درس حدیث نمبر 0444
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0832
کاروبار میں خریدو فروخت کے وقت بائع یعنی بیچنے والا اگر یہ شرط لگائے (ڈئیل) ختم کرنے کی صورت میں ایڈوانس رقم واپس نہیں ملے گی، کیا اس طرح کی شرط کے ساتھ لین دین کرنا درست ہے؟
بائع یعنی بیچنے والا یہ کہے کہ ڈئیل (لین دین) ختم کرنے کی صورت میں ایڈوانس رقم واپس نہیں ملے گی تو شرعا اس طرح شرط رکھ کر خرید و فروخت کرنا درست نہیں ہے۔
بيع العُرْبون: وهو أن يبيعه شيئاً على أن يعطيه جزءاً من الثمن، يكون هبة للبائع إن لم يتم البيع، وإن تم البيع حُسب من الثمن. فهو منهي عنه وباطل لأن فيه شرطاً فاسداً، وهو الهبة للبائع. (الفقه المنهجي على مذهب الإمام الشافعي:٣٤/٣) الْعُرْبُونِ) بِفَتْحِ الْعَيْنِ وَالرَّاءِ وَبِضَمِّ الْعَيْنِ وَإِسْكَانِ الرَّاءِ لِمَا رَوَى أَبُو دَاوُد «أَنَّهُ – صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ – نَهَى عَنْ بَيْعِ الْعُرْبَانِ» أَيْ بِضَمِّ الْعَيْنِ وَإِسْكَانِ الرَّاءِ لُغَةٌ ثَالِثَةٌ (وَهُوَ أَنْ يُعْطِيَهُ بَعْضَ الثَّمَنِ فَإِنْ فُسِخَ كَانَ هِبَةً) عِبَارَةُ الْأَصْلِ وَهُوَ أَنْ يَشْتَرِيَ سِلْعَةً مِنْ غَيْرِهِ وَيَدْفَعَ إلَيْهِ دَرَاهِمَ لِتَكُونَ مِنْ الثَّمَنِ إنْ رَضِيَ السِّلْعَةَ وَإِلَّا فَهِبَةٌ۔ (أسنى المطالب في شرح روض الطالب:٣١/٢)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0831
*بعض ملکوں میں کرونا وائرس کی وجہ سے مؤذن حضرات اذان میں ”الا صلوا في رحالكم“ کہتے ہیں اس طرح کہنے کا کیا حکم ہے؟ *
جن اعذار (جیسے خوف، مرض، تیز بارش، کیچڑ وغیرہ) کی وجہ سے جماعت کو ترک کرنے کی اجازت ہے ایسے موقع پر اذان کے بعد ”الا صلوا فی رحالکم“ کہنا مستحب ہے۔ اس وقت بعض ملکوں میں جس طرح اذان میں “الا صلوا فی رحالکم“کے کلمات کہنا شروع کیا ہے تو شرعا ان الفاظ کا اذان میں کہنا جائز ہے البتہ اذان مکمل ہونے کے بعد کہنا مستحب ہے تاکہ اذان کا وزن برقرار رہے۔ اگر کوئی حی علی الصلاہ اور حی علی الفلاح کے بعد کہے تب بھی جائز ہے۔
قال المبارك الفوري رحمة الله عليه: ألا صلوا في رحالكم في نفس الأذان، وفي حديث ابن عمر أنه قال في آخر ندائه، والأمران جائزان نص عليهما الشافعي رحمه الله تعالى في الأم في كتاب الأذان، وتابعه جمهور أصحابنا في ذلك، فيجوز بعد الأذان، وفي أثنائه؛ لثبوت السنة فيهما، لكن قوله بعده أحسن؛ ليبقى نظم الأذان على وضعه۔ (تحفة الاحوذي/٦٩٧) قال النووي رحمة الله عليه : قال الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى فِي آخِرِ أَبْوَابِ الْأَذَانِ إذَا كَانَتْ لَيْلَةً مَطِيرَةً أَوْ ذَاتَ رِيحٍ وَظُلْمَةٍ يُسْتَحَبُّ أَنْ يَقُولَ الْمُؤَذِّنُ إذَا فَرَغَ مِنْ أَذَانِهِ أَلَا صَلُّوا في رحالكم قال فَإِنْ قَالَهُ فِي أَثْنَاءِ الْأَذَانِ بَعْدَ الْحَيْعَلَةِ فَلَا بَأْسَ هَذَا نَصُّهُ. (المجموع شرح المهذب:١٢٩/٣)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0830
*اگر کوئی نکاح میں ایجاب و قبول عربی زبان میں کرے جبکہ دولھا عربی زبان نہ جانتا ہو تو اس کا کیا مسئلہ ہے؟
نکاح میں ایجاب و قبول ہی اصل ہے اس کے بغیر نکاح ہی نہیں ہوتا اگر دولھا یا ولی یا دونوں میں سے کوئی ایک عربی نہ جانتا ہو لیکن ایجاب و قبول میں پڑھے جانے والے الفاظ اور مفہوم معلوم ہو تو نکاح منعقد ہوگا اگر اتنا بھی نہ جانتا ہو تو ایجاب و قبول درست نہیں۔
و إن كان أحدهما يحسن العربية ولا يحسن العجمية، و الآخر يحسن العجمية و لا يحسن العربية، و قلنا: يصح العقد بالعجمية- صحّ العقد بينهما بشرط أن يفهم القابل أن الولي أوجب له النكاح؛ لأنه إذا لم يفهم، لا يصح أن يقبل.. (المجموع:٢٣٥/١٩) و إذا صححناه فذاك إذا فهم كل منهما كلام الآخر. فإن لم يفهم فأخبره ثقة عن معنى لفظه….. (روضة الطالبين:٣٨٢/٥)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (سلطانی مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0829
نماز کے دوران دانت سے کچھ کھائی ہوئی چیز نکل آئے اور وہ نگل لے تو اس نماز کا کیا حکم ہے؟
نماز میں کچھ کھانے پینے سے نماز باطل ہوجاتی ہے۔ اگر دوران نماز کھایا ہوا کچھ دانتوں سے نکل جائے تو اس کو نگلنے سے روکنا ضروری ہے، اگر دانتوں سے نکل کر حلق میں اتر جائے تو نماز باطل ہوجائے گی۔ البتہ غیر ارادی طور پر اندر چلا جائے تو معاف ہے۔ مگر نماز سے پہلے منھ کو اچھی طرح صاف کرنا یا کلی (خلال کی ضرورت ہو تو خلال) کرنا بہتر ہے۔ قال الإمام الجرداني رحمة الله عليه: لو جرى ريقه بالطعام الذي بين أسنانه، ولم يمكنه تمييزه ومجه، بل نزل إلى جوفه قهرا عنه لم يضر كما في الصوم . (فتح العلام:٢ /٣٦٤) قال العلامة الدمياطي رحمه الله :أو جرى ريقه بطعام بين أسنانه وقد عجز عن تمييزه ومجه، فلا يضر للعذر۔ (قوله أو جرى الخ) معطوف على نزلت ، أي وكأن جرى ريقه بالطعام الذي بين أسنانه إلى جوفه قهرا عنه.قوله: وقد عجز عن تمييزه) أي تمييز الطعام من الريق، أو المراد به فصله من فمه. وقوله: ومجه عطفه على ما قبله مغاير على الأول ومرادف على الثاني. وخرج بذلك ما إذا أمكنه ذلك وبلعه فإنه يضر (إعانة الطالبين :١ / ٢٥٩ – ٢٦٠)
مولانا صادق اكرمی صاحب ندوی (تنظیم مسجد)
فقہ شافعی سوال نمبر / 0828
کیا سلس البول والے شخص کا امامت کرنا اور اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا صحیح ہے؟
جس طرح سلس البول (یعنی پیشاب کے قطرے جھڑنے) والے شخص کو نماز پڑھنے کی گنجائش ہے۔ اسی طرح ایسے شخص کا امام بن کر نماز پڑھانا اور اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا دونوں درست ہے۔
(وصح اقتداء سليم بسلس) للبول أو المذي أو الضراط، وقائم بقاعد، ومتوضئ بمتيمم لا تلزمه الاعادة۔ (اعانة الطالبين:٥٥/٢) واما صَلَاةُ الطَّاهِرَةِ خَلْفَ مُسْتَحَاضَةٍ غَيْرِ مُتَحَيِّرَةٍ وَصَلَاةُ سَلِيمٍ خَلْفَ سَلِسِ الْبَوْلِ أَوْ الْمَذْيِ وَمَنْ بِهِ جُرْحٌ سَائِلٌ فَفِيهَا وَجْهَانِ مَشْهُورَانِ (الصَّحِيحُ) الصِّحَّةُ صَحَّحَهُ إمَامُ الْحَرَمَيْنِ وَالْغَزَالِيُّ فِي الْبَسِيطِ وَقَطَعَ بِهِ فِي الْوَسِيطِ۔ (المجموع:٢٦٣/٤) وَالْقَوْل الثَّانِي، وَهُوَ قَوْل الْمَالِكِيَّةِ فِي الْمَشْهُورِ وَالشَّافِعِيَّةِ فِي الأَْصَحِّ: الْجَوَازُ لِصِحَّةِ صَلاَتِهِمْ مِنْ غَيْرِ إِعَادَةٍ، وَلأَِنَّهُ إِذَا عُفِيَ عَنِ الأَْعْذَارِ فِي حَقِّ صَاحِبِهَا عُفِيَ عَنْهَا فِي حَقِّ غَيْرِهِ وَلأَِنَّ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ كَانَ إِمَامًا وَأَخْبَرَ أَنَّهُ يَجِدُ ذَلِكَ (أَيْ سَلَسَ الْمَذْيِ) وَلاَ ينصرف. (الموسوعة الفقهية:١٩٠/٢٥)