا حکم ہے؟اور ایسا شخص اپنی قربانی کس جگہ کرے گا؟
جواب:۔ اگر کوئی شخص سفر میں ہو یا کسی دینی کام کے لیے دوسری جگہ گیا ہوا ہو اور اس جگہ پر قربانی کرسکتا ہو تو اس مسافر یا مبلغ کےلئے قربانی کرنا سنت موکدہ ہے اور قربانی کرنے کےلئے جگہ متعین نہیں ہے، البتہ اپنے شہر میں قربانی کرنا افضل ہے ۔
أنها سنة مؤكدة وليست بواجبة علي مقيم ولا مسافر ……… وكان ذبحها في بلده أفضل وفي غير بلده جائز۔ (الحاوي الكبير جلد75/15-115)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
سورة النحل– آيت نمبر 064-065-066 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: اللہ پر توکل ؛ باہمت بننے کا ذریعہ
فضيلة الشيخ حسين بن عبدالعزيز آل الشيخ
فضيلة الشيخ فيصل بن جميل غزاوي