بھٹكل جامع مسجد عربی خطبہ – 31-07-2020
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
فقہ شافعی سوال نمبر / 0878
*اگر کوئی شخص بیرون ملک مقیم ہو اور اسکی جانب سے ہندوستان میں قربانی کی جارہی ہو تو بیرون کی عید کا اعتبار کرتے ہوئےقربانی عید سے ایک روز پہلےکی جائے گی یا ہندوستان کی عید کے روز کرنا ہوگا؟*
اگر کوئی شخص بیرون ملک ہو اور اس کی جانب سے ہندوستان میں قربانی کی جا رہی ہو تو قربانی کا وقت اور دن اس جگہ کے اعتبار سے ہوگا جہاں قربانی ہورہی ہے یعنی ھندوستان کی تاریخ اور ھندوستان میں دن کا وقت ہونا ضروری ہے
*علامه رملي رحمة الله فرماتے ہیں: ﺑﺄﻥ اﻟﺘﻀﺤﻴﺔ ﻣﻦ ﺗﻮاﺑﻊ اﻟﻌﻴﺪ.* (نھایة المحتاج:١٣٨/٨) *علامہ نووی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ﻣﺤﻞ اﻟﺘﻀﺤﻴﺔ ﻣﻮﺿﻊ اﻟﻤﻀﺤﻲ ﺳﻮاء ﻛﺎﻥ ﺑﻠﺪﻩ ﺃﻭ ﻣﻮﺿﻌﻪ ﻣﻦ اﻟﺴﻔﺮ۔* (المجموع:٤٢٥/٨) *علامہ البکری الدمیاطی رحمة الله عليه فرماتے ہیں: ﻭﻳﺠﻮﺯ اﻟﺘﻮﻛﻴﻞ ﻓﻲ ﺷﺮاء اﻷﺿﺤﻴﺔ ﻭاﻟﻌﻘﻴﻘﺔ ﻭﻓﻲ ﺫﺑﺤﻬﺎ۔* (اعانة الطالبين:٣٨١/٢)
فقہ شافعی سوال نمبر /0876
*قربانی کے لیے جانوروں کی عمر کا اعتبار ہوگا یا دانتوں کا اعتبار ہوگا؟*
*قربانی کے صحیح ہونے کے لیے جانور کے لیے متعین کردہ عمر کے مطابق ہونا ضروری ہے قربانی کے جانوروں میں دانتوں کا کوئی اعتبار نہیں ہے، بلکہ دانت صرف عمر معلوم کرنے کے لئے بطور علامت کے ہیں، لہذا اگر یقینی طور پر شریعت کی متعین کردہ عمر کے مطابق جانور ہے تو خواہ دانت ہوں یا نہ ہوں قربانی درست ہوگی۔*
*قال الإمام الرملي في نهاية المحتاج: وَشَرْطُ) إجْزَاءِ (إبِلٍ أَنْ تَطْعُنَ) بِضَمِّ الْعَيْنِ…..أَيْ تَشْرُعُ (فِي السَّنَةِ السَّادِسَةِ وَبَقَرٌ وَمَعْزٌ فِي الثَّالِثَةِ وَضَأْنٌ فِي الثَّانِيَةِ) بِالْإِجْمَاعِ .* (نهاية المحتاج:٨ / ١٣٣)
فقہ شافعی سوال نمبر/ 0875
*عرفہ کے روزہ میں کس جگہ کی تاریخ کا اعتبار ہوگا سعودیہ کی یا ہندوستان کی؟*
*ہر شہر والوں کے لئے ان کی رؤیت کا اعتبار ہوگا اور جب کسی شہر میں لوگ چاند دیکھ لیں تو اس کا حکم ان سے دور والے شہر کے لوگوں کے لئے ثابت نہیں ہوگا۔ شہروں کے مختلف ہونے کی وجہ سے مطالع اور مغارب بھی مختلف ہوتے ہیں اور ہر قوم اپنے اپنے مطلع و مغرب کے مخاطب ہوتے ہیں. امام شافعی ؒکے نزدیک مشہور قول کے مطابق قرب وبعد کا مدار اختلاف مطالع پر ہے کہ جن دو مقامات کے طلوع شمس یا طلوع فجر یا طلوع کواکب اور ان کے غروب کے اوقات مختلف ہوں تو اختلاف مطالع مانا جائے گا، اسی طرح چاند کی رؤیت میں ہندوستان اور سعودیہ کے اعتبار سے فرق ہوگا، کیوں کہ ان دونوں ملکوں کے طلوع وغروب میں فرق ہے۔ چاند کے معاملہ میں بھی مقامی رؤیتِ ہلال کمیٹی کے اعلان پر عمل کریں گے، اس اعتبار سے اپنے اپنے علاقے میں چاند کی رویت کے اعتبار سے جس دن نو ذی الحجہ کی تاریخ ہوگی عرفہ کا روزہ اسی دن رکھنا سنت ہے ۔*
*إن أم الفضل بنت الحارث بعثتہ إلی معاویۃ بالشام قال: فقدمت الشام فقضیت حاجتھا واستھل علی رمضان وأنا بالشام فرأیت الھلال لیلۃ الجمعۃ ثم قدمت المدینۃ فی آخر الشھر فسألنی عبد اللہ بن عباسؓ ثم ذکر الھلال فقال متی رأیتم الھلال؟ فقلت: رأیناہ لیلۃ الجمعۃ فقال آنت رأیتہ؟ فقلت: نعم ورآہ الناس وصاموا وصام معاویۃ، فقال: لکن رأیناہ لیلۃ السبت فلا نصوم حتی نکمل ثلاثین أو نراہ، فقلت: أولاتکتفی برؤیۃ معاویۃ وصیامہ فقال: لا، ھٰکذا امرنا رسول اللہﷺ* (صحیح مسلم:۲۵۲۸ *امام نوویؒ فرماتے ہیں: باب بیان أن لکل بلد رؤیتھم وأنھم إذا رأوا الھلال ببلد لا یثبت حکمہ لما بعد عنھم* *امام نووی ؒلأن الطوالع والغوارب قد تختلف لاختلاف البلدان وإنما خوطب کل قوم بمطلعھم ومغربھم ألا تری الفجر قد یتقدم طلوعہ فی بلد ویتأخر فی بلد آخر؟ وکذلک الشمس قد یتعجل غروبھا فی بلد ویتأخر فی آخر ثم کل بلد یعتبر طلوع فجرہ وغروب شمسہ فی حق أھلہ فکذلک الھلال* (المجموع: ۶؍۲۷۵)