بدھ _25 _جولائی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0621
ایک جانور کو قر بانی کے ایام شروع ہونے سے پہلے کوئی مرض لاحق ہو گیا تھا اسکی وجہ سے اسکی صحت کافی متأثر ہوگئی لیکن قربانی کے ایام میں وہ جانور اچھا ہوگا مگر کمزوری کے اثرات اب بھی باقی ہے تو کیا ایسے جانور کی قربانی درست ہے؟
جواب:۔ ایسا جانور جسے قربانی کے ایام شروع ہونے سے پہلے کوئی مرض لاحق ہوجائے اسکی وجہ سے اسکی صحت کافی متأثر ہوگئی ہو لیکن قربانی کے ایام میں اس جانور کی بیماری مکمل دور ہوجائے، البتہ اس مرض کی وجہ سے جانور میں کمزوری کا اثر باقی رہے تو ایسے جانور کی قربانی کرنا درست ہے۔
قال امام النووي رحمة الله عليه: العجفاء التي ذهب مخها من شدةهزالها لاتجزئ وإن كان به بعض الهزال ولم يذهب مخها أجزأت۔ (روضة الطالبين2/464) لا تجزئ التضحية بما فيه عيب ينقص اللحم ألمريضة. فإن كان مرضها يسيرا لم يمنع الإجزاء وإن كان بينا يظهر بسبب الهزال واللحم لم يجز ۔ (المجموع:8/293)
بدھ _25 _جولائی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
منگل _24 _جولائی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سورة النحل– آيت نمبر 067-068-069 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
پیر _23 _جولائی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
پیر _23 _جولائی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
اتوار _22 _جولائی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0620
کیا گونگے جانور کی قربانی کرنا جائز ہے؟
جواب:۔ اگر کوئی جانور گونگا ہو اس طور پر کہ کبھی اس کی آواز سنی نہیں گئی ہو تو اس جانور کی قربانی کرنا جائز ہے۔فقہاءکرام نے مزید اس بات کی وضاحت کی ہے کہ قربانی کے جانور کا گونگا ہونے سے اس کی خوبصورتی پر بھی کوئی اثر نہیں پڑتا نیر قربانی سے جانور کا گوشت ہڈی وغیرہ مقصود ہے، جانور کا بات کرنا ضروری نہیں۔
أربع لا تجزئ في الأضاحي : العوراء البين عورها، والمريضة البين مرضها، والعرجاء البين عرجها، والعجفاء التي لا تنقي…..
لأن المقصود من الأضحية اللحم أو نحو۔. (مغني المحتاج/ كتاب الاضحيه/جلد ٧)
اتوار _22 _جولائی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0619
اگر کوئی شخص سفر میں ہو یا کسی دینی کام کے لیے دوسرے مقام پر گیا ہوا ہو تو اس شخص کےلئے قر بانی کا کیا حکم ہے؟اور ایسا شخص اپنی قربانی کس جگہ کرے گا؟
جواب:۔ اگر کوئی شخص سفر میں ہو یا کسی دینی کام کے لیے دوسری جگہ گیا ہوا ہو اور اس جگہ پر قربانی کرسکتا ہو تو اس مسافر یا مبلغ کےلئے قربانی کرنا سنت موکدہ ہے اور قربانی کرنے کےلئے جگہ متعین نہیں ہے، البتہ اپنے شہر میں قربانی کرنا افضل ہے ۔
أنها سنة مؤكدة وليست بواجبة علي مقيم ولا مسافر ……… وكان ذبحها في بلده أفضل وفي غير بلده جائز۔ (الحاوي الكبير جلد75/15-115)
اتوار _22 _جولائی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
اتوار _22 _جولائی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
سورة النحل– آيت نمبر 064-065-066 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
اتوار _22 _جولائی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
اتوار _22 _جولائی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
ہفتہ _21 _جولائی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: اللہ پر توکل ؛ باہمت بننے کا ذریعہ
ہفتہ _21 _جولائی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ حسين بن عبدالعزيز آل الشيخ
ہفتہ _21 _جولائی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فضيلة الشيخ فيصل بن جميل غزاوي
ہفتہ _21 _جولائی _2018AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)