اتوار _19 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0869
*جانور کو ذبح کرتے وقت پوری گردن کٹ جائے اور جسم سے الگ ہوجائے تو کیا ذبیحہ درست ہوگا یا نہیں؟*
*جانور ذبح کرتے وقت اس بات خیال رکھیں کہ گردن پوری طرح جسم سے الگ نہ ہوجائے ہاں اگر چھری زیادہ تیز ہونے کی وجہ سے اچانک پوری گردن کٹ جائے تو اس صورت میں ذبیحہ حلال ہوگا البتہ عمدا ایسا کرنا مکروہ ہے۔*
*علامه ماوردي رحمه الله علیہ فرماتےہیں: ﻗﺎﻝ اﻟﻤﺎﻭﺭﺩﻱ ﻭﻫﺬا ﺻﺤﻴﺢ ﻳﻜﺮﻩ ﺇﺫا ﻗﻄﻊ اﻟﺤﻠﻘﻮﻡ ﻭاﻟﻤﺮﻱء ﻭاﻟﻮﺩﺟﻴﻦ ﺃﻥ ﻳﺰﻳﺪ ﻓﻲ اﻟﺬﺑﺢ ﻟﻮﻗﻮﻉ اﻟﺬﻛﺎﺓ ﺑﻬﺎ ﻭﺇﺯﻫﺎﻕ ﺭﻭﺣﻪ ﺑﻤﺎ ﺯاﺩ ﻋﻠﻴﻪ ﻓﺈﻥ ﺯاﺩ ﻓﻲ اﻟﺬﺑﺢ ﺣﺘﻰ ﻗﻄﻊ ﺭﺃﺳﻬﺎ ﻟﻢ ﺗﺤﺮﻡ۔* (الحاوي الكبير:٩٨/١٥) *علامہ رملی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: وَيُكْرَهُ لَهُ إبَانَةُ رَأْسِهَا حَالًا وَزِيَادَةُ الْقَطْعِ وَكَسْرُ الْعُنُقِ وَقَطْعُ عُضْوٍ مِنْهَا وَتَحْرِيكُهَا وَنَقْلُهَا حَتَّى تَخْرُجَ رُوحُهَا۔* (نهاية المحتاج:١١٨/٨)
اتوار _19 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0868
*استنجاء کے لیے روئی کا استعمال کرنا کیسا ہے ؟*
*اگر کوئی شخص استنجاء کے لیے کپاس یا روئی کا استعمال کرے تو استنجا درست نہیں ہوگا اسلئے کہ کپاس میں قالعیت یعنی جذب کرنے والی صفت نہیں پائی جاتی ہے اور استنجاء حاصل کرنے والی چیز کا جامد یعنی سخت اور قالع یعنی جزب کرنے والی ہونا ضروری ہے نیز استنجاء حاصل کرنے والی چیز کا محترم بھی نہ ہونا ضروری ہے۔*
*قال الماوردي في الحاوي الكبير: وَإِنْ عُدِمَ الْوَصْفُ الثَّانِي فَكَانَ غَيْرَ مُزِيلٍ لَمْ يَجُزِ الِاسْتِنْجَاءُ بِهِ لِأَنَّ الْمَقْصُودَ بِالِاسْتِنْجَاءِ هُوَ الْإِزَالَةُ، وَمَا لَا يُزِيلُ عَلَى أَرْبَعَةِ أَضْرُبٍ: أَحَدُهَا: مَا لَا يُزِيلُ لِنُعُومَتِهِ كَالْخَزِّ وَالْحَرِيرِ وَالْقُطْنِ.* (الحاوي الكبير:١ /١٦٧)
اتوار _19 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
فقہ شافعی سوال نمبر / 0867
اگر کسی جانور کو پیدائشی طور پر خصتین نہ ہوں یا خصی کیا گیا ہو تو اس جانور کی قربانی کا کیا حکم ہے؟
خصی کیے ہوئے جانور کی قربانی درست ہے۔ اگر کوئی جانور پیدائشی طور پر خصی کیا ہوا ہو یا اسے بعد میں خصی کیا گیا ہو تو دونوں صورتوں میں اس جانور کی قربانی درست ہوگی۔ اگر جانور کی خصی کرنا عیب ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے جانور کی قربانی کرنے کو منع فرماتے۔
علامہ ماوردی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ﻓﻼ ﻳﺠﺰﺉ ﻣﻨﻬﺎ ﺇﻻ اﻟﺴﻠﻴﻢ ﻣﻦ ﻋﻴﻮﺏ اﻟﻀﺤﺎﻳﺎ ﻭﻳﺠﺰ اﻟﺨﺼﻲ ﻓﻴﻬﺎ ﻹﺟﺰاﺋﻪ ﻓﻲ اﻟﻀﺤﺎﻳﺎ۔
(الحاوی الکبیر:٤٨٦/١٥)
جمعہ _17 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا اقبال نائطے صاحب ندوی
جمعہ _17 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالاحد فكردے ندوی صاحب
جمعہ _17 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا زكریا برماور ندوی صاحب
جمعہ _17 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا انصار خطیب صاحب مدنی
جمعہ _17 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا خواجہ معین الدین اكرمی صاحب مدنی
جمعہ _17 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عبدالعلیم خطیب صاحب ندوی
جمعہ _17 _جولائی _2020AH / Fazalurahman Shabandari / 0 Comments
مولانا عرفان یس یم صاحب ندوی