وصايا الصلاح – 14-08-2020
فضيلة الشيخ أحمد بن طالب بن حميد
فضيلة الشيخ أحمد بن طالب بن حميد
فضيلة الشيخ سعود بن إبراهيم الشريم
فقہ شافعی سوال نمبر / 0883
*عورت بالغ ہونے کی اصل عمر کیا ہے؟ اگر اس متعینہ عمر کے بعد بھی حیض نہ ائے تو اسے نابالغ شمار کیا جائے؟*
*عورت کے بالغ ہونے کی کم سے کم عمر نو سال ہے اور زیادہ سے زیادہ عمر پندرہ سال ہے نو سال سے پندرہ سال تک اگر حیض نہ آئے تب وہ نابالغ مانی جائے گی اور اگر پندرہ سال کے بعد بھی حیض نہ آئے تب وہ بالغ مانی جائے گی ۔*
*علامہ انصاری رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ﻭاﻟﺼﺤﻴﺢ ﺃﻥ ﺃﻗﻞ ﺳﻨﻪ ﺗﺴﻊ ﺳﻨﻴﻦ ﻗﻤﺮﻳﺔ۔* (اسنی المطالب:٩٩/١) *علامہ عمرانی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ﻭﺃﻣﺎ اﻟﺴﻦ ﻓﻬﻮ ﺃﻥ ﻳﺴﺘﻜﻤﻞ اﻟﺮﺟﻞ ﺃﻭ اﻟﻤﺮﺃﺓ ﺧﻤﺲ ﻋﺸﺮﺓ ﺳﻨﺔ.* (البیان:٢١٩/٦)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0882
*مصحف کے ساتھ اور بغیر مصحف کے لیٹ کر قرآن مجید پڑھنے کا کیا حکم ہے؟*
*فقہاء نے تلاوت قرآن کے آداب بیان کیے ہیں اس میں ایک ادب قبلہ رخ ہوکر اور خشوع و خضوع کے ساتھ کلام پاک کی تلاوت کی جائے لھذا بلا ضرورت ٹیک لگاکر اور لیٹ کر قرآن مجید کی تلاوت کرنے سے پرہیز کرنا چاہیے اگر کوئی عذر کی وجہ سے ٹیک لگا کر یا لیٹ کر قرآن مجید کی تلاوت کرے تو کوئی حرج نہیں ہے لیکن اس میں قرآن مجید مصحف کا احترام ملحوظ رکھنا ضروری ہے اگر بےحرمتی کا خدشہ ہو تو لیٹ کر قرآن مجید کی تلاوت کرنا جائز نہیں ہے*
*علامہ نووی رحمة الله علیه فرماتے ہیں: يستحب للقاري في غير الصلاة يستقبل القبلة…. ويجلس متخشعا بسكينة ووقار.* التبيان في آداب حملة القران:٧٦ *الفصل: أجمع المسلمون على وجوب صيانة المصحف واحترامه. ﺇﺫا ﺃﻫﺎﻥ اﻟﻤﺴﻠﻢ ﻣﺼﺤﻔﺎ ﻣﺘﻌﻤﺪا ﻣﺨﺘﺎﺭا ﻳﻜﻮﻥ ﻣﺮﺗﺪا ﻭﻳﻘﺎﻡ ﻋﻠﻴﻪ ﺣﺪ اﻟﺮﺩﺓ. ﻭﻗﺪ اﺗﻔﻖ اﻟﻔﻘﻬﺎء ﻋﻠﻰ ﺫﻟﻚ.* التبيان في آداب حملة القران:١٦٤ *علامہ نووی رحمة الله علیہ فرماتے ہیں: ﻛﺎﻥ ﺭﺳﻮﻝ اﻟﻠﻪ ﺻﻠﻰ اﻟﻠﻪ ﻋﻠﻴﻪ ﻭﺳﻠﻢ ﻳﺘﻜﺊ ﻓﻲ ﺣﺠﺮﻱ ﻭﺃﻧﺎ ﺣﺎﺋﺾ ﻓﻴﻘﺮﺃ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﻓﻴﻪ ﺟﻮاﺯ ﻗﺮاءﺓ اﻟﻘﺮﺁﻥ ﻣﻀﻄﺠﻌﺎ ﻭﻣﺘﻜﺌﺎ ﻋﻠﻰ اﻟﺤﺎﺋض۔*
الموسوعة الفقهيةالكوتيه: ٣٨/٢١ قال الشيخ ابن عثيمين رحمه الله في فتاوى نور على درب: لا حرج في ذلك فقد (كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يقرأ القرآن وهو متكئ في حَجِْر عائشة رضي الله عنها وهي حائض) فكذلك الإنسان إذا اضطجع في فراشه وأخذ المصحف وصار يتلو القرآن فلا حرج عليه في ذلك۔ فتاوى نور على الدرب لابن عثيمين . ج ٤٢ / ٥
فقہ شافعی سوال نمبر / 0881
*نو سال سے قبل اگر کسی لڑکے کو منی جیسا مادہ نکل آئے تو کیا اسے بالغ شمار کیا جائے گا؟*
*اگر کسی لڑکے کو اسلامی تاریخ کے اعتبار سے نو سال سے پہلے ہی منی جیسا مادہ نکل آئے تو شرعا اسے نابالغ شمار کیا جائے گا۔ چونکہ قمری اعتبار سے مرد کی بلوغت کے لیے کم از کم نو سال کا مکمل ہونا ضروری ہے*
*قال الدميري رحمه الله في النجم الوهاج: قال: (ووقت إمكانه: استكمال تسع سنين) في الذكور والإناث؛ للاستقراء، ولا عبرة بما يخرج قبل ذلك.* (النجم الوهاج: ٤ / ٤٠٠) *قال البجيرمي رحمه الله في حاشية البجيرمي على شرح المنهج: وَبُلُوغٌ يَحْصُلُ إمَّا (بِكَمَالِ خَمْسِ عَشْرَةَ سَنَةً) قَمَرِيَّةً تَحْدِيدِيَّةً… أَوْ إمْنَاءٍ…..(وَإِمْكَانُهُ) أَيْ وَقْتَ إمْكَانِ الْإِمْنَاءِ (كَمَالُ تِسْعِ سِنِينَ) قَمَرِيَّةٍ.* (حاشية البجيرمي على شرح المنهج :٢ / ٤٣٣) *قال الإمام الرملي رحمه الله في نهاية المحتاج: إمْكَانِ إنْزَالِ الصَّبِيِّ لَا بُدَّ فِيهِ مِنْ تَمَامِ التَّاسِعَةِ.* (نهاية المحتاج:١ / ٣٢٥)
مولانا جعفر فقیہ صاحب ندوی
مولانا ابوبکر صدیق خطیبی صاحب ندوی
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی