درس حدیث نمبر 0250
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0478
میت کی وصیت کے بغیر میت کی طرف سے نفل اور فرض حج ادا کرنے کا کیا حکم ہے؟
جواب :۔اگر کوئی شخص اس حال میں مرجائے کہ اس پر فرض حج باقی تھا تو اس کے ورثہ اس کی طرف سے حج کا فریضہ ادا کرینگے اگرچہ مرنے والے نے وصیت کی ہو یا نہیں کی ہو، البتہ نفل حج میت کی وصیت کے بغیر کرنا جائز نہیں ہے۔
(وَأَمَّا) الْحَجَّةُ الْوَاجِبَةُ بِقَضَاءٍ أَوْ نَذْرٍ فَيَجُوزُ النِّيَابَةُ فِيهَا عَنْ الْمَيِّتِ وَالْمَعْضُوبِ بِلَا خِلَافٍ
أراد إنسان أن يحج عن الميت حجا ليس بواجب عليه ولم يوص به..
قال الشيخ أبو حامد: فلا يختلف المذهب: أنه لا يجوز النيابة في هذه المسائل (المجموع ٨١/٧) (ترمذی /٩٢٩) *بحر المذھب ٢٤٩/٣ (۳)البيان ٤٦/٤ *الحاوي الكبير ١٧/٤
Fiqhe ShafiQuestion no:0478
How about performing obligatory (fardh) or nifl hajj on behalf of the deceased without the will of deceased one?
Ans; If an individual dies in a state where he had fardh hajj pending on him then his offspring shall perform the hajj on behalf of him even if the deceased person have not make the will for it.. However performing nifl hajj without the will of the deceased person is not permissible..
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0618
اگر بائع (بیچنےوالا) سامان بیچتے وقت مشتری(خریدنے والا) سے یہ کہے کہ یہ چیز میں تم کو بیچ رہا ہوں اس شرط پر کہ تم مجھے اپنی فلاں چیز بیچ دو تو اس طرح کی خرید و فروخت کا کیا مسئلہ حکم ہے؟
جواب : اگر خرید و فروخت کرتے وقت کوئی ایسی شرط رکھی جائی جس کا خرید و فروخت سے تعلق نہ ہو(مثلا: بیچنے والا خریدنے والے سے یہ کہے میں تمھیں یہ چیز بیچ رہاہوں بشرط یہ کہ تم مجھے اپنی فلاں چیز بیچ دو گی یا اس طرح کی کوئی اور شرط رکھے) تو ایسا کرنا درست نہیں ہے
وان شرط في البيع شرطا يقتضيه العقد كالتسليم …………..لم يفسد العقد وان شرط ما فيه مصلحة للعاقد كخيار الثلاث ……لم يفسد العقد ……
وان شرط ما سوى ذلك مما ينافي موجب العقد وليس فيه مصلحة كبيع الدابة بشرط أن يركبها أو بيع الدار بشرط أن يسكنها شهرا لم يصح العقد…. (التنبيه في الفقه الشافعي ص 90)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة النحل– آيت نمبر 056-057-058-059-060 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0617
وضو کرتے وقت وضو ٹوٹ جائے تو جن اعضاء کا وضو ہوچکا ہو ان کو دوبارہ دھونا ضروری ہوگا یا بقیہ وضو مکمل کرے گا؟
جواب:۔ وضو کے دوران اگر کسی کو حدث لاحق ہوجائے یعنی وضو ٹوٹ جائے تو وضو کو شروع سے کرنا ضروری ہے بقیہ اعضاء کو دھونے سے وضو مکمل نہیں ہوگا۔
واذا وضأ الرجل وجهه ويديه ثم احدث إستأنف الوضوء۔ (كتاب الام ٦٩/٢) طهارة بعض الاعضاء إذا انتقضت هل ينتقض الباقي؟ ان قلنا ينتقض إستأنف الوضوء۔ (المجموع ٥٨٩/١)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
سورة النحل– آيت نمبر 051-052-053-054-055 (مولانا عبدالباری ندوی رحمہ اللہ)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0616
اگر کوئی نماز سے پہلے مسواک کرنا بھول جائے اور دوران نماز یاد آجاۓ تو کیا وہ مسواک کرسکتا ہے؟
جواب :۔اگر کوئی شخص نماز سے پہلے مسواک کرنا بھول جائے اور دوران نماز یاد آنے پر مسواک کرنا اس شرط کے ساتھ جائز ہے کہ نماز میں عمل کثیر یعنی زیادہ حرکت نہ ہو۔
لو تركه اولها سن له تداركه اثنائها بفعل قليل كما يسن له دفع المار بين يديه.(تحفة المحتاج:1/77)
مولانا محمد عرفان یس یم ندوی صاحب (وائیس آف بھٹكلیس)
اردو ترجمہ شفقت الرحمٰن
عنوان: بھلائی کا بدلہ بھلائی اور افغانستان میں امن
محکمہ شرعیہ خلیفہ جماعت المسلمین بھٹکل حج تربیتی کیمپ میں دیا ہوا بیان
مولانا یاسین نائطے صاحب ندوی
محکمہ شرعیہ خلیفہ جماعت المسلمین بھٹکل حج تربیتی کیمپ میں دیا ہوا بیان
مولانا خواجہ معین الدین اکرمی صاحب مدنی